پختونوں کا بڑھتا ہوا عدم تحفظ اور ریاست کی خاموشی


گزشتہ روز دو واقعات ایسے ظہور پزیر ہوئے جن کی وجہ سے پختونوں میں بڑھتے ہوئے احساسِ عدم تحفظ کو مزید مہمیز ملی ہے۔ اس کے نتیجے میں نوجوان تعلیم یافتہ پختونوں میں غم اور غصے کی ایک شدید لہر پیدا ہوگئی ہے۔ جس کے مظاہر ہم سوشل میڈیا کی مختلف سائٹس پر بہ خوبی دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں ایک واقعہ تو کراچی کی ایک عدالت کی طرف سے معطل ایس ایس پی راؤ انور کی نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کیس میں ضمانت کی منظوری ہے جب کہ دوسرا واقعہ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی جلسے میں دھماکے کی وجہ سے پارٹی کے رہنما ہارون بلور سمیت 20 افراد کی شہادت اور 40 سے زیادہ افراد کے مجروح ہونے کا ہے۔

راؤ انور پر صرف نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کا الزام نہیں ہے بلکہ ان پر سیکڑوں افراد کے ٹارگٹ کلنگ کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اس قدر گھناؤنے جرائم کے باوجود اعلیٰ عدالت کی طرف سے پیشیوں کے دوران انھیں پروٹوکول دینا اور ان کے ساتھ خصوصی امتیازی سلوک روا رکھنا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی باقاعدہ پشت پناہی ہو رہی ہے۔ تحفظ کے نام پر ان کے گھر کو سب جیل قرار دے کر انھیں وہیں قید رکھنا اس شک کو یقین میں بدل دیتا ہے کہ انھیں کسی مقتدر ادارے کے دست شفقت کی سہولت حاصل ہے۔ اب 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے عوض انھیں ضمانت پر رہا بھی کردیا گیا۔ ایک ایسا شخص جو عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے ایک اہم منصب پر فائز تھا، اس پر سیکڑوں شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کرانے کا الزام ہے اور نقیب اللہ کے قتل کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ثنا اللہ عباسی نے بھی قرار دیا تھا کہ انھیں جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا، اس کے باوجود انھیں ہتھکڑی نہیں پہنانا اور انھیں بے گناہ انسانوں کے قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث ہونے کے باوجود خصوصی نرمی کا مستحق قرار دینا، نہ صرف اعلیٰ عدالتوں کے نظام انصاف پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے بلکہ عوام کو یہ تاثر بھی دیتا ہے کہ ریاستی قوانین صرف عام اور کمزور شہریوں کے لئے ہیں اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات قانون سے ماورا ہیں۔

میڈیا میں یہ بات بھی گردش کرتی رہی ہے کہ نقیب اللہ محسود کے والد کو نامعلوم نمبروں سے دھمکی آمیز فون بھی موصول ہوتے رہے ہیں اور انھیں اپنے بے گناہ بیٹے کو انصاف دلانے کی کوششیں ترک کرنے پر مجبور بھی کیا جاتا رہا ہے۔ ریاست تو ماں کی طرح ہوتی ہے۔ ماں اگر اپنی اولاد کو تحفظ اور شفقت کی گود فراہم نہیں کرسکتی تو اسے ماں کا درجہ نہیں مل سکتا۔ ہماری ماں اپنے مظلوم بچوں کو اوّل تو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے اور جب مظلوم بچے کو انصاف دلانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ مظلوم کی بجائے ظالم کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔

اب آتے ہیں دوسرے اندوہ ناک واقعے کی طرف۔ سکیورٹی اداروں اور حکومت کے دعوؤں کے باوجود ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات کا تسلسل اب بھی نہیں ٹوٹا ہے۔ اس کی زد میں مسلم و غیر مسلم، عوام اور سیاست دان اور سکول کے معصوم بچے تک آتے رہے ہیں لیکن امن کے دعوے دار اب بھی قیام امن کے کھوکھلے دعوؤں کے ذریعے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف ہیں۔ دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ اگر ہوجاتا ہے تو اس کی تمام تر ذمے داری سکیورٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ مختلف فوجی آپریشنوں، سیکڑوں چیک پوسٹوں اور سوات و قبائلی علاقوں میں لوگوں کو دربدر کرنے کے باوجود بے گناہ لوگ بم دھماکوں یا خود کش حملوں میں اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں لیکن ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام نظر آ رہی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ دہشت گردی اور شدت پسندی کن پالیسیوں کے نتائج ہیں جس میں بے گناہ لوگ مسلسل ہلاک ہو رہے ہیں۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ جو پالیسیاں ملک اور قوم کے لئے مہلک ثابت ہو رہی ہیں، انھیں ترک کیوں نہیں کیا جاتا؟ اور اب تک ان کی وجہ سے قومی وجود سے مسلسل جو خون رس رہا ہے، اس کے ذمے داروں کا تعین کرکے انھیں عبرت ناک سزائیں کیوں نہیں دی جاتیں؟

ان ہی پالیسیوں کے نتیجے میں گزشتہ روز عوامی نیشنل پارٹی کے ایک انتخابی جلسے میں خود کش یا بم دھماکے میں پارٹی کے جواں سال رہنما ہارون بلور سمیت 20 افراد شہید ہوگئے جب کہ چار درجن کے قریب لوگ زخمی ہوگئے۔ ہارون بلور عوامی نیشنل پارٹی کے سینئیر رہنما بشیر احمد بلور کے بیٹے تھے جو خود بھی 22 دسمبر 2012ء میں ایک جلسے میں خود کش حملے میں شہید ہوگئے تھے۔ ان کے علاوہ بھی 2013ء کے عام انتخابات میں اے این پی کے ایک سو سے زائد کارکنوں اور امیدواروں کو شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ انتخابات کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی انتخابی مہم آزادانہ طور پر جاری رکھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی جب کہ ان ہی انتخابات میں صوبے کے اندر تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کی انتخابی مہم نہ صرف کامیابی سے جاری تھی بلکہ ان کے لئے کسی قسم کے خطرات بھی موجود نہیں تھے۔ موجودہ خود کش یا بم دھماکے سے ایک بار پھر عوامی نیشنل پارٹی کو یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ وہ اس بار بھی اپنی انتخابی مہم آزادانہ طور پر جاری نہیں رکھ سکتی۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں