پشاور خودکش دھماکے کے شہداء کی تدفین ، شہر میں سوگ کا سماں


اجتماعی نماز جنازہ رحمان بابا قبرستان عیسیٰ خیل جنازہ گاہ میں ادا کی گئی فوٹو اسکرین گریب

اجتماعی نماز جنازہ رحمان بابا قبرستان عیسیٰ خیل جنازہ گاہ میں ادا کی گئی

گزشتہ روز عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ کے دوران ہونےوالے خودکش حملے میں شہید ہونےوالے 10 افراد کی اجتماعی نماز جنازہ اداکردی گئی ہے جب کہ دہشتگردی کے واقعے کے بعد شہر کی فضا سوگوار ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ روز الیکشن کے سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش دھماکہ ہواتھا جس میں پی کے 78 سے اے این پی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور سمیت 20 افراد شہید ہوگئے تھے۔ دھماکے میں شہید ہونےوالے 10 افراد کی اجتماعی نماز جنازہ رحمان بابا قبرستان عیسیٰ خیل جنازہ گاہ میں اداکردی گئی جب کہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ہارون بلور اور ان کے دیگر رفقا کی نماز جنازہ شام 5 بجے ادا کی جائے گی۔

شہر کی فضا سوگوار

دہشتگردوں کا نشانہ بننے والے بشیر بلور کے سیاسی وارث ہارون بلور کی بھی دہشتگردوں کے ہاتھوں شہادت پر پشاور کی فضا سوگوار ہے۔ شہر میں اہم کاروباری مراکز اور بازار بند ہیں جب کہ سیاسی سرگرمیاں بھی معطل ہوگئی ہیں۔

مقدمے کا اندراج

گزشتہ روز ہونے والے خودکش دھماکے کا مقدمہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں اندراج کے لیے تھانہ یکہ توت نے مراسلہ بھجوا دیا ہے۔  مراسلے میں دہشت گردی اور دیگر دفعات کو شامل کیا گیا ہے، مراسلے کے متن میں کہا گیا ہے کہ خودکش دہشت گرد کا سر اور دیگر جسمانی اعضاء مل گئے ہیں، جو ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھجوائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز دھماکا پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ کے دوران ہواتھا۔ عینی شاہدین کاکہنا ہے کہ ہارون بلور تقریب کے مہمان خصوصی تھے وہ اسٹیج کی طرف جارہے تھے کہ حملہ آور نےان کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں کم ازکم 8 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیاگیا تھا۔ دھماکے میں اے این پی رہنما ہارون بلور سمیت 20 افراد شہید جب کہ 60 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جے آئی ٹی تشکیل

آئی جی خیبر پختونخوا محمد طاہر کا کہنا ہے کہ خودکش حملے کی تحقیقات کے لیےجوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے جس میں 7 افسران شامل ہیں۔ جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کریں گے اور تفتیشی ٹیم سے ایک ہفتہ کے دوران پیر تک رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں