نواز شریف اور شہباز شریف


بطور صحافی یہ مشاہدہ رہا ہے کہ سیاسی لیڈروں کو عموماً ان پڑھ اور حلقے کی سیاست کرنے والے لیڈر نہیں، بلکہ پڑھے لکھے وہ مشیر غلط راستے پر لگاتے ہیں، جو دن رات ان کے آگے پیچھے یا پھر خلوتوں میں ساتھ ہوتے ہیں۔ یہ مشیر عموماً سیاست دان نہیں بلکہ ٹیکنوکریٹس، بیوروکریٹس، دانشور یا پھر صحافی ہوا کرتے ہیں۔ ٹینکو کریٹس یا بیورو کریٹس پھر بھی کسی حد تک اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور انہیں نسبتاً سازشیں کرنے اور لیڈروں کے کان بھرنے کا موقع کم ملتا ہے لیکن ان نام نہاد دانشوروں اور حکمرانوں کی قربت پانے والے صحافیوں کا چوں کہ کوئی اور کام ہی نہیں ہوتا، اس لئے دن رات یہی کان بھرتے رہتے ہیں۔

عمران خان کی طرح میاں نوازشریف کی بھی بدقسمتی یہ ہے کہ اس قماش کے لوگوں پران کا بہت انحصار ہوتا ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد تو وہ پارٹی کو معطل کر کے مکمل طور پر اس قسم کے لوگوں کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں۔ یوں ان کو اقتدار میں دیکھتے ہی اسی طبقے کے لوگوں کے مابین ان کا قرب حاصل کرنے کے لئے دوڑ شروع ہوجاتی ہے اور اب کی بار اس دوڑ میں وفاقی مشیرعرفان صدیقی پہلی پوزیشن کے حامل قرار پائے۔ اگرچہ اب کی بار خواجہ آصف اور احسن اقبال وغیرہ خاص الخاص تھے لیکن ان کو اپنی وزارتیں بھی چلانی تھیں، حلقے کے کام بھی کرنے تھے اور سیاست بھی کرنا تھی، اس لئے میاں صاحب کے کان بھرنے کے لئے ان کو نسبتاً کم فرصت میسر آتی تھی لیکن مشیرصاحب اس کام کے لئے مکمل فارغ تھے۔ صحافت سے وہ فارغ ہو چکے تھے۔ معاون خصوصی تھے لیکن کوئی وزارت ان کے پاس نہیں تھی۔ وہ میاں صاحب کے مزاج شناس پہلے سے تھے اور ماضی میں صدر مملکت کے پریس سیکرٹری کی حیثیت سے اقتدار کے ایوانوں سے بھی شناسا ہوچکے تھے۔ یوں اب کی بار وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحب زادی مریم نواز صاحبہ کی سیاست کی سمت کے تعین میں بنیادی رول ان کا رہا۔

میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ خواجہ آصف اور احسن اقبال اور بعد ازاں پرویز رشید کو ساتھ ملا کر میاں صاحب اور چودھری نثار علی خان میں دوریاں پیدا کرنے میں بنیادی کردار انہوں نے ادا کیا۔ اسی طرح عدلیہ سے تناو کو ابھارنے میں نہ صرف ان کا بنیادی کردار تھا بلکہ سابق چیف جسٹس کے نام وزیراعظم نے جو خط لکھا اور جس میں انہوں نے عدلیہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایگزیکٹو کے کام میں مداخلت کررہی ہے، تو اس خط کے مندرجات بھی انہی نے تیار کئے تھے ( واضح رہے کہ سیاسی ساتھیوں اور چودھری نثار وغیرہ کے مشورے پر وہ خط بعد ازاں ارسال نہیں کیا گیا لیکن اس وقت کے چیف جسٹس سمیت سب متعلقہ لوگوں کو پتا چل گیا اور عدلیہ میں یہ احساس جنم لینے لگا کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ پھر میاں صاحب کے عدلیہ کے بارے میں ارادے ٹھیک نہیں)۔ اسی طرح جو روش یعنی فوج کے ساتھ مخاصمت کی فضا پیدا کرنے میں جس گروپ نے کلیدی کردار اد اکیا، اس کے سرخیل بھی یہی تھے۔

اقتدار ملنے کے بعد جو گروپ میاں نوازشریف کو جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کے لئے اکسا رہا تھا، اس گروپ کے سرغنہ یہی مشیر تھے۔ ایک طرف شہباز شریف، چودھری نثار علی خان اور حتیٰ کہ خود احسن اقبال وغیرہ بھی میاں صاحب کو فوج کے ساتھ تنازع مول لینے سے باز رکھنے کی کوشش کرتے رہے تھے لیکن یہ گروپ ان کے کان بھرتا رہا۔ طالبان کے خلاف آپریشن اور مذاکرات کے معاملے پر بھی اس گروپ نے ایسا کردار ادا کیا کہ جو فوج کے ساتھ تناو کا موجب بنا۔

اسی گروپ کے مشورے پر محمود خان اچکزئی کو افغانستان کے لئے خصوصی ایلچی بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہی گروپ تھا جس نے وزیراعظم کے ساتھ بطور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پہلی ملاقات کی تصاویر میڈیا کو جاری کردیں اور اسی گروپ کے مشورے پر انہیں مشہورِ زمانہ ٹویٹ واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔ اسی گروپ نے جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر میاں صاحب کو سخت تقریرکے فقرے لکھ کر پڑھنے کو دئیے اور اسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میاں صاحب کو جی ٹی روڈ کا راستہ دکھایا۔

میاں نوازشریف کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ مذکورہ گروپ کی کامیابی اور میاں شہباز شریف یا چودھری نثار علی خان کی ناکامی کی وجہ سے ہوا۔ جب تک میاں نوازشریف کو سزا نہیں ہوئی تھی، تب تک میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو میاں شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کے موقف کی تائید کرتے تھے۔ نظریاتی اور مثالی طور پر شاید وہی موقف درست ہو، جو میاں صاحب نے اپنا لیا لیکن ہم پاکستان کے زمینی حقائق اور مسلم لیگ (ن) کی ساخت کی وجہ سے یہ تجویز کررہے تھے کہ اداروں سے ٹکراو حکومت اور ملک کے حق میں نہیں۔

ہمارا خیال تھا کہ میاں صاحب جنرل مشرف کے ساتھیوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر اس بلند اخلاقی پوزیشن پر بھی فائز نہیں کہ جو انہیں اس جنگ میں کامیابی دلوا سکے۔ گویا بات وہی درست تھی جو چودھری نثار علی خان کر رہے تھے اور راستہ وہی ٹھیک تھا جو میاں شہباز شریف تجویز کررہے تھے لیکن بہر حال ہوا وہی کچھ جو یہ دونوں نہیں چاہتے تھے۔

میاں نوازشریف اور مریم نواز صاحبہ اب وار زون میں داخل ہوچکے ہیں، سزا کچھ بھگت چکے اور ابھی بہت کچھ ان کو بھگتنا ہے، لیکن ساتھ غلطی انہوں نے یہ کردی کہ جنگ کا اعلان کرکے اپنی فوج ( نون لیگ) کی کمانڈ میاں شہباز شریف کے ہاتھ میں دے دی، جو لڑنا ہی نہیں چاہتے۔ اب جب جنگ برپا کر کے آپ کمانڈ کسی ایسے فرد کے ہاتھ میں دیں گے، جو سرے سے اس جنگ کے حق میں نہیں تو پھر یہ فوج کیسے کامیاب ہوسکتی ہے۔

دوسری طرف میاں شہباز شریف کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لائحہ عمل سے متفق بھی نہیں اور انہیں چودھری نثار علی خان کی طرح چھوڑ بھی نہیں سکتے۔ ایک طرف گھر کا مشرقی ماحول راستے میں حائل ہے اور وہ بڑے بھائی کے سامنے بلند آواز میں بات تک نہیں کرسکتے تو دوسری طرف اس حقیقت کا بھی ادراک رکھتے ہیں کہ ووٹ، اسپورٹ اور کرشمہ میاں نوازشریف ہی کا ہے۔ چناں چہ وہ ایک طرف میاں نوازشریف کو قائد قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف ان کی فوج کی کمانڈ سنبھال لی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ جنگ ہی لڑنا نہیں چاہتے، جو ان کے قائد نے برپا کی ہے یا ان کے خلاف برپا کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے میاں نوازشریف اور مریم نوازشریف صاحبہ لندن گئے ہیں، تب سے مسلم لیگ (ن) کی ساری انتخابی مہم بیٹھ سی گئی ہے اور اگر یہ دونوں بھائی اسی طرح مخالف سمتوں میں چلتے رہے تو انتخابی مہم تو کیا مسلم لیگ (ن) کی ساری سیاست بیٹھ جائے گی۔

دونوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دو کشتیوں پر سواری مزید نہیں ہوسکے گی۔ جلسے جلوسو ں اور تقاریر سے قبل ضروری ہے کہ دونوں بھائی اپنا بیانیہ ایک کرلیں۔ یا تو میاں شہباز شریف، میاں نوازشریف کو اپنے مصالحانہ اور مدافعانہ بیانیے پر قائل کرالیں یا پھر خود ان کے بیانیے سے اتفاق کرلیں اور اگر ایسا نہیں کرسکتے تو پھر پارٹی قیادت کسی ایسے فرد کو سونپ دیں کہ جو بڑے میاں صاحب کے بیانیے سے متفق ہو۔

اسی طرح میاں نوازشریف کو چاہئے کہ وہ اپنے بھائی کو اپنا ہم نوا بنالیں نہیں تو پھر ان سے قیادت لے کر اپنے ہم نظر کسی شخص کوسونپ دیں۔ یہ کیا تماشا ہے کہ پارٹی کے قائد مشرق کو جارہے ہیں اور مرکزی صدر مغرب کو جارہے ہیں۔ قائد کی بیٹی مریم نواز صاحبہ طبل جنگ بجارہی ہیں اور صدر کے بیٹے حمزہ شہباز صاحب الحمد للہ الحمد للہ کررہے ہیں۔

اول الذکر ووٹ کے لئے عزت مانگ رہے ہیں اور ثانی الذکر کام کے لئے۔ اول الذکر نے جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں صعوبتیں برداشت کرنے والے پرویز رشید کو ساتھ کھڑا کیا ہوتا ہے اور ثانی الذکر نے جنرل مشرف کی سیاسی ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین مشاہد حسین سید کو ساتھ بٹھایا ہوتا ہے۔ یہ دو کشتیوں کی سواری اب بھی جاری رکھی جائے گی تو دونوں کا ڈوبنا مقدر بن جائے گا۔ شاید ورکر اور عوام قربانی دینے پر آمادہ ہو جائیں لیکن پہلے قائد اور صدر گھر میں تو موقف ایک کرنے کی قربانی دے دیں۔
(بشکریہ روازنامہ جنگ)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں