ایک سیاسی مباحثہ اور نانی اماں کی نصیحت


رات کے بارہ بج چکے تھے،محفل ابھی تک برخاست نہیں ہوئی تھی ۔گھر کے لان میں ہم پانچوں دوستوں کی گپ شپ جاری تھی کہ اسی دوران نانی اماں آگئی اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔
اسی دوران ہماری ایک دوست فضا وہاں سے اٹھی اور کہنے لگی ،دوستو بہت دیر ہو گئی ہے ،میں چلتی ہو ،ایسا نہ ہو کہ صبح دیر ہو جائے اور میں آفس نہ پہنچ سکوں،کسی صورت بھی میں آفس لیٹ نہیں پہنچنا چاہتی ۔۔۔
فضاکا یہ کہنا تھا کہ جلدی سے جاسم بولا ارے واہ! نوکر ہوگئی ہے اور تم نے ہمیں بتایا بھی نہیں!ٹریٹ تو بنتی ہے ۔ فضا مسکرا کر بولی ٹریٹ ضرور دوں گی ،پہلے ماہ کی تنخواہ تو ملنے دو ۔ سارا نے فضا سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کس میڈیا ادارے میں کام کررہی ہو۔ ۔فضا نے بتایا ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کی میڈیا سیل میں کام کرتی ہے، اس دوران خدیجہ احسان بولی ،اس کا مطلب ہے تم تو سب اندر کی باتیں جانتی ہوگی۔
فضا کی نئی نوکری سے ہم تمام دوست خوش تھے ،لیکن فضا چہرے سے خوش دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ محسوس ہورہا تھا کہ وہ اپنی اس نئی نوکری سے مایوس ہے۔

فضا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ دوستو سنو وہ اس کام سے خوش نہیں ہے. بہت بے چین اور اداس ہے. میڈیا سیل میں کام کرنا مجھے پسند نہیں آرہا۔ اس کام میں صرف جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر روز میں جھوٹ کماتی ہوں اور جھوٹ کھاتی ہوں۔

فضا کی اداسی کی کیفیت دیکھ کر میں بولی کہ کام تو کام ہے اور ویسے اس ملک میں کہاں جھوٹ کا کاروبار نہیں ہورہا ۔اور میڈیا سیل میں جھوٹ کیسا؟
فضا ایک پڑھی لکھی اور باشعور لڑکی ہے، اس کی زبان سے ایسی باتیں عجیب نہیں تھیں!
فکر انگیز انداز میں وہ بولی، یار تم لوگ میری بات سنو! میری بات پر غور کرو کہ ہم کیا ہیں؟ ہم کیسے کام کرتے ہیں اور ہم کہاں جا رہے ہیں؟ کیا کبھی تم لوگوں نے ان سوالات کے بارے میں سوچا؟ وہ بولی تم لوگ یقین نہیں کروگے کہ میں دن رات سوشل میڈیا اور سیاسی جماعت کے جھوٹ کو بیچتی ہوں۔ وہ کام جو انہوں نے کبھی نہیں کئے۔ ان کاموں کا پرچار میں سوشل میڈیا پر کرتی ہوں۔ جس سیاسی جماعت کے میڈیا سیل میں نوکری کر رہی ہوں۔ ایک زمانے میں وہ مجھے تبدیلی کی جماعت لگتی تھی۔ مگر یہاں بھی سب ویسا ہی ہے جیسا باقی سیاسی جماعتوں میں ہورہا ہے؟ 25جولائی آنے والا ہے اور ہم ان تبدیلی والوں کو ووٹ ڈالیں گے اس سے زیادہ ہمیں اس بات پر سوچنا چاہیے کہ ہمیں کیا چاہیئے، ہمیں کس بنیاد پر ووٹ ڈالنا چاہیئے؟

یہ سوال واقعی بہت اہم تھا جس کی وجہ سے ہم سب کی فضا کی طرف متوجہ ہوگئے۔ جاسم جو میڈیکل کے آخری سال میں تھا بولا،ہمارے ملک میں 44 فیصد بچے ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا۔ 31 فیصد اسکولوں میں صرف ایک استاد ہے۔ چالیس فیصد اسکولوں میں بجلی اور انتیس فیصد میں صاف پینے کا پانی تک نہیں ہے۔ میں تو خوش نصیب ہوں کہ میں تعلیم اپنے گھر والوں کی وجہ سے مکمل کر رہا ہوں پر وہ بچے جو میری طرح آنکھوں میں خواب رکھتے ہیں، وہ اپنے خواب پورے کیسے کریں گے؟

اس لئے میں تو تعلیم کو ووٹ دوں گا۔ اس سیاسی جماعت کو ووٹ دوں گا جو تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرے۔ خدیجہ بولی کہ وہ بھی اپنے ووٹ کے حق کو برباد نہیں کرے گی، میں بھی اپنے ملک کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں۔ اس ملک میں اٹھانویں فیصد آبادی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صحت کی سہولتوں کی فہرست میں پاکستان کا شمار بدترین ممالک میں کیا جاتا ہے۔ ہمسایہ ممالک ہم سے بہتر رینکنگ پر ہیں۔ صحت کی بہترین سہولتوں کے حوالے سے سری لنکا بنگلہ دیش ،چین اور بھارت ہم سے کہیں آگے ہیں ۔ا یعنی ہم دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ یہاں تو زیادہ تر مریض اسپتالوں میں سہلولتیں نہ ہونے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ مائیں سڑکوں پر اپنے بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ اس لئے میں تو اپنا ووٹ صحت کو دوں گی۔

اس دلچسپ گفتگو میں سارا بھی کود پڑی۔ اس میں ایک منفرد بات یہ بھی تھی کہ ہم سب ایک ہی ساتھ پہلی بار ووٹ کاسٹ کرنے جارہے تھے۔ سارا کیونکہ بہت عرصہ امریکہ میں رہی ہے اور وہاں تعلیم حاصل کرتی رہی ہے۔ اس لئے اسے امریکہ کا سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہت پسند ہے۔ سارہ کا کہنا تھا کہ وہ تو اس سیاسی جماعت کو پچیس جولائی کو ووٹ دینے جارہی ہے جو بہتر اور جدید انفراسٹکچر کی بات کرتی ہے۔ اس بحث مباحثے میں ایک اور رائے شامل ہوئی، وہ رائے تھی نانی اماں کی! نانی بہت دیر سے ہم دوستوں کی گفتگو سن رہی تھی ۔ فرمانے لگیں،پتر میں نے اپنی زندگی میں اس ملک میں بہت نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ چار پانچ سال کی تھی جب میری والدہ مجھے چھپ چھپا کر پاکستان لائیں تھی۔ جوان ہوئی تو اس ملک کی سیاست دیکھی اور اب بوڑھی ہو گئی ہوں۔پاکستانی سیاست کے بازار میں عجیب وغریب اور گھناونا دھندہ ہوتا آرہا ہے۔ کبھی اس ملک کے وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، کبھی دباؤ میں لا کر استعفیٰ دلوایا گیا، تو کبھی گھر بھیج دیا گیا۔ آمریت کے چار ادوار اس ملک پر اترے اور یہ ملک پسماندہ ہوتا چلا گیا ۔ نانی نے کہا کہ پچیس جولائی کا ووٹ تمہارے آنے والے کل پر اثرانداز ہوگا۔ اس لئے اس قومی فرض کو درست انداز میں نبھانا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں