سماج میں ٹوٹتے رشتے اور طلاق کے بڑھتے ہوئے اسباب



سب سے پہلے یہ واضح کرنا لازمی سمجھوں گا کہ رشتا کہتے کس کو ہیں۔ رشتے دو قسموں کہ ہوتے ہیں۔ ایک خون کا/ پیدائشی رشتا، دوسرا روحانی، دل کا رشتا ہوتا ہے۔ رشتے ماحول کی طرح پے، جب دو انسان آپس میں ملتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور رشتے کی صورت میں سامنے آتے ہیں پھر وہ رشتا دوستی کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے، محبت کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے، زبردستی کی بنیاد پر کوئی رشتا نہیں بنتا۔ رشتوں کی مضبوطی پختہ یقیں اور بھروسے پے ہوتی ہے اگر یقین بھروسہ نہ ہو تو وہ رشتہ شک میں بدل کر ٹوٹ جاتا ہے۔ رشتوں میں پاکیزگی تب ہی آئے گی جب اخلاق اچھا ہوگا۔

پچھلے زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ احترام بہت زیادہ ہوتا تھا، بڑوں کی بہت زیادہ عزت کی جاتی تھی ساتھ میں بڑوں کو عقلمند سمجھ کر ہر فیصلے کا حق انہیں دیا جاتا تھا پھر وہ کسی جھگڑے کے فیصلے کا اختیار ہوتا، یا رشتا کروانے کا، آنکھیں بند کر کہ سب رضامند ہو جاتے تھے، شادی والے جوڑے سے پوچھا ہی نہیں جاتا تھا وہ شرما شرما کر رشتا قبول کر لیتے تھے بعد میں جب رشتا ہوجاتا، گھر بس جاتے تھے تو اس وقت ہوتا کچھ ایسے تھا جن کے گھر بس جاتے تھے، ایک دوسرے کو سمجھ جاتے تھے تو وہ عمربھر خوش و خرم رہ کر زندگی گزارتے تھے، جن کہ گھر نہیں چل پاتے تھے، ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے تھے تو شوہر بیویوں کو مارا کرتے تھے اور بیویاں مار کھایا کرتی تھی، کبھی بھی ان کہ ذہن میں طلاق کا لفظ نہیں ہوتا تھا، طلاق کا سوچنا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔ مطلب کہ اس وقت کے لوگ اتنے پڑھے لکھے نہیں ہوتے تھے پر سلجھے ہوئے ہوتے تھے۔

آج کل پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے لوگ تو ہیں پر بڑھتی ہوئی ترقی اور ٹیکنالاجی نے انسان کو اتنا سست کر دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری اور فرائض کو سنجیدگی سے لینے کے لئے تیار نہیں ہے، اس ماڈرن ٹیکنالاجی سے فیس بک، واٹس اپ نے اپنی ایک ایسی دنیا بنا دی ہے جس میں ہر کوئی روز بروز جانے یا پھر ایسے ہوتا ہے، آج کل انٹرنیٹ کی دنیا پے رومینٹک ڈرامے دکھائے جاتے، گندی بیہودہ چیزیں دکھا کر انسان کے ذہنوں پے حملہ کیا جاتا ہے پھر وہ چیزیں ہمارے سماج میں اثرانداز ہوتی ہیں، سماج میں لڑکے لڑکیاں ان چیزوں سے متاثر ہوجاتے ہیں پھراپنے گھروں اور دفتروں پے ایسی حرکات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے رشتے ٹوٹ کر طلاقوں میں بدل جاتے ہیں پھر ایسا ہوتا ہے کہ اس لڑکی یا لڑکے کا اپنی ذات میں رشتہ نہیں ہوتا۔ سماج میں ایسا بھی ہوتا ہے رشتہ ٹوٹنے کے بعد اسکا حل نہیں نکالا جاتا بلکہ ایک دوسرے کی کردار کشی کی جاتی ہے، ایک اچھا معاشرہ بنانے کیلئے ان چیزوں سے دور ہٹنا پڑے گا۔ آج کل رشتا گھر، پیسہ، نوکری دیکھ کر کیا جاتا، اس میں کوئی شک نہیں، اور لڑکی بھی اسی سے شادی کرتی ہے جو امیر ہو، یہ سب چیزیں انسان کی ضروریات ہوتی ہیں پر آج کل ترقی یافتہ دور میں رشتہ کرنے سے پہلے سماج میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ شادی یا منگنی سے پہلے لڑکے لڑکی کو بات نہیں کرنی۔ یہ آج کل کی ترقی یافتہ سوچ کے خلاف ہے۔

ماضی میں اتنی ترقی نہیں تھی تب ایک سوچ بنی ہوتی تھی کہ شادی منگنی سے پہلے لڑکی لڑکے کو بات نہیں کرنی، اب اس ترقی یافتہ دور میں لڑکی لڑکے دونوں کی خواہش ہوتی ہے وہ آگے نکلیں، ان کا نام ہو اور لازمی بات ہے اس کے لئے دونوں کوشش کرتے ہیں یا سوچتے ہیں، جب ایک لڑکی، لڑکا آگے نکلنے کا سوچ سکتے ہیں تو اگر ایک دوسرے سے رشتا ہونے جاتا ہے تو رشتے داروں کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ دونوں کا رشتہ کرنے سے پہلے ان کو ایسا ماحول فراھم کیا جائے جس میں وہ ایک دوسرے کے خیالات سے آگاہ ہوسکیں، اس سے یہ پتا چلے گا کہ کیا دونوں ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں یا نہیں، اس بنیاد پے رشتے بنائے جائیں مستقبل میں وہ رشتے ٹوٹ نہ سکیں۔ عموماً خاندان میں یہ ہوتا ہے لڑکا پڑھا لکھا ہوتا ہے، لڑکی نہیں، لڑکی پڑھی لکھی ہوتی ہے، لڑکا نہیں، اس بنیاد پے والدین رشتہ کر دیتے ہیں یہ سوچ کہ آگے چل کر دونوں ایک دوسرے کو سمجھ لیں گے پر ایسا ہوتا نہیں جب ایک دوسرے کا ذہنی معیار ہی ایک جیسا نہیں تو کیسے آگے چل کر ایک دوسرے کوسمجھ پائیں گے۔

رشتا ایک دھاگے کی طرح ہوتا ہے جتنا اسکو کھینچا جائے گا اتنا نازک ہوتا جائے گا کبھی کبھی کھینچنے سے ٹوٹ بھی جاتا ہے پھر جڑ نہیں پاتا ہے۔ رشتوں کی خوبصورتی دیکھنی ہے تو کائنات کے عظیم جوڑے حضرت علی کرم اللہ وجہ اور حضرت فاطمۃ الزہرہ کی زندگی کو دیکھ سکتے ہیں، تاریخ سے ہمیں کوئی ایسی بات نہیں ملتی کہ دونوں کی آپس میں نہ بنتی ہوں بلکہ دونوں کے کردار کو دیکھا جائے تو ہمارے لئے ایک سبق ہے۔ ایک دن کا واقعہ ہے حضرت فاطمہ سیدہ نے حضرت علی عہ سے کوئی چیز لانے کی فرمائش کی، حضرت علی عہ نے منع نہیں کیا اور فوراً چلے گئے، واپسی میں جب آرہے تھے تو راستے میں ایک سائل ملا، سائل نے حضرت علی عہ سے بھوک لگنے کی التجا کی، حضرت علی عہ نے اسکو منع نہیں کیا، نہ ہی یہ سوچا کہ اگر میں یہ کھانے کی چیز اس سائل کو دوں گا تو فاطمہ کہ لئے کیا لیکر جاوں گا، واپسی میں جب حضرت علی عہ گھر آئے، حضرت فاطمہ س نے خالی ہاتھ دیکھے تو کچھ نہیں کہا، حضرت علی عہ نے فرمایا، واپسی میں، میں آرہا تھا راستے میں سائل نے سوال کیا، کھانے میں کچھ کھلا دو، میں نے تمہارے لئے لائی ہوئی چیز سائل کو دے دی، حضرت فاطمہ س نے بالکل بھی غصہ نہیں کیا، نہ ہی ناراضی کی، حضرت فاطمہ س نے اپنا سر سجدے میں رکھا، اور کہا، یااللہ، تیرا شکر تو نے مجھے اتنا سخی شوھر دیا۔ ہمارے سماج میں بھی نیے جوڑوں کو اس عظیم جوڑے کی زندگی پے نظر ڈالنی چائیے اور انکے نقش قدم پے چلنا چائیے تاکہ پوری زندگی ایک دوسرے کہ ساتھ خوش و سکون والی زندگی گزار سکیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

جنید حسین جعفری کی دیگر تحریریں
جنید حسین جعفری کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں