پہلا خواب نامہ۔۔ دوستی کی طرف پہلا قدم


درویشوں کا ڈیرا سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے دو مسافروں رابعہ اور درویش کے خواب ناموں کا وہ سلسلہ ہے جو ماہرِ نفسیات ڈاکٹر خالد سہیل اور افسانہ نگار رابعہ الربا کا انسان دوستی‘ محبت‘ ادب‘ روحانیات اور نفسیات کے موضوعات پر ایک ایسا سنجیدہ مکالمہ ہے جو قارئین کے ذہنوں میں آگہی کی نئی کھڑکیاں کھولے گا اور انہیں زندگی کے بارے میں نئے انداز سے سوچنے کی دعوت دے گا۔

٭٭٭     ٭٭٭

30 اپریل 2018

محترمہ و مکرمہ و معظمہ جنابہ رابعہ صاحبہ!

سب سے پہلے تو میں آپ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ’ہم سب‘ پر میری تخلیقات پڑھ کر مجھے فیس بک فرینڈ کی ریکویسٹ بھیجی‘ پھر اپنی افسانوں کی اینتھالوجی کے لیے میرا افسانہ اور تصویر مانگی اور پھر اپنے چند افسانے بھیجے۔

اب میں آپ سے ایک ادبی اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔

جب میں اپنے ماضی پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اپنے ادبی سفر میں میری دو طرح کے ادیبوں‘ شاعروں اور دانشوروں سے ملاقات ہوئی ہے۔ پہلا گروہ وہ ہے جن سے میرا مکالمہ ہو سکتا ہے اور اگر مکالمہ ہو سکتا ہے تو دوستی بھی ہو سکتی ہے۔

دوسرا گروہ وہ ہے جن سے میرا مکالمہ نہیں ہو سکتا اور اگر مکالمہ نہیں ہو سکتا تو دوستی بھی نہیں ہو سکتی۔ ان کے ساتھ گفتگو دو مونولاگ پر مشتمل ہوتی ہے ڈائلاگ نہیں ہو پاتا۔ وہ دو مونولاگ دریا کے دو کناروں کی طرح ہوتے ہیں جن پر ابلاغ کا پل تعمیر نہیں ہو پاتا اور برسوں کی ملاقاتوں کے بعد بھی اجنبیت برقرار رہتی ہے۔

آپ کے افسانے پڑھنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ آپ سے مکالمہ ہو سکتا ہے اور اگر مکالمہ ہو سکتا ہے تو امید ہے کہ آپ سے دوستی بھی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے آپ کے افسانوں نے مجھے یہ خط لکھنے کی تحریک دی تا کہ مکالمے کا اور دوستی کے ہوم ورک کا آغاز کر سکوں۔ اگر آپ ٹورانٹو میں ہوتیں تو میں آپ کو ڈنر اور ڈائلاگ کے لیے بلاتا جیسا کہ میں بہت سے دیسی اور پردیسی ادبی دوستوں کو بلاتا رہا ہوں۔ میرے دوست مجھے بہت عزیز ہیں۔ وہ میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں کیونکہ وہ مجھے انسپائر کرتے ہیں۔۔ مجھے ان کی دوستی پر بڑا فخر ہے۔

آپ کے افسانے پڑھ کر میرا پہلا تاثر یہ ہے کہ آپ جدید انسان کی‘ جس میں جدید عورت بھی شامل ہے اور جدید مرد بھی‘ نفسیات سے بخوبی واقف ہیں۔اسی لیے آپ جدید مرد اور عورت کے گنجلک اور گھمبیر رشتوں کی نفسیات سے بھی واقف ہیں بلکہ اس کے تخلیقی اظہار پر بھی قدرت رکھتی ہیں۔ آپ ان رشتوں کے فنی اظہار میں نیکی بدی اور گناہ و ثواب کے جھگڑوں میں نہیں الجھتیں۔ میرے لیے آپ کے افسانے پڑھنا ایک خوشگوار حیرت کی کیفیت لیے ہوئے تھا۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ آپ کو وہ آگہی‘ وہ شعور اور وہ بصیرت کیسے حاصل ہوئے؟ میں تو ایک طویل عرصے سے کینیڈا میں رہ رہا ہوں۔میں نے اپنی محبتوں‘ رقابتوں‘ رفاقتوں اور اپنے مریضوں کی کہانیوں سے انسانی رشتوں کی اذیتون اور راحتوں کے بہت سے راز سیکھے ہں لیکن آپ نے وہ راز کیسے اور کہاں سے سیکھ لیے؟

جدید مرد اور عورت کے رومانوی رشتوں کے نفسیاتی راز اور ان کا تخلیقی اظہار آپ کے افسانوں ’سویٹ ہارٹ‘ اور ’کیموفلاج‘ میں نمایاں ہے۔ ان دونوں افسانوں میں آپ نے نہ صرف مرد اور عورت کے رشتوں کو مختلف شوخ رنگوں سے پینٹ کیا ہے بلکہ ان رومانوی رشتوں کے سماجی رشتوں سے تعلق کو بھی ہائی لائٹ کیا ہے۔ یہ فن کسی ادبی کرامت سے کم نہیں جس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں اور آپ کو ایسے افسانے لکھنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ بخوبی جانتی ہیں کہ اردو کے اکثر قاری‘ ادیب اور نقاد تنقید میں سخاوت اور تحسین میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ وہ ادبی شہہ پاروں کو بھی مذہبی اور اخلاقی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ فنونِ لطیفہ کی اپنی کسوٹی ہوتی ہے۔۔

آپ کے افسانوں میں مرد اور عورت کے رشتوں کی نفسیات کی عکاسی ہی نہیں‘ خاندانی رشتوں کی محبت‘،معصومیت اور معنویت کی عکاسی بھی ہے جس کی ایک مثال ’درختوں والی گلی‘ ہے۔آپ کا یہ جملہ مجھے بہت پسند آیا

’بیٹا! عورت تھک جاتی ہے ماں نہیں تھکتی‘

ڈیر رابعہ! آپ کے ان تین افسانوں کے کرداروں سے میں نےRELATE بھی کیا ہے اور IDENTIFY بھی۔میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر ان کی صداقت کی گواہی دے سکتا ہوں۔ اسی لیے میں نے محسوس کیا کہ آپ سے میرا مکالمہ بھی ہو سکتا ہے اور دوستی بھی۔ اور یہ خط اسی مکالمے اور دوستی کی طرف پہلا قدم ہے۔ اگر یہ خط آپ کو بھی خط لکھنے پر انسپائر کرے تو خطوط اور دوستی کا سلسلہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

آپ کے افسانوں کا مداح۔۔۔خالد سہیل


٭٭٭  ٭٭٭

دوسرا خواب نامہ۔۔خوشگوار حیرت

یکم مئی 2018
یہ خط میرے لئے خوش گوار حیرت ہے. اگرچہ مجھے محسوس ہونے لگا ہے کہ میری ساری حیرتوں کا سفر مجھی پہ ہی ختم ہو چکا ہے۔

اس دور میں کسی کی تحریر کو پڑھنا.یعنی اپنا وقت کسی کو دینا بہت اہم بات ہے

میں نے خالد سہیل کی تحریریں یونیورسٹی کے قالین پہ بیٹھ کے پڑھی تھیں.نام یادداشت میں موجود تھا. سفر اتنا مختصر ہو گا کہ’’ ہم سب،، کے پلیٹ فارم پہ دوادبی مسافر یوں مل جائیں گے.اندازہ نہیں تھا. مگراتنا ضرور ہے کہ مشاہدہ زیست نے یہ سمجھا دیا ہے کہ اس کائنات میں کچھ بھی نا ممکن نہیں.
مجھے بھی اچھا لگے گا، اگر دونوں تخلیق کار اس ادبی ڈائلاگ کو جاری رکھ سکے تو۔ کیونکہ وقت کے کچھ اپنے بھی کردار و فیصلے ہوا کرتے ہیں ، جہا ں وہ بندے کی کچھ نہیں چلنے دیتا۔

آپ کے کچھ سوالات ہیں. میں ان کا جواب جلد دینے کی کوشش کروں گی. ابھی بس اتنا ہی کہ زندگی میرے آس پاس اپنے پورے وجود و رنگوں سے رقصاں رہی ہے اور میں اسے عمر بھر اک خود ساختہ قید سے تکتی رہی ہوں.یوں مشاہدات کا سلسلہ جاری رہا. البتہ لفظوں میں یوں اظہار یہ میرے خالق کا تحفہ ہے. جو اس نے رابعہ کوخلوت و تنہائی کے عوض دیا.

یوں لگتا ہے جیسے کردار خود چل کے آتے ہیں اپنا قصہ سناتے ہیں اور چلے جاتے ہیں.

اس لئے میں شاید آمد کے معنی بھی کھو چکی ہوں.

زندگی کے نظریات و معانی بھی بدل چکے ہیں مروجہ پیمانوں پہ کچھ زندگیاں کبھی پوری نہیں اترتیں. جب پوری نہیں اترتیں تو پھر مروجہ پیمانے ان کے لئے سوال بن جاتے ہیں. میں بھی بچپن سے ہی ان سوالوں کے جال میں آ گئی تھی ۔ قوت گویائی کی کمی تھی سو سب کچھ اندر جمع ہوتے ہوتے اک وقت آیا قلم کے ذریعے ڈیلیور ہونے لگا.

البتہ محبت کی خوشبو کو میں بچپن سے ہی بہاروں کی طرح ، برسات کی مانند محسوس کیا ہے۔کیونکہ اکلوتی تھی ۔

یہ بہت بڑا حساس ہے. جو چھپائے نہیں چھپتا. گناہ و ثواب کے معنی تو مروجہ زندگی کی پٹری سے اترے لوگوں میں بدل ہی جاتے ہیں.زندگی کبھی بذات خود گناہ اور کبھی بذات خود ثواب بن جاتی ہے.

رابعہ خالد سہیل کے جملوں کی فین تھی کہ ان میں سکوت و سکون کا مشاہدہ ہوتا ہے. آپ سے بات کر کے محسوس ہوا کہ آپ سچ میں انسانی نفسیات کے ریتلے نم میں پھنسےہوئے مسافر ہیں۔ یہی آپ کااپنے شعبے سے خلوص کا ثبوت ہے.

آپ نے بتایا کہ آپ کوبہت سے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا.تجربہ و مشاہدہ کیا. رابعہ کو بھی زندگی گھیر گھار کے نجانے کیسے اک ان دیکھے سفر پہ لئے پھرتی رہی ہے.اب بھی زندگی کا یہی رویہ ہے.بس رابعہ کے سفر کی نوعیت الگ ہے.

جس میں میں صرف ایک نتیجے پہ پہنچی ہوں کہ یہ جو لہریں انسانوں کے ساتھ سفر کرتی ہیں.یہ بہت سچی ہوتی ہیں. اس کا رزلٹ کبھی غلط نہیں ہوتا. جیسا محسوس ہوتا ہے حقیقت بس اتنی سی ہوتی ہے باقی ہم عقل کے پیمانے پہ تو بہت سے فلسفوں کے موجب بن سکتے ہیں. مگر ان میں حقیقت کا خلوص نہیں ہو تا۔ اور جس میں خلوص کا بیج ہی نہ ہو وہ درخت پھل کب دے سکتا ہے۔

بصد خلوص رابعہ

٭٭٭  ٭٭٭

تیسرا خواب نامہ۔۔۔ رابعہ‘اسلامی متھ کا ایک کردار

3 مئی 2018

ایک درویش کو رابعہ کا سلام

رابعہ کوئی نام نہیں بس اسلامی میتھ کا ایک کردار ہے ۔ ایک ان دیکھاجنون ہے.ایک کٹھن امتحان ہے. اک آزمائش ہے۔اک سوال ہے۔ اک نا قابلِ یقین، یقین ہے۔ اک استعارہ ہے بے لوث محبت کا ۔ آگ اور پانی کی اک جمالی و جلالی تفسیر ہے۔

رات کے اس پہر یا ولی جاگتا ہے یا گناہ گار

اب اس کا فیصلہ موت اور روزمحشر ہی کرتے ہیں.

یہاں خنک تیز ہوائیں،آسمانی بجلی کی آنکھ مچولی،بادلوں کی بارعب آواز، ایک تخلیق کار کو تحریک دے رہی ہیں کہ کاغذ کا سینہ لمس کا منتظر ہے. مگر دن بھر کی حیوانی مشقت کہہ رہی ہے.میں اس قابل نہیں کہ تخلیق کے پھول اس سینے پہ سجا سکوں. آنکھ عاشق کی آنکھ کی طرح اس جدائی سے تر و خشک ہے کہ کبھی کبھی انسان رونا چاہے تو رو بھی نہیں پاتا اس سے بڑی بے بسی کوئی نہیں ہوتی. دل درد سے بھرا ہوا ہے. کہ اس کے پاس درد کے سوا کچھ نہیں بچا.کیونکہ ایک حساس تخلیق کار کا دل ہے۔ جو دوسروں کے درد کو بھی محسوس کر سکتاہے۔

انبیا ء و ولی اللہ پیدائشی ہوتے ہیں. منتخب ہوا کرتے ہیں اس میں کاوش کا م نہیں آتی. یونہی لکھاری بھی پیدائشی ہوتا ہے.آپ کا کیا خیال ہے.؟

اگر یہ کاوش کا کام ہے تو گھنٹوں کاغذ قلم تھامے بیٹھے رہنے سے کچھ کیوں نہیں لکھا جاتا.؟

اور کیو ں چند ہی لمحوں میں کاغذ کا سینہ پیار سے کیوں بھر جاتا ہے؟

رابعہ پہ فطرت اپنے پورے رنگوں سے اثر کرتی ہے.اسی لئے اس کا دل چاہ رہا ہے.آج اس تھکن میں بھی کچھ لکھے کہ تھکا دینے والی زندگی نے پربتوں کے پیچھے سے جھانک کر کہا کہ تخلیق تمہاری زیست ہے. لکھو ورنہ مر جاو گی.

سو اس نے ایک درویش کو خط لکھ دیا کہ وہ انسانیت کی بے ضرر سطح پہ بیٹھا بارش کی دعا کرتا ہے.بارش کہ جو ہر کسی پہ برسے گی تو کسی ان دیکھی طاقت کا پتا دے گی.

اسے درویش کے جواب کا انتظار بھی نہیں کہ اس نے اپنی زندگی سے انتظار کی قلعی کھرچ کر اتار دی ہے. انتظار میں امید ہے.اور امید میں درد.درد رکھنے کی جگہ دل ہے.اب اس میں مزید جگہ نہیں بچی ۔ یو ں لگتا ہے بھر چکا ہے.

نہیں معلوم سات سمندر پار کے درویش کے شہر کا موسم کیسا ہو گا؟. وہاں دن ہو گی یا رات.؟

یہاں صبح کاذب کا سکون و سکوت ہے. ابھی کوئی طاقت سلانے آتی ہے. کوئی طاقت خوابوں میں بہلانے آتی ہے. رابعہ کو اس کے ساتھ جانا ہے
اس لئے اور درویش کو فی امان اللہ کہتی ہے.

اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ درویش کا اور اس کا اللہ ایک ہی ہے یا الگ الگ؟ مگر وہ درویش کو اپنے اللہ کے حوالے کر رہی ہےکیونکہ جینے کے لئے کسی ان دیکھی طاقت کا سہارا ضروری ہے. اور اللہ سے بڑی طاقت کا رابعہ کو ابھی تک علم نہیں ہوا. کیونکہ رابعہ کی دنیا بہت وسیع نہیں ہے۔

رابعہ

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں