نسخہ کیمیا


ہر انسان جسم اور رُوح سے مرکب ہے۔ اعضاء بدنیہ کے تناسب اور سڈول ہونے کا نام حُسن الخلق ہے۔ قرآن کی سورہ التین میں جس کی طرف یوں اشارہ ہے۔ ”پس ہم نے انسان کو خوبصورتی کے ساتھ تخلیق فرمایا“۔ جس جسم میں رُوح ڈال دی گئی۔ اُس کو پھر آزاد نہیں چھوڑ دیا گیا۔ ایک راہ متعین کر دی گئی۔ جس کو ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ روشناس کروا دیا۔ جس کا نام ”اسلام“ رکھا۔

حقیقی کامیابی کا تعلق امور ایمان سے ہے، نا کہ امور دنیا سے۔ دنیا کا ملنا، نا ملنا، زیادہ ہونا یا کم ہونا کامیابی نہیں۔ چنانچہ ارشاد باری ہے“ اے ایمان والو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو“۔

دنیا میں بسنے والی ذی روح کے افادہ کے لیے طرح طرح کی نعمتوں کا نزول فرمایا۔ کارہائے قدرت کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ”ایمان“ کی ہے۔ جس کی منزل اللہ پاک کی ذات کا حاصل ہو جانا ہے۔ اِس طویل راستے پر کہیں کہیں گھاٹیاں اور کہیں کہیں سنگ میل آتے ہیں۔ منازل یا مقام کا کیسی کو علم نہیں۔ اِس سڑک پر سب راہی ہیں۔ کوئی آگے کوئی پیچھے۔ منزل صرف ایک بشر کو ملی جو کہ محمد رسول اللہ ہیں۔ ہم جیسے بشر کے لیے یہ کافی ہے کہ اُس راہ پر چلتے رہیں۔ جو محمد رسول اللہ نے دکھلائی۔ جس راہ پر چل کر مالک دو جہاں ملتے ہیں۔ مومن کا مقصود جنت پانا نہیں۔ جنت تو اچھے اسلام والوں کے لیے ہے۔ چناچہ ارشاد باری تعالٰی ہے۔ “کہہ دیجیے میری نمازیں، میری قربانیاں، حتی کہ میرا جینا اور مرنا سب اللہ کے لیے ہے۔ ”

بطور انسان ہمیں ضعیف بنایا گیا۔ ضعیف ہونے کے ناطے خطا کا ہو جانا، منزل سے ہٹ جانا، حب جاہ و مال کا پیدا ہو جانا، اعلانیہ و اخفا معاصی میں مبتلا ہو جانا ایک فطری عمل ہوا۔
اِس فطری عمل کے مرتکب ہونے والوں کے لیے رب نے ایک نسخہ تجویز کیا ہے۔ جس کو ”توبہ“ کہتے ہیں۔

ہر مسلمان میں نورِ ایمان ہے۔ گو اُس کے آثار اچھے سے ظاہر نہ ہوں۔ جیسے کوئی حسین چہرے پر سیاہی مل لے اور اُس کا حسن چھپ جائے۔ مگر جس وقت صابن سے دھوئے گا۔ چاند سا مکھڑا نکل آئے گا۔ ایسے ہی بعض مسلمانوں کا نور ایمان گناہوں کی وجہ سے ڈھکا چھپا رہتا ہے، لیکن جس وقت توبہ کرئے گا، اُس وقت قلب منور نظر آنے لگے گا۔ دوبارہ کالک لگے گئی تو توبہ کا صابن پھر اُسے دھوئے گا۔ اِسی طرح تیسری بار، چوتھی بار، اُسی طرح بار بار۔ ۔ کیونکہ اُس توّاب الرحیم کی رحمت انسان کی بداعمالیوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

اِس کی مثال دھوبی کی طرح ہے۔ ہم اپنے کپڑے گناہوں سے گندے کر دیتے ہیں۔ توبہ کریں تو دھوبی انہیں دھو ڈالتا ہے۔ دوبارہ گندے کریں توبہ کی برکت سے پھر دھو ڈالتا ہے۔ اِسی طرح سہ بار، چہار بار، حتی کہ صد ہا بار بھی ایسا ہی ممکن ہے۔ البتہ یہ خطرہ ضرور ہے کہ بار بار دُھلنے سے کپڑے کی اصلی آب و تاب اور توانائی میں کمی ضرور آ جاتی ہے۔ اِسی لیے توبہ کرنے کے بعد اس میں ثبات اور استحکام پیدا کرنا لازمی ہے۔

خشوع و خضوع، ذکر و فکر، توبہ، تقوی اور توکل کی توفیق سے فیض یاب ہو کر انسان کے نفس میں ایک انقلاب عظیم برپا ہو جاتا ہے۔ وہ انقلاب یہ ہے کہ نفسِ امّارہ نفسِ لوّامہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نفسِ امّارہ وہ ہے جو انسان کو شر پر اکساتا ہے۔ نفسِ لوامہ وہ ہے جع شر پر تو اِس طرح نادم ہو کہ کیوں کیا، خیر پر اِس طرح نادم ہو کہ کیوں نا کیا۔ اصل مقصد تو نفسِ مطمئنہ کا حصول ہے۔ جس کی تعریف قرآن میں یوں ہے۔ ”اے اطمینان والی روح، تو اپنے پروردگار کی طرف چل اس طرح کہ تو اِس سے خوش اور وہ تجھ سے خوش۔ پھر تو میرے بندوں میں داخل ہو جا۔ ”

نفسِ مطمئنہ اُس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان ہر حال میں اللہ سے راضی ہو۔ خطا ہو جائے تو فوراً تواب الرحیم کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اپنے کیے پر نادم ہو۔ توبہ کا اصلی جوہر اِس میں ہے کہ گناہ کے ماضی پر ندامت ہو، حال میں معافی کی درخواست ہو اور مستقبل کے لیے اِس گناہ سے بچ کر رہنے کا عزم کر لیا جائے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
طیب طاہر کی دیگر تحریریں
طیب طاہر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں