سنو! میرا لباس تمہارا مسئلہ نہیں


میرا تعلق پاکستان کے سب سے زیادہ ترقی پزیر صوبے کے ایک پسماندہ ترین علاقے سے ہے۔ صوبہ بلوچستان کا علاقہ ڈیرہ بگٹی۔ کراچی آنے کا مقصد اعلیٰ تعلیم کا حصول اور بہتر مستقبل کی تلاش تھی۔ دنیا کے تمام شعبوں میں سے میں نے صحافت جیسے مشکل شعبے کا انتخاب کیا۔ یہاں میں ایک نجی ادارے میں زیر تعلیم ہوں اور صحافت کے رموز سے واقفیت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہوں۔

آج ہی ہمیں یہاں باور کروایا گیا ہے کہ صحافت میں جنسی تفریق کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ صحافی بس صحافی ہوتا ہے، بغیر کسی لسانی، ثقافتی، علاقائی یا جنسی تفریق کے۔ اسی صحافت نے دماغ میں کیوں کا جواب ڈھونڈنے کی جستجو پیدا کی ہے، مگر یقین جانیں کم بخت شعور بڑی بری شئے ہے۔ ذہن سوال کرتا ہے، عقل جواب چاہتی ہے، جستجو بڑھتی ہے اور آخر کیوں نہ بڑھے کہ سوچنے کا عمل رک نہیں سکتا۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ میں صرف جنسی تفریق سے بالاتر ایک صحافی نہیں ہوں بلکہ اس ملک میں رہنے والی ایک عورت بھی ہوں۔ یہاں جنس سے بالاتر کچھ نہیں ہے۔ ذرا سوچیں کیسا لگتا ہے جب آپ صبح سے پڑھائی میں مشغول ہوں، تھک ہار کر کچھ لمحے سکون کی تلاش میں اپنے ہم جماعتوں کے ہمراہ سڑک پار چائے کے ڈھابے پر جا بیٹھیں اور لوگ ایسے گھورنا شروع کر دیں جیسے آپ کوئی “خلائی مخلوق” ہوں یا کسی بہت بڑے گناہ کے مرتکب؟ سوچیں کیسا لگتا ہے جب آپ نے مہذب لباس زیب تن کیا ہو، ہوا پر آپ کا اختیار نہ ہو، بے اختیاری میں وہ لباس ہوا کے دوش پر لہرا جائے اور اس ڈھابے کی دوسرے جانب بیٹھے اس کھوکھلے معاشرے کے ایک نام نہاد عزت دار شہری کی غیرت جوش مار جائے؟ کیسا لگتا ہے جب ایک آدمی آئے، اسے بات کرنے کے فن سے دور دور تک کوئی واقفیت نہ ہو، جس کے اپنے گریبان کے چار بٹن کھلے ہوں، جو اپنی برہنہ چھاتی کو اپنی مردانگی سمجھتا ہو، وہ آئے اور کہے ’’اپنی قمیض برابر کرو؟’’ ذہن میں سوال نہیں آتا؟ “کیوں” کھٹکتا ہے کہیں؟ میرے دماغ میں تو سوال آتا ہے۔

کیا یہ سڑک اتنی ہی میری نہیں جتنی اس نام نہاد غیرت مند شخص کی ہے جو سڑک کنارے بیٹھی ایک لڑکی کی غیرت کا رکھوالا بننے کی کوشش کر رہا ہے؟ اگر ہے، تو کیا میرا لباس میرا ذاتی مسئلہ نہیں؟ جب میں نے جا کر اسے یا اس جیسے کسی کو نہیں کہا کہ بھائی صاحب اپنی قمیض کے بٹن بند کر لیں تو آخر میں کیوں ہر بار اس قسم کے جملے سنوں؟ اس معاشرے میں شرافت کے ان نام نہاد علم برداروں کو عورتوں کے لباس کا ٹھیکہ آخر دیا کس نے ہے؟ یہ حق ان کے پاس آیا کب سے؟

ہراساں صرف جنسی طور پر نہیں کیا جاتا، میں ذہنی اور جذباتی طور پر ہراساں ہوئی ہوں اور مجھے یہ منظور نہیں۔ اس بڑے شہر کی سڑکوں پر چھوٹے ذہن کے ساتھ چلنے والو! غیرت کے نام پر زنگ آلود خیالات کا پرچار کرنے والو، اور دوسروں کے لباس پر نظریں رکھنے والو سن لو!

میرا لباس تمہارا مسئلہ نہیں۔

میں ہوا سے اڑنے والی اپنی قمیض سنبھال لوں گی، تم اپنی برہنہ چھاتی چھپاؤ، اپنی بہکتی نظر پر پہرے لگاؤ اور نالیوں میں بہتی اپنی غیرت کا کچھ سامان کرو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں