بل کلنٹن کا لاڈلا!



ویسے ہی کرنے کو کچھ نہیں تھا تو بے کار بیٹھا سوچتا رہا، کہ جب سابق امریکی صدر بل کلنٹن کو یہ پتا چلا ہوگا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دس سال قید ہوگئی ہے تو ان کے کیا تاثرات ہوں گے؟ اب آپ پوچھیں گے نواز شریف کی سزا کا بل کلنٹن سے کیا تعلق‘ جسے صدارت چھوڑے بھی اٹھارہ برس ہوگئے ہیں۔ آپ اگر یہ سوال پوچھیں گے تو پھر میں بھی پوچھوں گا کہ لمبا مال حسن اور حسین نواز نے بنایا‘ لندن میں خفیہ جائیدادیں خریدیں‘ وہ برخوردار خود لندن میں مزے کررہے ہیں‘ لیکن جن پاکستانیوں کا مال وہ لوٹ کر لندن لے گئے‘ انھیں اب کہا جارہا ہے اپنے بچے سڑکوں پر احتجاج کے لیے باہر نکالیں۔ ویسے آپ آن کیمرا بل کلنٹن سے پوچھیں گے تو ان کا جواب مختلف ہوگا‘ کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ سیاست دانوں کو آزادی سے سیاست کرنے کی آزادی ہونی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ بل کلنٹن نے بھی یقیناً سوچا ہوگا کہ یار اس بندے نواز شریف کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟

نواز شریف بل کلنٹن کہانی کچھ پرانی ہے۔ کلنٹن نواز شریف کے درمیان تعلق اس وقت گہرا ہونا شروع ہوا جب پاکستان نے نیوکلیئردھماکے کرنے کا پلان بنایا۔ آج بھی روزانہ نواز شریف اور حواری یہ بتانا نہیں بھولتے کہ نواز شریف کو بل کلنٹن نے فون کیا تھا، جس میں انھیں پیش کش کی گئی تھی کہ وہ انھیں پانچ ارب ڈالرز دینے کو تیار ہیں، اگر پاکستان بم دھماکے نہ کرے۔

نواز شریف اور ان کے حامی یہ تاثر دیتے ہیں جیسے بل کلنٹن نے وہ پیش کش پاکستان کو نہیں بلکہ نواز شریف کو کی تھی۔ اس کے بعد جنرل مشرف نے بغاوت کی تو ہمیں یہ بتایا گیا کہ نواز شریف کو سزا دراصل ایٹمی دھماکے کرنے کی ملی‘ کیوں کہ انھوں نے بل کلنٹن کے دبائو کے باوجود دھماکے کیے تھے۔ ان کا مقصد وہی تھا جو بھٹو صاحب کا تھا۔ نواز شریف کے اردگرد موجود اسپن ڈاکٹر نے انھیں یہی سمجھایا تھا، کہ وہ بھٹو کی لائن پر چلیں اور جنرل مشرف کی بغاوت کو بھی امریکیوں کے کھاتے میں ڈال دیں‘ کیوں کہ پاکستان میں مذہب کے بعد سب سے زیادہ امریکیوں کو بیچا جاسکتا ہے۔

بڑے عرصے بعد جب عابدہ حسین کی ملاقات ہنری کسنجر سے نیویارک دفتر میں ہوئی اور بھٹو کو دی گئی بدنام زمانہ دھمکی کہ انھیں عبرت ناک مثال بنا دیا جائے گا‘ کا ذکر ہوا تو کسنجر نے وضاحت کی کہ انھوں نے بھٹو کو کسی قسم کی دھمکی نہیں دی تھی۔ کسنجر کے بقول بھٹو کو کہا گیا تھا کہ اگر پاکستان نے ایٹم بم بنایا تو پھر اس کے consequences ہوں گے۔ کسنجر کے بقول نتائج سے مراد یہ نہیں تھی کہ کسی کو پھانسی لگوانا تھا‘ بلکہ انہوں نے دراصل بھٹو کو امریکی قوانین کا حوالہ دیا تھا کہ اگر کوئی ملک ایٹم بم بنا رہا ہو تو پھر اس پر اقتصادی اور فوجی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں؛ چناں چہ بھٹو کو بھی ان پابندیوں کی طرف اشارہ دیا گیا تھا‘ لیکن بھٹو ایک سیاست دان تھے‘ وہ سب سمجھتے تھے لیکن انھوں نے اس ایک لفظ consequences کو کیش کرانے کا فیصلہ کیا اور پارلیمنٹ میں دھواں دھار تقریر کر ڈالی کہ امریکا انھیں مروانا چاہتا ہے۔

نواز شریف کے اردگرد مشیروں نے بھی مشورہ دیا کہ وہ بھی بھٹو کی طرح امریکا پر ملبا ڈال دیں کہ ان کے ‘ذاتی اکاؤنٹ‘ میں پانچ ارب ڈالرز آ رہے تھے‘ لیکن انھوں نے لینے سے انکار کر دیا اور بل کلنٹن تک کی فون کال پر نہیں جھکے۔ بل کلنٹن سے پوچھا جائے تو وہی جواب دیں گے جو ہنری کسنجر نے پاکستان کی امریکا میں سفیر عابدہ حسین کو چھبیس برس قبل دیا تھا‘ کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ہوتا اور وہ ایٹم بم دھماکے کررہا ہوتا تو وہ اس کو یہی پیش کش کرتے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بل کلنٹن ناراض تھے تو دھماکوں کے بعد تین اہم مواقع پر انھوں نے نواز شریف کو کیوں بچایا؟

نواز شریف جب وزیراعظم تھے تو مشیروں نے پاکستان میں یہ مشہور کر دیا کہ بل کلنٹن نواز شریف کے ذاتی دوست ہیں اور وہ چاہیں تو چار جولائی کے دن‘ جب واشنگٹن میں چھٹی ہوتی ہے‘ خصوصی طور پر دفتر کھلوا کر باقاعدہ ملاقات بھی ہوتی ہے۔

جب پاکستان اور بھارت کارگل پر سینگ اڑائے ہوئے تھے اور بھارت نے بقول نواز شریف کے‘ تین ہزار پاکستانی فوجی کارگل چوٹی پر شہید کر دیے‘ تو اس وقت جنرل مشرف بھی چاہتے تھے کہ امریکا کو درمیان میں ڈال کر جنگ بندی کرائی جائے۔ اس وقت امریکا میں پاکستان کے قابل احترام سفیر ریاض کھوکھر تھے۔ ریاض کھوکھر کو فون کیا گیا کہ وہ بل کلنٹن سے ملاقات کا وقت لیں۔ بتایا گیا کہ چار جولائی کو امریکی دفاتر بند ہوتے ہیں۔ جواب ملا‘ تو پھر آپ کا کیا فائدہ سفیر ہونے کا؟ ریاض کھوکھر نے کوشش کر کے بل کلنٹن سے ملاقات کا وقت لے لیا۔ کلنٹن کو اندازہ تھا کہ اگر انھوں نے وقت نہ نکالا تو پاکستان بھارت جنگ پھیل سکتی تھی۔ نواز شریف پاکستان سے روانہ ہونے لگے تو ریاض کھوکھر کو پیغام بھیجا گیا کہ آپ بل کلنٹن کو بتائیں کہ وہ ان سے اکیلے ملنا چاہتے ہیں۔ اس پر ریاض کھوکھر نے بتایا کہ سرکاری ملاقاتیں اکیلے نہیں ہوسکتیں۔ پھر طعنہ دیا گیا کہ آپ کے امریکا میں سفیر ہونے کا کیا فائدہ؟

امریکا پہنچنے سے پہلے ایک دفعہ پھر ریاض کھوکھر کو کہا گیا کہ بل کلنٹن سے اکیلے ملاقات کرائیں۔ کھوکھر صاحب کو علم تھا کہ یہ ممکن نہیں تھا۔ جب ایئرپورٹ پر نواز شریف کا جہاز اترا تو پھر کھوکھر صاحب کو کہا گیا کہ اکیلے ملاقات کا کیا بنا؟ بتایا گیا کہ جناب امریکی کہتے ہیں‘ ملاقات میں بل کلنٹن کے ساتھ ایک بندہ موجود ہوگا جو نوٹس لے گا۔ پھر وہی طعنہ دُہرایا گیا۔ ریاض کھوکھر نے آخری حجت کی تو وائٹ ہاوس سے کہا گیا کہ آپ کے وزیراعظم اپنے ساتھ کسی سرکاری بندے کونہیں بٹھانا چاہتے تو ان کی مرضی لیکن بل کلنٹن کے ساتھ لوگ موجود ہوں گے۔

بل کلنٹن نے نواز شریف کو اس مشکل سے نکالا اور کارگل سیٹل ہوا؛ تاہم بل کلنٹن کو علم نہ تھا کہ عشق کے امتحان ابھی باقی تھے۔ جب نواز شریف کو جنرل مشرف نے گرفتار کیا اور بل کلنٹن نے مارچ دو ہزار میں بھارت کا دورہ کرنا تھا، تو پاکستان میں فوجی قیادت نے زور ڈالا کہ وہ ہر صورت پاکستان کا دورہ کریں۔ جنرل مشرف کو بل کلنٹن چاہیے تھا‘ تا کہ وہ یہ ثابت کرسکیں کہ امریکا کو ان کی بغاوت پر اعتراض نہیں۔ بل کلنٹن پاکستان آنے کو تیار نہ تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان پر یہ الزام لگے کہ وہ بھارت جیسے جمہوری ملک کے بعد پاکستان میں ایک فوجی جنرل سے ہاتھ ملانے چلے گئے‘ یوں کئی دن تک یہ مذاکرات چلتے رہے‘ آخر بل کلنٹن مختلف شرائط پر پاکستان آنے کو تیار ہوگئے‘ جن میں ایک یہ تھی کہ جنرل مشرف سے ہاتھ ملاتے وقت کوئی ٹی وی کیمرا یا فوٹوگرافر نہیں ہوگا۔

دوسری یہ کہ وہ پاکستانی قوم کو ٹی وی پر خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ تیسری شرط بل کلنٹن نے جنرل مشرف سے ملاقات کی یہ رکھی کہ وہ نواز شریف کو پھانسی نہیں دیں گے۔ تینوں شرائط مان لی گئیں۔ نواز شریف کو عمر قید ہوئی اور بعد میں جب سعودیوں اور لبنانیوں نے مل کر نواز شریف کو ڈیل لے کر دی تو لوگ یہی کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے بھی بل کلنٹن کا ہاتھ تھا۔

بل کلنٹن نے ٹی وی پر پاکستان قومی کو بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات‘ علاقے میں امن اور جمہوریت پر لیکچر دیا تھا۔ اچھی اور ایمان دار قیادت کی خوبیاں گنوائی تھیں کہ کیسے اچھے اور ایمان دار سیاست دان اپنے اپنے ملکوں کو ترقی کی راہ پر چلاتے ہیں۔ مجھے ہنسی آتی ہے بل کلنٹن کی سادگی پر کہ وہ یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اس کی آدھے گھنٹے کے لیکچر سے یہ پاکستانی قوم سدھر جائے گی‘ اس کے فوجی اور جمہوری لیڈر بھی راتوں رات ٹھیک ہوجائیں۔

اب آپ کیا کہتے ہیں کلنٹن کا کیا ردعمل ہوا ہوگا۔ اس نے بے ساختہ قہقہے لگائے ہوں گے؟ زار قطار رویا ہوگا؟ یا پہلے اپنی اور پھر نواز شریف کی عقل پر ماتم کیا ہوگا کہ جس نواز شریف سے چھٹی کے دن دفتر کھلوا کر ملاقات کی‘ تا کہ اس کو پاکستان میں فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں نقصان نہ ہو‘ اس کی درخواست پر کارگل جنگ بند کرائی‘ جنرل مشرف کے ہاتھوں سزائے موت سے بچایا‘ اور تو اور اٹک قلعے کی قید سے آزادی دلوا کر سعودی عرب بھجوایا‘ اس کا ‘لاڈلا‘ اٹھارہ برس بعد ایک دفعہ پھر جیل جا بیٹھا ہے!

(بشکریہ روزنامہ دُنیا)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں