آغا خان : ڈائمنڈ جوبلی سے ڈائمنڈ جوبلی تک


منصب امامت کے 60 سال مکمل ہونے پر مکتب اسماعیلیہ میں ڈائمنڈ جوبلی منانے کا رواج ہے۔ جس سال 60 سال پورے ہوجائیں اس سارے سال مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جاتا رہتا ہے۔ ان تقاریب کا بنیادی مقصد خوشی اور اپنے امام سے محبت کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔

1946 میں سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کا ڈائمنڈ جوبلی منایا گیا۔ سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم قیام پاکستان کی تحریک میں صف اول کے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ اس دور میں بھی انہوں نے عالمی سطح پر مسلم امہ کو درپیش مسائل پر اور ان کے حل کے لئے اقدامات کیے۔ جن میں ایک اہم قدم وہ ہے جب ترکی میں قائم مسلمانوں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کرنے کے لئے عالمی سازشیں اور دباؤ عروج پر تھا تو آغا خان سوئم برصغیر سے چیدہ چیدہ مسلم رہنماؤں کے ہمراہ ترکی گئے اور ترک ’خلفا‘ کو ہر قسم کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی کی خلافت مسلمانوں کی ملی جذبے اور اجتماعیت کے لئے ایک علامت ہے ہم اس خلافت کو بچانے کے لئے ہر قسم کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔

سرسلطان محمد شاہ آغاخان سوئم کا گولڈن جوبلی اس حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ انہوں نے اپنی ڈائمنڈ جوبلی میں گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ کے میر جمال خان کو 12ہزار روپے بطور امداد فراہم کردیے اور ساتھ میں ہدایت کی کہ اس رقم سے دو جدید سکول تعمیرکیے جائیں اوربقیہ رقم سے سکولوں کا انتظام چلایا جائے۔ گلگت بلتستان کی تاریخ میں یہ دونوں سکولیں اولین سکول کا درجہ رکھتی ہیں اس سے قبل اس پورے علاقے میں باقاعدہ اور باضابطہ سکولوں کا تصور نہیں تھا۔ 1946میں قائم کردہ ان دو سکولوں کا نام ڈائمنڈ جوبلی سکول رکھا گیا جن کی تعدادآج موجودہ دور میں بڑھ کے سینکڑوں کے ہندسے میں داخل ہو گئی ہے۔ جب ان سکولوں کے دیکھادیکھی گلگت بلتستان میں سرکاری و نجی سکولوں نے بھی تعلیم کے لئے قدم اٹھایا۔

سرسلطان محمد شاہ آغاخان سوئم کی اپنی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر یہ اقدام گلگت بلتستان میں تعلیم کے بنیاد ڈالنے کا سبب بنا اور یقینی بات ہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ اور علاقہ ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ ان سکولوں سے اب تک ایک ہزار سے زائد طلباءو طالبات سکالرشپ حاصل کرچکے ہیں اور تعلیم سے فراغت پانے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہیں۔ ڈائمنڈ جوبلی سکولز کے حوالے سے آغان خان ایجوکیشن کے سینئر منیجرز شاہ اعظم اور بلبل خان نے گزشتہ روز ’ڈائمنڈ جوبلی سے ڈائمنڈ جوبلی تک‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں تحقیقی مقالہ پیش کیا۔

‘ڈائمنڈ جوبلی سے ڈائمنڈ جوبلی تک‘ کا تصور آغا خان ایجوکیشن سروسز گلگت بلتستان پاکستان نے دیا تھا جس میں حاضر امام ہزہائینس پرنس کریم آغا خان اور سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کے ڈائمنڈ جوبلی کو ملاکے منایا گیا۔ اور یہ ایک خوبصورت ملاپ تھا کہ آغا خان سوئم نے اپنے ڈائمنڈ جوبلی میں گلگت بلتستان میں سکول اور تعلیم کی بنیاد ڈالی جبکہ ہزہائینس پرنس کریم آغا خان (موجودہ امام) اپنے ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب میں اس عہد اور اس مشن کی تکمیل کے لئے پر عزم نظر آئے۔ ہزہائینس پرنس کریم آغا خان کی ڈائمنڈ جوبلی 11جولائی 2017میں منائی گئی۔ جبکہ اس حوالے سے ہزہائینس پرنس کریم آغا خان نے گلگت بلتستان کا دورہ دسمبر میں کیا جہاں انہوں نے یاسین غذر اور ہنزہ میں اپنے پیروکاروں کو شرف دیداری بخشی اور خطاب بھی کیا۔

ڈائمنڈ جوبلی کے حوالے سے حکومت پاکستان نے انہیں باقاعدہ دعوت دی تھی جو کہ 13دنوں پر محیط تھا۔ دورے کے موقع پر انہوںنے چترال، غذر، ہنزہ اور کراچی میں اپنے پیروکاروں کو شرف دیداری بخشی۔ گلگت بلتستان میں دیداری کا موقع نہ صرف اسماعیلی مسلمانوں کے لئے بلکہ یہاں پہ بسنے والے تمام مسلمانوں کے لئے نہایت خوشگوار لمحہ تھا۔ دیداری کا انتظام ضلع غذر کے علاقے یاسین میں مورخہ 10دسمبر جبکہ ضلع ہنزہ کے علاقے علی آباد میں بھی اسی روز دوپہر کے وقت تھا۔ جس کے لئے گلگت بلتستان بھر سے اسماعیلی مسلمان اپنے روحانی پیشوا کی دیداری کے لئے گھر بار چھوڑ کر کئی روز پہلے ہی ’خیمہ زن ’تھے۔ اس دوران گلگت بلتستان میں بسنے والے تمام افراد نے نہ صرف اسماعیلی مسلمانوں کے گھروں کی حفاظت کی ذمہ داری لے لی بلکہ ہز ہائینس کا شاندار استقبال بھی کیا۔ ضلع غذر میں بسنے والے اہلسنت برادری نے اسماعیلی والنٹیئرز کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا اور یاسین میں یہاں تک کہ دیدار کے لئے آنے والے زائرین کے لئے گھروں کے دروازے بھی کھول دیے۔

ضلع ہنزہ میں دیدار ی کے لئے شاہراہ قراقرم پر ٹریفک کی روانی کے لئے امامیہ سکاؤٹس نے مکمل ذمہ داری لی اور اس ذمہ داری کو بخوبی احسن طریقے سے سرانجام دیا۔ جس کا مقامی سطح پر ریجنل کونسل نے برملا اعتراف بھی کیا۔ ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان 10دسمبر کو چترال سے بذریعہ ہیلی کاپٹر یاسین آئے جہاں پر شرف دیدار ی بخشنے کے بعد گلگت ائیرپورٹ پر اترے۔ جہاں پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اپنے کابینہ ممبران کے ہمراہ جبکہ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز (سابق)انتظامیہ کے ذمہ داران کے ہمراہ استقبال کے لئے موجود تھے۔ جبکہ فورس کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل ثاقب محمود سیکیورٹی کے امور پر مامور تھے اور تمام حالات کا ازخود جائزہ لے رہے تھے۔ گلگت میں مختصر قیام کے دوران انہوںنے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے ساتھ مختلف شعبہ جات میں باہمی تعاون پر رضا مندی ظاہر کی اور گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ’گلگت بلتستان میں امن و امان اور معیشت کی صورتحال سے وہ بے خبر نہیں ہیں‘۔ شرف دیداری بخشنے کے بعد ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان نے اپنے پیروکاروں کو دیگر مسالک کے ساتھ ہم آہنگی پرزور دیا۔

جس طرح آغا خان سوئم سرسلطان محمد شاہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اسی طرح سماجی ترقی، تعلیم اور صحت کے میدان میں ہزہائینس پرنس کریم آغا خان کی خدمات بھی قابل قدر ہیں۔ 1982۔ 83میں قائم کردہ AKRSP اب تک اس خطے میں اربوں مالیت کے منصوبے مکمل کرچکا ہے جس کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں ترقی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

سپیکر جی بی اسمبلی فدا محمد ناشاد کہتے ہیں کہ جب پہلی بار اے کے آر ایس پی کا قیام عمل میں لایا گیا تو میں ضلع کونسل سکردو کا چیئرمین تھا، میں نے اے کے آر ایس پی کو سکردو تک توسیع دینے کے حوالے سے درخواست دی جسے ریجنل انچارج شعیب سلطان خان نے وصول کی اور منظوری کے لئے آگے بھیج دیا جس کے جواب میں ہزہائینس پرنس کریم آغا خان نے کہا کہ اے کے آر ایس پی کو سکردو تک توسیع دینے میں کوئی دشواری نہیں ہے مگر اس کی توسیع سے قبل علاقے کے تمام زعماءاور علماء سے اس کی توثیق کرائی جائے میں نہیں چاہتا ہوں کہ اس بنیاد پر کسی قسم کا نقص امن یا کوئی اور معاملہ پیش ہوجائے۔ جس پر میں (فدا ناشاد) نے سکردو کے تمام مکاتب کے علماءکو اکھٹا کرکے اس حوالے سے رائے لی تو سب نے اپنے دستخط کردئے جس کے بعد باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اے کے آر ایس پی سے ان تمام علاقوں نے استفادہ حاصل کیا ہے جنہوں نے خواہش کی ہے۔

ہزہائینس پرنس کریم آغا خان بین الاقوامی سطح پر مسلم لیڈرمیں شامل ہوتے ہیں جن کے بیک وقت تمام ممالک سے اچھے تعلقات ہیں۔ پاکستان کے مستقبل کا دارو مدار اس وقت صرف چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے جوڑا جارہا ہے۔ اس منصوبے کا گیٹ وے گلگت بلتستان کا ضلع ہنزہ اور اس کا اختتام گوادر پورٹ ہے۔ گوادر پورٹ جو کہ سرآغا خان سوئم کا پاکستان حکومت کو تحفہ ہے جہاں آج بڑی تعداد میں اسماعیلی کمیونٹی آباد ہے جبکہ ضلع ہنزہ کی آبادی بھی 95فیصد اسماعیلی ہے۔ ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان کا دورہ پاکستان بالخصوص گلگت بلتستان بیرونی دنیا کے لئے بھی ایک اچھا پیغام دے گیا۔ ہز ہائینس کے پیروکاروں کی بڑی تعداد وسطی ایشیاءسمیت چائینہ میں بھی آباد ہے اور حکومت چائینہ سے بھی ان کے گہرے مراسم ہیں۔ ان تعلقات کی بناءپر کہا جاسکتا ہے کہ چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی مزید تقویت اور مضبوطی کے لئے یہ دورہ نیک شگون ہوگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں