کمبخت سیاسی عشق


maaida mahmoodآپ نے وہ گانا تو سنا ہو گا:
’’
کمبخت عشق کی پہیلی عجیب

ایک بار جو ہو جائے کر جائے ایسی کی تیسی‘‘

 

یہ جان کر آپکو یقیناً حیرت ہو گی کہ شاعر اس شعر میں قطعی عشق مجازی کا ذکر نہیں کر رہے، بلکہ یہ اقتدار کا عشق ہے جو اچھے خاصے شریف خاندان کو پانامہ کے چنگل میں پھنساتا ہے تو کبھی یہ عشق محبوب کے لیے دھرنا دینے پر مضر ہے۔ کبھی تو یہ معشوق کو ملک بدر کرتا ہے تو کبھی معشوق دل ہی ہار بیٹھتا ہے۔ کیا کریں جناب یہ دل کا معاملہ جو ہے۔

کوئی عشق اقتدار میں پرانے معشوق کو دھوکہ دیتا نظر آتا ہے تو کوئی گلیوں کوچوں میں بدنامی کا بینر بن جاتا ہے۔

کتنے ہی اس کے لیے سولی چڑھے اور کتنے ہے گولی کھا کر مارے گئے۔ کسی کو رقیب روسیاہ نے مروایا تو کسی کو ظالم سماج نے۔

وہ کیا ہے ناں کہ

’’ یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘‘
کئی ڈوبنے سے پہلے چھوٹی ڈبکی سے ہی سنبھل گئے۔ اور باقیوں کی دو تین دفعہ ڈوب کر بھی عقل ٹھکانے نہ آئی۔

ایک طرف تو عاشق معشوق کے لیے جان دے پھر رہا ہے، ہر قسم کے جتن کر رہا ہے ، اور دوسری طرف معشوق کے مزاج ہے نہیں مل رہے۔ نخرے انتہا پر اور بے وفائی عروج پر۔ آج اس کے ساتھ تو کل اس کی بغل میں۔ پہلے ساتھ جینے مرنے کے وعدے ہیں پھر لمبی جدائی۔ لیکن حیرت کی بات ہے کے عاشق کی بیوفائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سلام ہے ان پر جو معشوق کی گلی سے دھتکارے جاتے ہیں، ڈنڈے کھاتے ہیں اور پھر ہاتھ پیر جھاڑ کر دوبارہ سے لڑنے کو کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دراصل بات صرف اقتدار تک ہی محدود نہیں، اگر وہ دشمن جان ہاں کر دے تو جہیز میں پورا ملک بلکہ قوم مع اثاثہ ملتی ہے۔ صرف منہ دکھائی ہی اتنی ہوتی ہے کہ زندگی سکوں سے کٹ جائے۔

مختصر یہ کہ کچھ تو معشوق کی خاطر اور کچھ جہیز کی غرض سے اس بے وفا سے وفا کی سبھی رسمیں نبھاتے چلے آرہے ہیں۔ اور ہم سب پاپ کارن ہاتھ میں لیے رومانٹک ایکشن کامیڈی ٹراجڈی فلم کے مزے لے رہے ہیں۔
مگر افسوس کہ اس فلم کا ختم شد شاید کبھی نہ آئے۔


Comments

FB Login Required - comments