کیا ناخدا کا بھی کوئی خدا ہوگا؟


بارہ بجنے ہی والے تھے، صحافت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ویسے تو لگتا ہے عمر گزر گئی ہے لیکن اس وقت آٹھواں گھنٹا جاری تھا۔ ابھی دل میں لاہور میں ن لیگ کے جلسے میں  ہوائی فائرنگ کی نذر ہو جانے والے ننھے پھول  کی تکلیف کم نہیں ہوئی تھی کے خبر آگئی؛

پشاور : یکہ توت دھماکے میں 15 افراد زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ

پشاور: دھماکہ اے این پی جلسے کے قریب ہوا

پشاور:دھماکے میں اے این پی امیدوار ہارون بلور کے زخمی ہونے کی اطلاع

ایسی خبر آنے پر انسان کو یہ بھول جاتا ہے کہ بارہ بج چکے ہیں، اس وقت گھر جانا ہے۔ دل میں فوراً ایک خوف گھر کر جاتا ہے کہ خدا نخواستہ شہادتیں تو نہیں ہو گئیں۔

سب سے پہلے رپورٹر کو کال کرو، بیپر بناؤ، فوٹیج بھیجو۔ جس قدر دل دھلا دینے والے مناظر کو روکا جاسکے اسکرین پر آنے سے روکو، ساتھ ہی خبر کو عوام تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھاو۔ رپورٹر لائین پر آیا اور ساتھ ہی خبر آگئی۔

پشاور:دھماکہ خودکش حملہ نکلا

پشاور: 12 شہید اور 35 زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں ترجمان ذوالفقار علی باباخیل

پشاور فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، ترجمان

پشاور: ہارون بلور دھماکے میں شہید ہو چکے ہیں، ترجمان

ایسی خبر ناظرین کو تو رنجیدہ کرتی ہی ہے، ہمارے دل بھی خون کے آنسو رونے لگتے ہیں۔ وہ انسان جو ایک ہفتہ پہلے ہمارے ہی پروگرام میں لائیو تھا اب دنیا میں نہیں رہا۔ پھر بھی دل چاہتا ہے یا اللہ خبر باونس ہو جائے اور یہ انسان زندہ ہو، لیکن!

اس ذہنی کشمکش اور بریکنگ ان کروانے کے دوران فوٹیج موصول ہو جاتی ہے جس میں ہارون بلور اپنی گاڑی سے نکلتے ہیں۔ کارکن والہانہ استقبال کرتے ہیں۔ پیچھے آتش بازی کے دل فریب مناظر ہیں۔ ہارون بلور ایک فاتح کی طرح لوگوں سے ہاتھ ملاتے، گلے ملتے آگے بڑھتے ہوئے ایک تنگ گلی میں داخل ہوتے ہیں۔ گلی میں بھی لوگوں کا ہجوم انہیں گھیرے ہوئے ہے۔ اسی دوران ایک زور دار دھماکا ہوتا ہے۔ یوں ایک ہی فوٹیج ہارون بلور کا زندگی سے شہادت تک کا سفر قید کر لیتی  ہے۔

پشاور: دھماکے کی فوٹیج منظر عام پر آگئی

پشاور: دھماکے سے پہلے آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا

پشاور: ورکرز کے درمیان ہارون بلور کو کارکنوں سے گلے ملتے دیکھا گیا

پشاور: دھماکے کے وقت ایڈووکیٹ ہارون بلور کے چچا الیاس بلور بھی موجود تھے

سمجھ ہی نہیں آتا، نہ اس سب پر بیٹھ کر افسوس کرنے کا وقت ملتا ہے کیوں کہ یہی فوٹیج عوام کو دکھانی بھی ہے۔ یہ خبر ہے اور یہ خبر عوام تک پہنچانی بھی ہے۔

ذہن ایک دھماکے دار آواز سے جاگتا ہے جب پوچھا جاتا ہے ہارون بلور کے بیٹے بھی ساتھ تھے۔ پتہ کریں وہ خیریت سے ہیں اور خبر موصول ہوتی ہے

پشاور: دھماکے میں ہارون بلور کے بیٹے دانیال بلور محفوظ رہے

پشاور: والد کی میت کے ہمراہ اسپتال سے گھر روانہ

دل سے آہ اٹھتی ہے گھر روانہ؟ وہی گھر جہاں دو ہزار بارہ میں بشیر بلور کی میت پہنچی تھی؟ وہی گھر جو شہیدوں کا قبرستان بن گیا ہے؟ کس چیز کی اتنی بڑی قیمت؟ ہر بار الیکشن سے قبل ہی یہ صف ماتم اس گھرانے کا نصیب کیوں؟

ایسے تمام سوالوں کے جواب بھی ایک صحافی کے پاس موجود ہوتے ہیں سو میرے پاس بھی ہیں

لیکن ایک سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔

 کیا ناخدا کا بھی کوئی خدا ہے؟

یہ اور ایسے بہت سے سوال لے کر رات کو دو بجے گھر واپس آگئی۔ عموماً ان اوقات میں خواتین کا گھر آنا پاکستانی  سوسائٹی میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ سو گیٹ کیپر نے بھی بولا سمیرا آپ بہت لیٹ ہوگئی ہیں۔ جواباً صرف یہی بولا گیا، جی کیوں کہ میں میڈیا والی ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں