کیا چندے سے ڈیم بن سکتا ہے؟

عابد حسین - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


تربیلا ڈیم

Getty Images
ارسا کے مطابق پاکستان میں بارشوں سے ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑ فیٹ پانی آتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف 13.7 ملین ایکڑ فیٹ پانی بچایا جا سکتا ہے

کچھ روز قبل پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر آنے والی ایک رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا کہ دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر فوری شروع کی جائے اور عوام سے چندے کی اپیل کی۔

اس مقصد کے لیے چیف جسٹس نے فنڈ بنانے کا حکم دیا اور ’دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ 2018‘ کے نام سے قائم کیے گئے بینک اکاؤنٹ میں خود دس لاکھ روپے عطا کیے۔

ثاقب نثار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سینیٹ کے چئیرمین صادق سنجرانی نے 15 لاکھ روپے چندہ دینے کا اعلان کیا۔ پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی اعلان کیا کہ فوج کے افسران دو دن اور سپاہی ایک دن کی تنخواہ اس ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں گے۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخواہ کے سرکاری افسران نے تین دن جبکہ پمز ہسپتال، سٹیٹ بینک اور واپڈا کے اہلکاروں نے بھی اپنی تنخواہیں اس فنڈ میں جمع کروانے کا اعلان کیا۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر چندے کی تفصیلات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 11 جولائی تک 75 لاکھ سے کچھ اوپر رقم جمع کی جا چکی ہے۔

سملی ڈیم

Getty Images
پاکستان میں 15 میٹر سے زیادہ بلند ڈیموں کی تعداد 150 ہے جس میں تربیلا اور منگلا سب سے پرانے ہیں جو کہ بالترتیب 1974 اور 1967 میں مکمل ہوئے تھے

پاکستان میں ڈیموں کی صورتحال

فوجی آمر اور صدر، جنرل پرویز مشرف کے دور میں دیامیر بھاشا ڈیم کے قیام کا منصوبہ پیش کیا گیا جو کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان میں بھاشا کے مقام پر تعمیر ہونا ہے۔

لیکن متعدد بار تعمیر کا افتتاح ہونے کے باوجود فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ڈیم ابھی تک صرف ابتدائی مراحل میں ہے۔

4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے ڈیم کے منصوبے کے آغاز پر اس کا تخمینہ 12 ارب ڈالر لگایا گیا تھا لیکن مختلف ماہرین کے مطابق اس ڈیم کی کل لاگت 18 سے 20 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ دریاؤں کے تحفظ کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ریورز کے مطابق دنیا بھر میں بڑے ڈیم بنانے کا رجحان کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اور اس کی مختلف وجوہات میں سے ایک وجہ ڈیم کی تعمیر کے لیے لگائے گئے ابتدائی تخمینے میں مسلسل اضافہ ہونا ہے۔

حکومت پاکستان کو بھی دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایے کی رہی جس کے لیے انھوں نے مختلف عالمی مالیاتی ادارے جیسے ورلڈ بینک، ایشین ڈیویلپمینٹ بینک، آغا خان فاؤنڈیشن وغیرہ شامل ہیں لیکن ان تمام اداروں نے سرمایہ دینے سے معذرت کر لی اور اس کی وجہ ڈیم کی متنازع علاقے میں موجودگی بتائی۔

یاد رہے کہ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے گلگت بلتستان علاقے میں ہے لیکن انڈیا اسے ابھی بھی اپنا حصہ سمجھتا ہے۔

گذشتہ سال پاکستان نے کوشش کی کہ پاک چین اقتصادی راہدراری کے مختلف منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم کو بھی شامل کر لیں لیکن چین کی جانب سے رکھی گئی شرائط کی سختی کو دیکھتے ہوئے اس خیال کو ترک کر دیا گیا۔

اس سال مارچ میں وفاقی حکومت نے اصولی طور پر اس ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں سے 370 ارب روپے اس ڈیم کی تعمیر کے لیے مختص کیے جائیں گے جبکہ واپڈا تقریباً 116 ارب روپے اپنے ذرائع سے جمع کرے گا۔ بقیہ 163 ارب روپے بینکوں سے قرضوں کی مد میں لیے جائیں گے۔

حکومتی اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں دیامیر بھاشا ڈیم کے صرف پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت پر کام ہوگا جبکہ بجلی بنانے والے سیکشن کی تعمیر میں مزید 744 ارب روپے درکار ہوں گے اور کل منصوبے کی تعمیر پر 1.4 کھرب روپے کی لاگت آسکتی ہے۔

ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین حاصل کرنے اور آبادکاری کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اب تک حکومت 58 ارب روپے خرچ کر چکی ہے جبکہ مزید 138 ارب روپے اسی سلسلے میں مختص کیے گئے ہیں۔

نیلم جہلم ہائیڈرو

بھاشا ڈیم کی تعمیر کا تخمینہ کم از کم 18 سے 20 ارب ڈالر ہے

کیا چندے سے ڈیم بن سکتا ہے؟

اس فنڈ کے تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی ایسا ڈیم جس کی تعمیر کا تخمینہ کم از کم 18 سے 20 ارب ڈالر کا ہو اور تعمیر کا دورانیہ 12 سے 14 سال ہو، کیا وہ محض چندے کی رقم سے بن سکتا ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مختلف ماہرین نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے شروع کیے گئے دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے لیے قائم کیے گئے اس فنڈ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی افادیت پر سوال اٹھائے۔

کالم نویس اور لندن کے کنگز کالج سے وابستہ دانش مصطفیٰ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کے اس فنڈ نے انھیں نوے کی دہائی میں نواز شریف حکومت کی جانب سے شروع کی گئی سکیم ’قرض اتارو ملک سنوارو‘ کی یاد دلا دی ہے۔

’دنیا میں کسی ملک نے ایسے منصوبے پر کام شروع نہیں کیا جس کی مالیت اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً دس فیصد حصے کے برابر ہو۔‘

پانی کے امور کے ماہر حسن عباس نے بھی بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق دنیا میں کہیں بھی اتنا بڑا منصوبہ چندے کی مدد سے تعمیر نہیں کیا گیا ہے اور ان منصوبوں کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لیے جاتے ہیں۔

’دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے کے لیے اگر آپ پاکستان کے تمام شہری، بشمول نوزائیدہ بچے، اگر اس فنڈ کے لیے 30000 روپے دیں تو شاید کچھ بات بنے۔ لیکن کیا ہمارے ملک میں اوسط تنخواہ اتنی ہے؟ اس فنڈ بنانے کا خیال ناقابلِ عمل لگتا ہے۔‘

ماحولیاتی امور کے ماہر وکیل رافع عالم نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ ان کی معلومات میں پاکستان میں آج تک ایسا کوئی ڈیم تعمیر نہیں ہوا ہے جس کے لیے عوام سے چندہ لیا گیا ہو۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ لوگوں نے سپریم کورٹ کے عزم پر سوالات اٹھائے تھے اور امید کا اظہار کیا کہ قوم اسی فراخدلی کا مظاہرہ کرے گی جیسے 1965 کی جنگ کے موقع پر کیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’ممکن ہے کہ اس فنڈ میں ضرورت سے زیادہ رقم آجائے۔‘

لیکن حصار فاؤنڈیشن سے وابستہ ماہر معاشیات ڈاکٹر پرویز عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کیے گئے فنڈ سے ڈیمز کی تعمیر کی کل لاگت کا بمشکل پانچ فیصد حصہ جمع ہو سکتا ہے۔

ساتھ ساتھ انھوں نے مزید کہا کہ اگر سپریم کورٹ بونڈ جاری کر دے تو مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر فنانشل منصوبہ بنایا جا سکتا ہے اور اس کی مدد سے زیادہ رقم حاصل ہو سکتی ہے۔

’عوام سے چندے کی اپیل کرنا جذباتی فیصلہ لگتا ہے، نہ کہ کوئی سنجیدہ مشورہ۔‘

راول ڈیم

جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے حجم جتنے تین اور ڈیم کی ضرورت ہوگی

پانی ذخیرہ کرنے کے اہلیت اور پانی کا ضیاع

پاکستان میں 15 میٹر سے زیادہ بلند ڈیموں کی تعداد 150 ہے جس میں تربیلا اور منگلا سب سے پرانے ہیں جو کہ بالترتیب 1974 اور 1967 میں مکمل ہوئے تھے۔

حال ہی میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی جانب سے کہا گیا تھا کہ تربیلا ڈیم ’ڈیڈ لیول‘ پر پہنچ گیا ہے جبکہ منگلا ڈیم میں اب صرف آٹھ لاکھ ایکڑ فیٹ پانی رہ گیا ہے۔ ارسا نے مزید کہا کہ اگر ملک میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں تو پانی کا بحران مزید بڑھ جائے گا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر اداروں کی اسی سال آنے والی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے۔

پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے اور پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف دو بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جا سکتا ہے۔

ارسا کے مطابق پاکستان میں بارشوں سے ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑ فِٹ پانی آتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف 13.7 ملین ایکڑ فِٹ پانی بچایا جا سکتا ہے۔

گذشتہ سال ارسا نے سینیٹ میں بتایا تھا کہ پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہو جاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے حجم جتنے تین اور ڈیم کی ضرورت ہوگی۔

اس کے علاوہ پانی کے ضیاع کی چند بڑی وجوہات میں موسمی حالات کی تبدیلی اور بارشوں کی کمی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی بچانے کے انتہائی ناقص ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے بھی بڑی تعداد میں پانی کی ضیاع ہوتا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4591 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp