رحم یا خدا رحم


جب انسان آسایشوں کا عادی ہو جاتا ہے، اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ ان کے لاکھوں ہم وطن آسایشوں کیا، زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ ایک روز بازار سے گزرتے ہوئےمیرا ایک ضرورت سے زیادہ خوش حال دوست کہنے لگا ’’یار عطا، ہم لوگ بلا وجہ غربت غربت کی دہائی دیتے رہتے ہیں، یہ دیکھو جگہ جگہ موسم کے تازہ پھل، دکانوں اور ریڑھیوں پر سجے پڑے ہیں۔ آخر لوگ یہ پھل کھاتے ہی ہوں گے مگر ہم ہمہ وقت غربت کی گردان کرتے رہتے ہیں‘‘۔ یہ سن کر میں دل میں ہنسا اور میں نے اپنی گاڑی پھلوں کی ایک دکان کے قریب کھڑی کر دی اور اس دوست سے کہا ’’ذرا دیکھنا یہ پھل کھانے والے کون لوگ ہیں‘‘۔ مجھ سے پہلے ہی وہاں تین چار گاہک اپنی کاروں میں بیٹھے تھے اور ان کے ڈرائیور پھلوں کے بھرے ہوئے شاپر انہیں تھماتے، مالک بل پوچھتا، تین ہزار ، چار ہزار وہ اسے دیتے۔ اس دوران جتنے بھی گاہک آئے سب گاڑیوں پر آئے۔

اگر کوئی موٹر سائیکل پر آیا بھی ہے تو وہ سب سے سستا پھل تھوڑی سی مقدار میں خرید کر چلتا بنا۔ میں روزانہ جو مناظر دیکھتا ہوں وہ مجھے دکھ دینے والے ہیں میں حالات کے بدلنے کی صرف دعا ہی کرتا ہوں، آئیں آج آپ بھی میرے ساتھ دعا میں شامل ہو جائیں۔ میں ہر روز ایک نیا نظارہ دیکھتا ہو اور آنکھیں نم کر بیٹھتا ہوں۔

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ پانچ پانچ، چھہ چھہ سال کے بچے ہاتھوں میں کھانے کی پوٹلیاں لیے کام کاج پر روانہ ہو رہے تھے۔ میں نے سوچا یہ بچے اپنے ننھے منے ہاتھوں سے سارا دن کام کریں گے اور اپنے استاد سے گالیاں بھی سنیں گے اور مار بھی کھائیں گے۔ میں نے سوچا کہ ان کی مائیں (اگر ان کی مائیں ہیں) اپنے جگر گوشوں کو روزانہ خود سے کس طرح علاحدہ کرتی ہوں گی۔ میں نے دعا کی کہ اے خدا ان بچوں کے دن پھیر ان کے ہاتھوں میں اوزاروں کے بجائے کھلونے اور کتابیں دے اور ان کے نصیب میں بھی وہ خوشیاں لکھ جو خوشیاں ان کی عمر کے دوسرے بچوں کے نصیب میں لکھی ہیں۔

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ خوش نصیب بچے جن کے گلے میں بستے اور بڑے جن کے چہروں پر پریشانیاں کھدی ہوئی ہیں بس اسٹاپ پر کھڑے ہیں۔ مسافروں سے بھری ہوئی بس اسٹاپ پر آ کر رکتی ہے جس کے گیٹ سے لوگ چمگاڈروں کی طرح لٹکے ہوئے ہیں۔ اسٹاپ پر کھڑے بچے جوان بوڑھے اور عورتیں ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے گیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ اس میں کام یاب ہو جاتے ہیں کچھ گیٹ کے ساتھ مکھیوں کی طرح چمٹ جاتے ہیں اور باقی بارش یا دھوپ میں گلنے سڑنے کے لیے دوبارہ اپنی جگہ پر آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میں نے دعا کی کہ اے خدا ان کی مشکلیں دور کر۔

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ بس اسٹاپوں پر کھڑے لوگوں کے علاوہ کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جن کے پاس اپنے موٹر سائیکل اور اسکوٹر ہیں میں نے دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل پر پورا خاندان سوار تھا۔ دو بچے موٹر سائیکل کی ٹینکی پر بیٹھے تھے اور ایک بچہ اور اس کی ماں موٹر سائیکل کی سیٹ کےپچھلے حصے پر بیٹھے تھے اور خاندان کا سربراہ درمیان میں پھنسا بیٹھا، موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔ میں نے سوچا اس خاندان کی تنگ دستی کی وجہ سے پانچ جانیں خطرے میں ہیں۔ میں نے دعا کی خدا ان کی حفاظت کرے انہیں رزق میں وسعت دے تا کہ یہ اپنی جانیں اس طرح خطرے میں نہ ڈالیں۔

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ پیدل چلنے والوں بسوں کے انتظار میں کھڑے ہونے والوں اور موٹر سائیکل پر جانے والوں کے علاوہ کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جو اپنی چھوٹی چھوٹی کاروں میں اپنے اپنے دفتروں کی طرف جا رہے ہیں مگر یہ چھوٹی کاریں نا ہم وار سڑکوں کی وجہ سے پھدکتی ہوئی جا رہی تھیں اور بڑی بڑی کاروں کے ہجوم میں یہ کاریں کاریں نہیں ہانگ کانگ کی ڈنکیاں لگ رہی تھیں۔ ان کے مالکوں کے چہروں پر نا خوش گوار قسم کے تاثرات تھے ۔ میں نے دعا کی کہ اے خدا انہیں قناعت کی نعمت عطا فرما، تا کہ ان کے چہروں کا کھچاو دور ہو اور یہ تیرا شکر ادا کر سکیں۔

میں صبح جب گھر سے نکلا میں نے دیکھا کہ پیدل چلنے والوں بسوں کے انتظار میں کھڑے ہونے والوں، موٹر سائیکل سواروں اور چھوٹی کاروں والوں کے علاوہ کچھ سرکاری افسران ایسے بھی ہیں جو نئے ماڈل کی عمدہ کاروں میں تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ یہ انہیں دفتر چھوڑ کر گھر واپس آتی ہے اور بچوں کو اسکول چھوڑنے جاتی ہیں۔ پھر یہی کار اسکول سے فراغت کے بعد بیگم صاحبہ کو بازار شاپنگ وغیرہ کے لیے لے جاتی ہے بعد ازاں یہی کار صاحب کو دفتر سے لینے کے لیے جاتی ہے اور سرکاری پٹرول بے دریغ خرچ ہوتا ہے۔ میں نے دعا کی کہ یا خدا ان کے دلوں میں ملک وملت کے لیے ترس ڈال دے۔

میں صبح جب گھر سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ پیدل چلنے والوں، بسوں کے انتظار میں کھڑے ہونے والوں، موٹر سائیکل سواروں، چھوٹی کاروں اور ایک ایک بڑی کار کے مالکوں کے علاوہ کچھ خوش نصیب خاندان ایسے بھی ہیں، جن کے کنبے کا ہر فرد اپنی اپنی کار پر کالج، دفتر اور شاپنگ سنٹر جا رہا ہے مگر ان کے چہرے احساس محرومی کی وجہ سے کھنچے ہوئے ہیں۔ دراصل اس ملک نے ان لوگوں کی قدر نہیں کی کیوں کہ امریکا میں ایسے ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جن کے ہر فرد کے پاس اپنا اپنا جہاز ہے مگر یہاں ان بے چاروں کو کاروں پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے دعا کی اے خدا، انہیں بھی جہازوں کا فلیٹ دے تا کہ تیرے یہ ’’مفلس بندے تیرا شکر ادا کریں‘‘۔

میں صبح گھر سے نکلا تو میں نے ایک جنازہ دیکھا جسے بہت کم لوگ کندھا دے رہے تھے۔ مرحوم کے عزیز و اقربا اپنی اپنی کاروں میں قبرستان پہنچ کر جنازے کا انتظار کر رہے تھے۔ میں اس جنازے کے ساتھ قبرستان پہنچا مرحوم کو دو فٹ چوڑی لحد میں اتارا اور قبر پر ایک مٹھی مٹی کی ڈال کر دعا کی، اے خدا ہم سب اس دنیا میں تیرے مہمان ہیں اپنے مہمانوں میں سے کسی کو بھوکا نہ رکھ کہ تو تو اس لحد میں پلنے والے کیڑوں مکوڑوں کی میزبانی بھی بڑے بڑے ذی شان انسانوں کی سالم رانوں سے کرتا ہے۔ ہم اگر اشرف المخلوقات ہیں تو ہماری اشرف المخلوقاتی کا بھرم رکھ۔ ہم میں سے جو سچ مچ بھوکے ہیں انہیں روٹی دے جو ضرورت مند ہیں ان کی ضروریات پوری کر اور وہ جنہیں تو نے رزق میں کشادگی دی ہے، انہیں قناعت بھی دے تا کہ تیرا شکر ادا کر سکیں۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ)

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں