اردو کی خدمت


Peerzada Salman“تم مانو یا نہ مانو، بیسویں صدی سے اب تک پنجابیوں نے اردو کی جتنی خدمت کی ہے شاید ہی برصغیر میں کسی اور خطّے کے لوگوں نے کی ہو” ملک نے راشد کی کلیات میز پر رکھتے ہے کہا

“میرے مان لینے سے کیا ہو گا، جو بات ہے وہ ہے، میں تو پنجابیوں کی بات ہی نہیں کر رہا تھا، ملک تم اٹھا لاے بیچ میں یہ قصّہ” ناصر نے راشد کی کلیات میز سے اٹھاتے ہوے کہا، پھر اس نے کتاب کھولی اور کچھ پڑھنا شروع کیا

“اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے، زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں… واہ، کیا بات ہے راشد کی” ناصر نے کتاب پڑھتے ہوے کہا

“لیکن نشانہ تو تمہارا پنجابی ہی ہوتے ہیں ناں،” ملک بات ختم کرنے کے موڈ میں نہ تھا

“وہ کیسے؟”

00001“وہ ایسے کہ تمہاری راے میں بٹوارے کے بعد اردو کا زیادہ نقصان ہوا ہے، اور بٹوارے کے بعد تو دونوں جانب اردو دنیا میں پنجابیوں کا ہی راج رہا ہے”

“یہ اس طرح نہیں ہے” ناصر نے ملک کی بات کاٹتے ہوے کہا، “میرا مقدّمہ یہ ہے کے اگر بٹوارے سے کسی ایک شے کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے تو وہ اردو ہے، اوراس کی دلیل میں تمھیں دے چکا ہوں”

“عزیز کے لیے اپنی دلیل ایک بار اور پیش کردو، یہ سندھی ہے، یعنی اس معاملے میں neutral ، یہ ٹھیک راے دے گا، کیوں کہ اسے اردو نہ کھپے” ملک نے عزیز کی طرف دیکھتے ہوے کہا جو ڈرائنگ روم کے سنگل صوفے پر بیٹھا بار بار اپنے موبائل فون کو دیکھ رہا تھا

“ابے تو اپنے موبائل کو کیوں تاڑ رہا ہے؟ کیا ہماری نہ ہونے والی بھرجائ کی کوئی نئی تصویر download کی ہے؟ ” ملک نے عزیز سے پوچھا

“وہ… طفیل ابھی تک نہیں پنہچا” عزیز نے کہا

“آ جاے گا، ہمیں کون سی جلدی ہے، اور تو بھی تو اب expert ہو چکا ہے، دو منٹ کا expert، چل ایک ایک تکہ اور کھاتے ہیں”

000004“پاگل ہو گیا ہے کیا، ان کے آنے سے پہلے سونا نہیں چاہتا میں” عزیز نے مسکراتے ہے جواب دیا “اچھا تو ناصر سائیں، کیا دلیل ہے بابا تمہاری؟”

“میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں کم از کم دو دہایوں تک اردو کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا، اردو کو بلکل sideline کر دیا گیا، اس کے باوجود کہ نہرو اردو کی حمایت میں لمبی لمبی مگر بے سری تانیں لگاتا رہا، حقیقت یہ کہ اردو کی بقا کے لیے کوئی کام نہیں ہوا اور اردو کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو cinderella کی سوتیلی بہنوں نے اس کے ساتھ کیا تھا… یہاں پاکستان میں یہ ہوا کہ اکثریت یہاں ان لوگوں کی تھی جن کی مادری زبان اردو نہ تھی، اس لیے ان کا شکریہ اور احسان کہ انہوں نے اردو کو اپنایا… مگر ہوا یہ کہ یہاں کا جو dominant culture تھا، یعنی پہناوا، رہن سہن، کھانا پینا وغیرہ، وہ سب یہاں کے لوگوں کے مزاج کے مطابق تھا، اس لیے اردو کو بھی ویسے ہی ڈھلنا پڑا… آہستہ آہستہ اردو گرامر کی ساخت میں local تبدیلیاں آنے لگیں، جیسے کہ، ‘کیوں شور ڈال رہے ہو’ اب یہ شور ڈالنا اردو محاورے کے خلاف ہے، ‘شور کر رہے ہو، شور ہو رہا ہے’ وغیرہ رائج تھا، مگر شور ڈال رہے ہو کو ان لوگوں نے بھی اپنا لیا جن کی مادری زبان اردو تھی… اس سے تخلیقی سطح پر تو نقصان نہیں ہوا، مگر لسانی اور کسی حد تک جمالیاتی سطح پر نقصان ہوا” ناصر نے ایک چھوٹی سی تقریر ختم کرتے ہو ے کہا

“بابا بات سمجھ میں نہیں آئی، اس سے اردو کو نقصان کیسے ہوا؟ تم جو ہو نہ ناصر سائیں اس کا شکار ہو، وہ کیا ہوتا ہے ملک؟”

00002“یادش بخیریا” ملک نے جواب دیا اور بولا “ناصر، عزیز نے صحیح پکڑا ہے تجھے، تو یادش بخیریا کا شکار ہے، تو نے تو اردو کو پریم چند کا اودھ بنا دیا ہے”

“یار یہ میری راے ہے، حقیقت یہ ہے کہ اردو نے تخلیقی سطح پر ترقی کی ہے لیکن لسانی اعتبار سے یہ پستی کا شکار ہوئی ہے، کیوں کہ لسانیات کا ایک بڑا حصہ صوتی اثرات کے تابع ہوتا ہے، اور اردو اپنی صوتیات کھو رہی ہے”

“کمال کرتا ہے ناصر، زبان کوئی رکنے والی چیز تھوڑی ہے، اس کے آگے بند نہیں باندھے جا سکتے، ابے انگریزی میں کیا کیا ملاوٹ نہیں ہوئی، اس کی صوتیات کا بھی تجھے غم ہے کہ نہیں” ملک نے لقمہ دیا

“مگر انگریزی تحریر کے ساتھ تو کوئی کھلواڑ نہیں کر سکتا ناں” ناصر نے جواب دیا

“دیکھ بھائی میں یہاں کوئی لسانی فساد کھڑا کرنا نہیں چاہتا لیکن سچ یہ ہے کہ اگر اردو کو پنجابی سندھی پٹھان نہیں اپناتے ناں تو یہ کب کی برمودہ triangle میں اڑن چھو ہو چکی ہوتی… سچ یہ ہے کہ تم اردو بولنے والے اقبال، فیض اور فراز سے متاثر ہو اور یہ بات مانتے ہوے تمہاری بولتی بند ہو جاتی ہے، تم بونے ہو جاتے ہو، پستہ قد کہیں کے”

“ملک تم پھر بات کو غلط موڑ دے رہے ہو، بات کسی قومیت کی نہیں، اردو کے اصل کی ہے”

“ابے اردو کا اصل یہ ہے جو تو اور میں بول رہے ہیں، سمجھ آئی؟”

“سمجھ آئی؟ غلط اردو ہے، کہو بات سمجھ میں آئی؟” ناصر نے کہتے ہوے قہقہہ لگایا

00003“جا تیری نواب کے ڈھکن!” ملک نے جواب دیا

“بابا دروازے پر دستک ہوا ہے” عزیز نے دونوں کو اشارے سے روکا

“دستک ہوتی ہے” ناصر نے پھر فقرہ کسا

“کون؟” ملک نے بلند آواز میں پوچھا

“میں” باہر سے کسی مرد کی آواز آئی

“طفیل آ گیا” عزیز کی آواز میں اب ایک بانکپن تھا

ملک صوفے سے اٹھا اور اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا… طفیل فلیٹ میں داخل ہوا، اس کے پیچھے ایک برقع پوش عورت تھی

“مجھے معلوم تھا تم انتظار سے مر رہے ہو گے” طفیل نے کہا

“نہیں وہی پرانی بحث چل رہی تھی، باباے اردو لیکچر دے رہا تھا” ملک نے ناصر کی طرف دیکھتے ہوئے بات کی

“ذرا منہ دکھائی ہو جاے” طفیل ملک کی بات سنے بغیر عورت سے مخاطب ہوا… عورت نے چہرے سے نقاب اٹھایا، اس کی سانولی رنگت میں بے اعتنائی کی عجیب سی کشش تھی

“ہاں بھئی، اردو کی خدمت پہلے کون کرے گا؟” طفیل نے ناصر، ملک اور عزیز کی طرف بڑھتے ہوے پوچھا

“میں!” تین آوازیں ایک ساتھ کمرے میں گونجیں


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “اردو کی خدمت

  • 08-05-2016 at 9:45 pm
    Permalink

    Wajahat Bhai, Mother’s day par aisa column chaap kar kia sabet karna chahtey hein? Mayusi huwi.

  • 10-05-2016 at 11:49 am
    Permalink

    پریم چند کا اودھ! واللہ! یہ بھی خوب رہی۔
    پریم چند کو ہمیشہ گلہ رہا کہ اردو کے مالکان ان کی اردو کو درست اردو ہی نہیں مانتے۔ ان کا مضمون ’’اردو کے فرعون‘‘ پڑھ لیجیے۔

Comments are closed.