شدت پسند حملوں سے کچھ نہیں ہوتا، ایک دن سب نے جانا ہے


جون 2018 کے اوائل میں پوری قوم اس ڈر سے سہمی ہوئی تھی کہ نہ جانے دہشت گرد ان انتخابات میں کیا کیا ستم نہیں ڈھائیں گے۔ خفیہ والوں کی رپورٹیں آ رہی تھیں کہ نواز شریف، عمران خان، آصف زرداری اور نہ جانے کتنے دوسرے بڑے لیڈر خطرے میں ہیں اور ان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ کئی جلسے تو اسی وجہ سے منسوخ کرنے کی خبریں بھی آئی تھیں۔ مایوسی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چیف جسٹس عزت مآب ثاقب نثار قوم کے لیڈر کی حیثیت سے سامنے آئے اور ایک مقدمے کی سماعت کے دوران انہوں نے کمنٹس دیے کہ ”شدت پسند حملوں سے کچھ نہیں ہوتا، ایک دن سب نے جانا ہے۔

انہوں نے پوچھا کہ ”مولانا فضل الرحمان کو بلٹ پروف گاڑی اور ڈبل کیبن گاڑیاں کیوں دی گئی ہیں“۔ ایک وکیل نے لولی لنگڑی سی تاویل دینے کی کوشش کی کہ مولانا فضل الرحمن اور ان کی ہی جماعت کے رہنما مولانا غفور حیدری پر دہشت گردوں کے حملے ہو چکے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے اسے یہ کہہ کر لاجواب کر دیا کہ ”مولانا فضل الرحمان کے تو جانثار ہی بہت ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں جانثاروں کی وجہ سے کوئی حملہ آور مولانا فضل الرحمان تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔ “

اس سے قبل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات کو دی جانے والی غیر ضروری سکیورٹی واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ ان کا دل نہیں ہے۔ جب اس عدالتی حکم کے بعد سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا کہ نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری پاکستان کے چیف جسٹس پر ہو گی، تو چیف جسٹس نے تمام اہم شخصیات کو ضرورت کے مطابق سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

اب یہ محض اتفاق ہے یا پھر صوبہ پختونخوا کی حکومت کی نا اہلی کہ اس نے دہشت گردوں کی ٹاپ ہٹ لسٹ میں شامل ہارون بلور کو، جن کے والد بشیر بلور بھی ایک خودکش حملے میں شہید ہوئے تھے، خاطر خواہ سکیورٹی فراہم نہیں کی۔ بلکہ چیف صاحب کے حکم سے ڈر کر گزشتہ حکومت نے جو سکیورٹی ہٹائی تھی وہ واپس نہیں کی۔

ممکنہ ہے کہ انتظامیہ کا بھی یہی ماننا ہو کہ ”شدت پسند حملوں سے کچھ نہیں ہوتا، ایک دن سب نے جانا ہے“ تو پھر قوم کا پیسہ اس کے لیڈروں کو سکیورٹی فراہم کرنے پر کیوں ضائع کیا جائے، کیونکہ ان لیڈروں کے تو اتنے زیادہ جانثار ہیں کہ ان کی موجودگی میں کسی خودکش حملہ آور کا ان تک پہنچنا ناممکن ہے۔

اب اسے محض اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ اتنے جانثاروں کے باوجود بے نظیر بھٹو، بشیر بلور، ہارون بلور، مولانا فضل الرحمان اور اسفندیار ولی تک یہ حملہ آور پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ حملہ آور شاید اندھے تھے جنہیں یہ علم نہیں ہوا کہ جانثاروں کے ہوتے ہوئے ٹارگیٹ تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

جانثاروں سے ہمیں وکلا تحریک کے دور کا مشہور نعرہ یاد آ رہا ہے۔ ”چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار“۔ موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار تو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے کہیں زیادہ جانثار رکھتے ہیں۔ ہماری رائے میں تو ان بے شمار جانثاروں کی موجودگی میں چیف جسٹس کو بھی سکیورٹی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے بھی ”شدت پسند حملوں سے کچھ نہیں ہوتا، ایک دن سب نے جانا ہے“۔ امید ہے کہ اب تمام حکمرانوں، افسروں اور ججوں سے سیکیورٹی واپس لے لی جائے گی تاکہ جبران ناصر ٹائپ کے شریر لوگ ججوں کی سکیورٹی سے مار کھا کر عدلیہ کو بدنام نہ کر پائیں۔

لیڈروں کا کیا ہے۔ ایک لیڈر اگر شہید بھی ہو گیا تو اس کی جگہ دوسرا لے لے گا۔ ایک انگریزی مقولہ مشہور ہے کہ ”قبرستان ناگزیر لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں“۔ لیڈروں کی خیر ہے لیکن ہمیں تو یہ چیف جسٹس کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشانی ہوتی ہے جنہوں نے فرمایا تھا کہ ”میری ریٹائرمنٹ کے بعد پتا نہیں کیا ہوگا؟ “۔ حق یہی ہے کہ ویسے تو سب لوگ ناگزیر ہوتے ہیں مگر کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ ناگزیر ہوتے ہیں۔

بے نظیر بھٹو چلی گئیں۔ بشیر بلور چلے گئے۔ ہارون بلور چلے گئے۔ عوامی پیسے کا زیاں کرتے ہوئے سخت سکیورٹی نہ دینے کی وجہ سے اگر نواز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو، عمران خان، اسفندیار ولی اور ہٹ لسٹ پر موجود دیگر مقبول لیڈر چلے بھی گئے تو کیا فرق پڑتا ہے، چیف صاحب نے بتایا تو ہے کہ ”ایک دن سب نے جانا ہے“۔ چیف صاحب بھی چلے جائیں گے، نگران افسران بھی اور ہم تم بھی۔ دنیا میں سدا کون رہتا ہے؟

نوٹ: یہ ہارون بلور کی شہادت کے ردعمل میں لکھی گئی ایک المیہ اور طنزیہ تحریر ہے۔ خدا ہمارے لیڈروں کو اور وطن کو محفوظ رکھے۔

اسی بارے میں

شدت پسند حملوں سے کچھ نہیں ہوتا، ایک دن سب نے جانا ہے: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 989 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar