راستہ اور ماں


naseer nasirآج مئی کا دوسرا اتوار ہے اور یومِ مادر یعنی ماؤں کے احترام اور یاد میں منایا جانے والا عالمی دن۔ ماں ایسی عظیم ہستی ہے کہ اگر کیلنڈر کا ہر دن ماں کے دن کے طور پر منایا جائے پھر بھی اس کی عظمت کا  حق ادا نہیں ہو سکتا۔

کہتے ہیں کہ میں جب پیدا ہوا تھا تو بہت چھوٹا تھا، اتنا چھوٹا کہ جار میں بند کیا جا سکتا تھا اور میرے سر کی ساری ہڈیاں نظر آتی تھیں۔ میرے زندہ رہنے کا امکان کسی مادرانہ معجزے سے وابستہ تھا۔ کچھ لوگوں نے میرے خُرد و موہوم وجود کو چوہے جتنا کہا۔ لیکن ماں ہمیشہ مجھے بڑا سمجھتی تھی۔ گود میں لے کر میرے ننھے ننھے ہاتھ چومتی تھی اور اپنی آنکھوں کی نمی سے میرے روئی جیسے گالوں کو تر کرتی تھی۔

When I was born
My mother wiped all her tears
With the cotton wool of my cheeks
Tears ….. whose wet salinity
Has socked all mornings and evenings
Of my future life

10351312_867976138_n اور پھر میں سچ مچ بڑا ہو گیا، اتنا بڑا کہ ماں سر جھکائے بغیر مجھے دیکھ سکتی تھی۔ چوہے جتنے جثہ سے پورے چھ فٹ کا منش۔ میں جب بھی ماں سے ملتا تھا وہ سب سے پہلے میرے ہاتھ چومتی تھی اور میرے کلاں ہونے پر اپنے ہونٹوں کی مہرِ تصدیق ثبت کرتی تھی۔ ماں دنیا کی اکثر ماؤں کی طرح اَن پڑھ تھی لیکن مجھے فر فر پڑھ لیتی تھی۔ “راستہ اور ماں” یہ نظم میری نوزائیدگی کے دنوں کے ایک سچے واقعہ کا علامتی اظہار ہے۔ جب شدید بیماری میں میرا ننھا وجود زندگی کی جنگ تقریباً ہار چکا تھا، لیکن ماں نے ہار نہیں مانی تھی۔ اور صبح دم زمینداری کے کاموں میں جتے افرادِ خانہ کو بتائے بغیر چپکے سے تنِ تنہا مجھے کاندھے سے لگائے رجماً بالغیب کسی ڈاکڑ اور حکیم کی تلاش میں پیدل گاؤں سے نکل پڑی تھی۔ اُس زمانے میں ہمارے علاقے میں آمد و رفت کے لیے سڑک تھی نہ دور دور تک کوئی ڈاکٹر تھا۔ دیہاتوں کے حکیم بھی باقاعدہ حکمت نہیں کرتے تھے اور نہ حکمت ان کی روزی کا ٹھیکرا ہوتی تھی، گزر بسر کے لیے اِدھر اُدھر دیگر کاموں میں مصروف اکثر اپنے ٹھکانوں پہ نہیں ملتے تھے۔ اُس روز تو ماں کی ہمت اور عظمت کے سامنے موت بےبس ہو گئی تھی، سوچتا ہوں اب جب موت مجھے لینے آئے گی تو اُسے روکنے والی ہستی خود اِس دنیا سے جا چکی ہے، اب مجھے جانا ہی پڑے گا۔ لیکن پتا نہیں کیوں یوں لگتا ہے جیسے ماں ابھی تک مجھے کاندھے سے لگائے چل رہی ہے۔ شاید میرا اور ماں کا سفر ایک ساتھ ختم ہو گا!

عجب راستہ تھا
کہ جو ہر طرف جا رہا تھا
مگر پھر بھی بےسمت تھا
دھوپ تھی، دُھول تھی
1038214959943256_nیاد جیسی کوئی بھول تھی
ماں اٹھائے ہوئے چل رہی تھی مجھے
پاؤں جوتوں سے عاری تھے
سر کی ردا مجھ پہ تانے ہوئے
ہاتھ سُن تھے
مِری سانس سے تیز تر اُس کی رفتار تھی
راستہ، ایک سے دوسرے کوس تک پھیلتا جا رہا تھا
مگر فاصلہ تھا کہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا

طبیبِ ازل دیکھتا تھا
کوئی روگ تھا جان لیوا
کسی دکھ کی چنتا
کسی پیڑ کی چھاؤں میں اُس کو رکنے نہ دیتی تھی
پَل بھر بھی تھکنے نہ دیتی تھی اُس کو
سحر دَم سے جاگی ہوئی تھی
مگر چل رہی تھی
اٹھائے ہوئے مجھ کو ہاتھوں پہ اپنے
کوئی تیز نوکیلے پنجوں، بڑے پنکھوں والا پرندہ تھا
جو میرے چھوٹے سے دل سے کہیں دُور اُڑنے کو بےحال تھا
اور کسی ڈاکٹر کا، کلینک کا کوئی نشاں تک نہیں تھا
زمیں تو زمیں آسماں تک نہیں تھا
کسی ویدِ اعظم، حکیمِ جہاں کے مکاں کا پتا بھی نہیں مل رہا تھا
1309607160600_nمسیحا بھی کوئی نہیں تھا
جو اپنے زماں سے نکل کر
مِری آخری سانس لیتی ہوئی ننھی بیمار صدیوں میں آتا
صلیبِ اذیت اٹھاتا
مِری جاں کے بدلے سبھی ماؤں کے دکھ مٹاتا،
شفاعت کنندہ ہی بنتا

عجب راستہ تھا
جو زیرِ زمیں تھا، پسِ آسماں تھا، کہیں تھا
مگر ماں کو مِلتا نہیں تھا
عجب دکھ کی شدت تھی جس میں
ہر اک شے تھی ساکت
کوئی پتا ہِلتا نہیں تھا
بس اک سانس تھی جو ابھی چل رہی تھی
ہوا تھی جو رک رک کے پہلو بدلتی تھی لیکن
ہوا بھی کہاں تھی،
کبھی ایک سے دوسرے گاؤں ماں تھی جو پیہم رواں تھی
کہ اُس کو خبر تھی
11755751119704204_nیہ رستہ بہت دُور جائے گا
رُک کر بھی چلتا رہے گا
مجھے زندہ رکھنے کی خاطر
خدا کائناتوں کی حکمت بدلتا رہے گا

زمانے کا پہیہ بہت تیز ہے
گھومتے گھومتے تھک گیا ہے
مِرے ساتھ بگ ٹٹ وہ بچہ بھی بوڑھا ہُوا ہے
مگر ماں ابھی تک چلے جا رہی ہے
اٹھائے ہوئے مجھ کو ہاتھوں پہ اپنے
ازل سے ابھی تک تعاقب میں مرگِ نہاں ہے
وہی جانتی ہے
کہ رستے کا انتم کنارا کہاں ہے!!


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “راستہ اور ماں

Comments are closed.