محترم چیف جسٹس انصاف فرمائیں، رہنمائی نہ کریں


editملک میں پاناما پیپرز کے حوالے سے تصادم کی کیفیت موجود ہے۔ اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے آزما رہے ہیں۔ اس دوران کرپشن کے سوال پر عام طور سے مباحث نے شدت اختیار کی ہے۔ خاص طور سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے بلاتخصیص احتساب کی بات اور اس کے فوری بعد بعض اعلیٰ فوجی افسروں کی کرپشن کے الزام میں برطرفی کی پرانی خبر کو عام کرنے کے طرز عمل سے سیاسی معاملات میں فوج کی غیر جانبداری پر نئے سوالات سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ سیاسی حکومت اور لوگوں نے عام طور سے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ آرمی چیف وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ان کے برابر جلوہ افروزہوں گے اور سکیورٹی اور خارجہ امور سے متعلق معاملات میں جی ایچ کیو کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلے نہیں کئے جا سکیں گے۔ اس کے باوجود جب فوج کے سربراہ ایک ایسے وقت میں کرپشن کے بارے میں سخت رویہ ظاہر کرتے ہیں جب اپوزیشن متحد ہو کر حکومت کو اسی قسم کے الزامات میں گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے تو حیرت و استعجاب کا اظہار فطری ہے۔ اب اس چومکھی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو حکومت کی اس درخواست پر فیصلہ کرنا ہے کہ پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کے بعد ملک میں کرپشن کی جامع تحقیقات کرنے کے لئے ایک عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ چیف جسٹس پہلے ہفتہ بھر کے لئے ملک سے باہر تھے، ان کی واپسی پر اس سوال پر سیاسی تصادم شدت اختیار کر چکا تھا۔ شاید یہی وجہ ہو گی کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم پیدا ہونے کا انتظار کر رہے ہوں تا کہ جب عدالت عظمیٰ کمیشن کے قیام کا اعلان کرے تو اس کی ہیئت اور اختیارات کے حوالے سے سوالات اور شبہات سامنے نہ آئیں۔ یہاں تک تو بات قابل فہم ہے۔ لیکن جب ملک میں عدل کی سب سے بڑی کرسی پر فائز شخص کمرہ عدالت میں اپنے فرائض سرانجام دینے کی بجائے سیمینار و مختلف اجتماعات وغیرہ میں قوم و ملک کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کرے تو یہ سوال پیدا ہونا لازم ہے کہ کیا عدالت بھی دیگر اداروں کی طرح اقتدار و اختیار کی اس کشمکش کا حصہ بننا ضروری سمجھتی ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کل کراچی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بعض خوبصورت اور سنہری باتیں کی ہیں لیکن انتہائی ادب کے ساتھ یہ کہنا مقصود ہے کہ یہ مشورے دینا اور قومی لیڈروں کی رہنمائی کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا ملک کے چیف جسٹس کا مقام نہیں ہے۔ اس طرح وہ منصف کی بجائے فریق کے طور پر سامنے آتے ہیں اور یوں لگنے لگتا ہے کہ فوج اور سیاستدانوں کی طرح ملک کی اعلیٰ عدالتوں کا بھی اپنا ایک ایجنڈا ہے اور وہ بھی اقتدار اور فیصلوں میں اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔ یہ تاثر عام آدمی کو ملک کے اداروں سے مایوس ہونے پر آمادہ کرتا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ داد رسی کے لئے قائم کیا گیا عدالتی نظام بھی شاید کبھی ان کی مدد نہ کر سکے۔

صورتحال کو تفصیل سے سمجھنے کے لئے حال ہی میں سامنے آنے والے ایک سروے پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہو گی۔ یہ جائزہ ملک کے ایک خود مختار ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک FAFEN نے تیار کیا ہے۔ اس سروے کے دوران 64 فیصد لوگوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے سرکاری اداروں میں کرپشن پائی جاتی ہے۔ سروے میں جن اداروں میں کرپشن کی بات کی گئی ہے، ان میں عام طور سے بدنام پولیس ، انکم ٹیکس اور میونسپل ادارے تو شامل ہیں ہی …. بدقسمتی سے اس فہرست میں عدالتوں ، الیکشن کمیشن ، محکمہ تعلیم اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بھی ذکر ہے۔ دوسرے لفظوں میں ملک کا کوئی بھی ادارہ کرپشن سے پاک نہیں ہے۔ ایسے میں کسی بھی ادارے کے سربراہ کی طرف سے ملک میں غیر ذمہ داری کے رویہ اور الزام تراشی کے کلچر کا گلہ کرنا زیب نہیں دیتا۔ خاص طور سے اگر یہ شکوہ یا رہنمائی ملک کے چیف جسٹس کی طرف سے کی جا رہی ہو۔ یہ صورتحال کل شام سے ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کے ذریعے اس خبر کا چرچا ہونے کے بعد مزید گمبھیر ہو جاتی ہے جس میں بلوچستان کے سیکرٹری مالیات کو نیب نے گرفتار کیا ہے اور ان کے گھر سے 65 کروڑ سے زائد رقم برآمد کی ہے۔ ایسے میں عام لوگ ذمہ داری محسوس کرنے اور الزام تراشی سے گریز کرنے کا مشورہ سننے کی بجائے یہ جاننے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کہ بدعنوانی کا یہ عفریت کیوں کر اس معاشرہ سے ختم ہو گا۔ جس ملک میں وزیراعظم کے بارے میں طے کر لیا گیا ہو کہ وہ قوم کے اربوں روپے لوٹ کر ملک سے باہر روانہ کر چکا ہے، کئی سابقہ وزرائے اعظم اور وزیروں پر کرپشن کے سنگین مقدمات قائم ہوں، متعدد فوجی افسروں کو مالی بدعنوانی کے الزام میں گھر بھیجنے کی خبریں سامنے آ چکی ہوں اور ایک سابقہ وزیر پر 462 ارب روپے کی بدعنوانی کا مقدمہ قائم کیا گیا ہو …. وہاں مشوروں سے زیادہ عمل کی ضروت ہے۔ اس معاشرے میں احساس ذمہ داری صرف اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے جب نگران ادارے موثر طریقے سے اپنا فرض ادا کرنے کی طرف توجہ دیں اور صورتحال کی اصلاح کے لئے اپنے آنگن سے کام کا آغاز کریں۔

موضوع بحث چونکہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ایک تقریر ہے، اس لئے ان سے یہ توقع کی جانی چاہئے کہ وہ سیاسی گروہوں کی لڑائی پر تبصرہ کرنے کی بجائے بطور منصف اپنا رول ادا کرتے ہوئے درست اور غلط کا تعین کرنے کے لئے اقدام کریں۔ اس کے علاوہ ملک کے عدالتی نظام کے منتظم اعلیٰ کے طور پر ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالتوں میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے کلچر کو ختم کرنے کے لئے فوری اقدام کریں اور قصور واروں کو نشان عبرت بنانے کے لئے موثر طریقہ کار استوار کریں۔ اس قسم کے عملی اقدامات سامنے نہ آئیں تو احساس ذمہ داری کی باتیں رومانوی اور تصوراتی نعروں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔ چیف جسٹس صاحب سے یہی درخواست کی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی دوسرا ادارہ کام نہیں کرتا تو وہ کم از کم عدالتی نظام کے بارے میں تو اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ وہاں صرف دولت اور اثر و رسوخ والے ہی انصاف پا سکتے ہیں۔ بلا شبہ اس وقت ملک کی اعلیٰ عدلیہ پر عام طور سے بھروسہ و اعتماد کی فضا موجود ہے۔ اسی لئے ملک کی اپوزیشن اور حکومت باہمی تنازعہ حل کرنے کے لئے عدالت عظمیٰ کی طرف سے دیکھتے ہیں۔ عام آدمی بھی کسی ظلم اور انہونی کی صورت میں یہی امید لگا بیٹھتا ہے کہ اب اعلیٰ عدالت کا کوئی جج سوموٹو ایکشن لے گا اور معاشرے سے ناانصافی کا خاتمہ کر دے گا۔ ظاہر ہے یہ امید معروضی حالات میں کسی ایک فیصلہ یا عدالتی مداخلت سے پوری نہیں ہو سکتی۔ لیکن صورتحال کی تبدیلی کے لئے کہیں سے کام کا آغاز تو کیا جا سکتا ہے۔

ملک کی عدالتوں نے ماضی میں جمہوریت کش قوتوں کا ساتھ دیا ہے۔ مختلف واقعات میں فوجی سربراہوں کی طرف سے آئین پامال کرنے کے اقدام کی توثیق عدالتوں کی طرف سے ہی کی جاتی رہی ہے۔ بلا شبہ چند باضمیر ججوں نے فوجیوں کے بنائے ہوئے حلف نامے POC پر حلف لینے اور کسی آمر کی اطاعت کا وعدہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے اپنے عہدے چھوڑے لیکن ججوں کی اکثریت ایسا حوصلہ نہیں کر سکی۔ 2007 کی عدالتی تحریک میں جب سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنی غیر قانونی برطرفی کے خلاف حرف انکار ادا کیا تو قوم نے یہ نہیں کہا کہ یہ تو ایک شخص کی نوکری کا سوال ہے بلکہ بلا تخصیص پورے معاشرے نے اس انکار کو ایک آمر کے خلاف حق کی آواز سمجھتے ہوئے ان کا ساتھ دیا۔ اسی تحریک کی وجہ سے ہی سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف کو جمہوری قوتوں کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے ملک میں انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔ اس طرح آمریت کے طویل دور کے بعد 2008 میں ایک بار پھر جمہوریت کا سورج طلوع ہوا۔ افتخار چوہدری کی آواز پر ابھرنے والی یہ طاقتور تحریک خود ان کی غلطیوں کی وجہ سے ہی بدنام ہوئی اور عدالت پر ایکٹو ازم کا الزام عائد ہوا۔ افتخار چوہدری بطور چیف جسٹس خود کو صرف کمرہ عدالت تک محدود نہ رکھ سکے اور ان کے فیصلوں پر سیاسی تعصب کا الزام بھی عائد ہوا۔ اس کے علاوہ اپنے بیٹے کی بداعمالیاں بھی ان کے نامہ اعمال کو سیاہ کرنے کا سبب بنیں۔ لیکن سب سے زیادہ نقصان ان کے اس گمان کی وجہ سے پہنچا کہ ملک میں آئین کی بالا دستی کی ساری ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

سیاستدانوں کی ”بدکاری“ کو کنٹرول کرنے اور بدعنوانی کا پردہ فاش کرنے کے زعم میں وہ خود کو پارلیمنٹ اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندوں سے بھی بالا سمجھنے لگے۔ یوں لگنے لگا تھا کہ صرف ایک شخص اس نظام کا سارا بوجھ سنبھالے ہوئے ہے۔ اس کی موجودگی میں نہ پارلیمنٹ اہم ہے اور نہ ہی حکومت کی کوئی حیثیت ہے۔ اگر اس رویہ کا اظہار تحریری فیصلوں کی صورت میں قانونی حوالوں کے ساتھ ہوتا رہتا تو خرابی کی زیادہ صورت پیدا نہ ہوتی۔ افتخار چوہدری نے اس مقصد کے لئے عدالتی آبزرویشن اور اجتماعات میں خطابات کو ذریعہ بنانا شروع کر دیا۔ اصول یہ ہے کہ ایک جج نہیں بولتا، اس کے فیصلے بولتے ہیں۔ افتخار چوہدری نے واضح کیا کہ خود راستی کے زعم میں ایک جج کسی بھی حد کو پھلانگ سکتا ہے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی جان سکتے ہیں کہ ماضی قریب کے اس المناک تجربے کے بعد اب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا سربراہ جب ایک شفیق رہنما اور مبلغ کا رول ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو احساس تحفظ سے زیادہ خوف اور سراسمیگی کی کیفیت جنم لیتی ہے۔ وگرنہ انسانی حقوق کی حفاظت ہو، آبادی پر کنٹرول کا سوال ہو، الزام تراشی سے گریز کا مشورہ ہو یا اردو زبان کے نفاذ کی خواہش …….. چیف جسٹس کی ہر بات سونے میں تولنے کے لائق ہے۔ بس ان سے یہ گزارش ہے کہ وہ ہیرے جواہرات میں تلنے والی یہ باتیں بتانے کے لئے اس وقت کا انتظار کر لیں جب وہ عدالت عظمیٰ کی سربراہی کسی دوسرے جج کے حوالے کر کے موجودہ عہدہ اور ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali