ویڈیو کال ایک مصیبت ہے


 

میں ویڈیو کالز سے تنگ ہوں، جی ہاں۔ آپ نے بالکل ٹھیک سمجھا، آج کل سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر ویڈیو کال ایک عام سی بات ہے۔ لیکن جب سے ان سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس کو آسان کر دیا ہے ۔ اس دن سے کچھ میرے جیسے لوگ کوس رہے ہیں، کہ کب انٹرنیٹ کی مفت کی سہولت پر تھوڑا مہنگائی ہو تاکہ انٹرنیٹ کی مفت کالز سے چھٹکارا ملے۔ کبھی وہ دور بھی تھا جب کہیں مہینوں میں ایک کال کی جاتی تھی وہ بھی اس لئے کہ خیریت دریافت کی جا سکے اور پھر رابطہ منقطع کر دیا جائے یہ سوچ کر کہ مہنگائی بہت ہے لیکن آج کل یہ رواج نہیں رہا۔

سامنے والے کی مصروفیت کو بالائے طاق رکھ کر جب کوئی انٹرینیٹ کی کال کرتا ہے تو یہ بات بھول جاتا ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کال میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ آڈیو کال میں آپ اسپیکر آن رکھ کر یا ہینڈز فری کا استعمال کر کے اپنے امور نمٹا سکتے ہیں لیکن جہاں بات ویڈیو کال کی آئے گی وہیں پر آپ کو طریقے سے ایسی جگہ بیٹھنا ہوگا جہاں سگنل ڈراپ نہ ہوں تاکہ آپ کی تصویر بھی خوبصورت آئے ۔۔۔ اور آپ بات بھی سہولت کے ساتھ کر پائیں ۔ میری بات سے بیشتر لوگ اتفاق نہیں بھی کریں گے لیکن اس مضمون کے لیئے میں مجبور ہو گئی کہ اپنے خیالات میں کسی طریقے سے کچھ ایسے لوگوں کو پہنچا سکوں جو اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ویڈیو کال ایک مصیبت ہے۔۔۔

مجھے اس مصیبت کا ادراک تھوڑا تاخیر سے ہوا۔ حال ہی میں میرے والدین کی جانب سے میری بات پکی کی گئی ہے۔ میری ہونے والی ساس اور شوہر جو کہ مجھ سے بہت دور ہیں انہیں ویڈیو کال کی اس حد تک عادت ہے کہ اگر وہ چاہیں تو میں چوبیس گھنٹے صرف موبائل کیمرے کے آگے ہنستی مسکراتی ان سے باتیں کرتی رہوں، اور باتیں بھی اور پھر ۔۔۔ اور پھر ۔۔۔ اور پھر ۔۔۔

میں ایک ادنیٰ رپورٹر تھی جو عام لوگوں سے بات کرنا اس لئے پسند کرتی تھی کہ ان کے مسائل سن کے میں کچھ لکھ سکوں اور میری لکھائی اگر کہیں پبلش ہو جائے تو افاقہ ہو۔ لیکن مجھے نہیں اندازہ تھا کہ میں اپنے ہونے والے رشتے پر ہی ایک بلاگ لکھ ڈالوں گی ۔۔۔ پھر ہوا یوں کہ میں بخار کی دوائی کی طرح دن میں ہر چار گھنٹے بعد ویڈیو کال پر بات کرنے لگی لیکن میں زیادہ بات نہیں کر سکتی تھی کیونکہ میں موبائل فون پر ہر وقت مسکرا نہیں سکتی۔ مجھے گھر کے بھی کچھ کام کرنے ہوتے ہیں اور میری اپنی فیملی اس طرح کی نہیں کہ ان باتوں کو پسند کرے۔ اگرچہ میرے والد نے کہا کہ بات کرو لیکن وہ بھی اشاروں میں کہہ گئے کہ زیادہ باتیں وقت سے پہلے نقصان دیتی ہیں۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد حال یہ ہوا کہ بیٹا الگ ویڈیو کال پر، ماں الگ ویڈیو کال پر۔۔۔

میں ذہنی طور پر مفلوج ہونے لگی کہ ویڈیو کال سے کیا ہوگا یا روزانہ کیا بات کروں۔۔۔ کچھ سمجھ نہ آنے پر انٹرنیٹ ہی کو کوستی کہ سستے انٹرنیٹ پیکجز بھی وبال جان بن گئے ہیں۔ کمپنیز نے ایسے ایسے پیکجز متعارف کروا دیئے ہیں کہ ڈیڑھ سو میں بھی ویڈیو کال پر بات ہو جائے وہ بھی پورا مہینہ ۔۔۔ اور پیغام رسانی بھی۔۔۔ اور جن لوگوں کو اندازہ نہیں کہ سامنے والے شخص کے پاس وقت کی کس حد تک کمی ہے یا کبھی اس کا موڈ نہیں ہوتا بات کرنے کا تو اس بات کو تو سمجھنا ہمارے معاشرے میں گوارا کوئی نہیں کرے گا۔۔۔

میں نے گزشتہ کچھ ماہ سے ویڈیو کال کے ایسے عذاب دیکھیں ہیں کہ لکھنے سے زیادہ سوچنے پر ذہنی اذیت ہے اور دماغ میں سوئیاں چھبنا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔ خدارا یہ انٹرنیٹ اور ویڈیو کالز پر قابو پائیں۔ لوگ ناراض تو بہت ہوں گے لیکن میری تکلیف اس وقت برداشت سے باہر ہو رہی ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
فصاحت فاطمہ کی دیگر تحریریں
فصاحت فاطمہ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں