اصلی اورحقیقی جمہوریت کا افسانہ


fazle rabiایک بس ڈرائیور کے بیٹے صادق خان لندن جیسے تاریخی اور کثیرنسلی و کثیر مذہبی شہر کے پہلے مسلمان مئیر بن چکے ہیں۔ پچاسی لاکھ آبادی کے شہر لندن کا مئیربننا کوئی معمولی بات نہیں۔ زیک گولڈ سمتھ جیسے ارب پتی کے مقابلہ میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص (اور وہ بھی ایک پاکستانی نژاد مسلمان) کا برطانوی سیاست میں ایک اہم مقام حاصل کرنا اس اَمر کا ثبوت ہے کہ جمہوریت ہی وہ طرزِ حکومت ہے جس میں اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر ہر وہ شخص، جس کا تعلق خواہ معاشرے میں کسی بھی طبقے، نسل اور مذہب سے ہو، بلند مقام تک با آسانی پہنچ سکتا ہے۔ لیکن ایسا پاکستان جیسے ملک میں ممکن نہیں جہاں جمہوریت کے نام پر جمہوری آمریت قائم ہو۔ جہاں ایک شخص تین دفعہ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر جلوہ افروز ہو اور جس پر کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کے بے شمار الزامات لگ رہے ہوں۔ جس نے تمام اہم عہدوں پر اپنے قریبی دوست ا ور رشتے دار تعینات کئے ہوں۔ جو اپنی منتخب پارلیمنٹ میں جانے سے کتراتا ہو، جو قومی مفاد کے اہم فیصلے منتخب پارلیمنٹ سے بالا ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پرکرنے کا خوگر ہو۔ جو خود کو قولاً قائداعظم کا جانشین سمجھتا ہو لیکن عملاً اس میں قائد کی کوئی ایک خوبی بھی موجود نہ ہو۔ پارٹی کا عام کارکن تو ایک طرف اس کے ساتھ پارٹی کا کوئی منتخب ایم پی اے اور ایم این اے تک آسانی سے ملاقات نہیں کرسکتا ہو۔ ایسے ملک میں جمہوری ادارے کیسے پنپ سکتے ہیں، اس میں عوام کو اپنے جمہوری حقوق کیسے مل سکتے ہیں اور وہاں کی جمہوریت کو حقیقی اور اصلی جمہوریت کا نام کیسے دیا جاسکتا ہے؟

صادق خان اگر پاکستان میں ہوتے تو کیا مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی انھیں کراچی، لاہور، پشاور یا کوئٹہ جیسے کسی شہر میں مئیر منتخب ہونے کا موقع دیتی؟ انھیں بس ڈرائیور کا بیٹا سمجھ کر اپنی پارٹی میں کسی بھی اہم عہدہ کے قریب بھی پھٹکنے نہ دیتی۔ لیکن جمہوری اور مہذب معاشروں میں ایسا ممکن ہے اور برطانیہ میں جسے بجا طور پر جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کئی مسلمان جمہوری عمل کا حصہ بن کر پارلیمنٹ میں پہنچ چکے ہیں۔

اس وقت میاں محمد نواز شریف کو تیسری دفعہ پاکستان کے منتخب وزیرا عظم بننے کا موقع ملا ہے لیکن موٹر وے کے علاوہ ان سے منسوب کوئی دوسرا ایسا غیرمعمولی ترقیاتی کام وجود رکھتا ہے جس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی معیشت میں بہتری آئی ہو، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے مزید قرضہ لینا ممنوع قرار دیا گیا ہو، بجلی و گیس کا بحران حل کیا گیا ہو، ملک میں صنعتوں کو فروغ دیا گیا ہو، ہسپتالوں میں کوئی ایسی تبدیلی آئی ہو جس کی وجہ سے غریب عوام کے لیے جدید طبی سہولتوں کی فراہمی ممکن ہوئی ہو۔ جس میں تعلیم کے شعبہ میں کوئی انقلاب برپا ہوا ہو۔ امن و امان کی صورتِ حال مستقل بنیادوں پر بہتر ہوئی ہو۔ دور دراز کے علاقوں کو صاف پانی، صحت و تعلیم اور پختہ سڑکوں کی سہولتیں فراہم کی گئی ہوں۔ تیسری دفعہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کے نامۂ اعمال میں اگر خیر و فلاح کے یہ کام موجود نہیں تو وہ کس بنیاد پر وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر متمکن ہیں؟ ان کے پاس کون سا سیاسی، اخلاقی اور جمہوری جواز ہے جس کے بل پر وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

اگر تیسری دفعہ وزیراعظم منتخب نہ ہونے کی پابندی برقرار رکھی جاتی تو رولنگ پارٹی کی طرف سے شاید کوئی ایسا شخص وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر جلوہ افروز ہوتا جو اقتدار کو کم از کم اپنے خاندان کی لونڈی نہ سمجھتا۔ جس کا ضمیر اس قدر بھی مُردہ نہ ہوتا کہ جس پر پاناما پیپرز کے تحت الزامات لگتے، اسے اقربا پروری کا مجرم گردانا جاتا اور اس کے باوجود وہ اقتدار کی کرسی سے چمٹا رہتا۔ میاں صاحب پر جتنے سنگین الزامات آج لگ رہے ہیں، جمہوری قدروں اور اخلاقی جرأ ت کا تقاضا تو یہ ہے کہ انھیں وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے از خود استعفیٰ دینا چاہئے اور پارٹی میں کسی دوسرے اہل شخص کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے پیش کرنا چاہئے۔

وزیرا عظم نے پاناما لیکس کے الزامات کے جواب میں عوامی رابطہ مہم کاآغاز کردیا ہے لیکن اگر ان پر یہ الزامات نہ لگتے اور وہ اپوزیشن کے پریشر کا شکار ہوکر دفاعی پوزیشن میں نہ آتے تو کیا وہ عوامی رابطہ مہم شروع کرتے؟ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عوام سے رجوع کرتے؟ انھیں علم ہے کہ اس بار ان پر لگنے والے الزامات سنگین تر ہیں اور اپوزیشن پارٹیاں ان کا ساتھ اس طرح نہیں دے رہی ہیں جس طرح انھیں ان کا تعاون دوسرے بحرانوں میں حاصل تھا۔ اس دفعہ فوج نے بھی انھیں واضح انداز میں وارننگ دی ہے۔ گویا جمہوری آمریت قائم کرنے والے وزیراعظم اس بار بری طرح پھنس چکے ہیں۔

اصلی جمہوریت وہ ہے جس میں ایک ڈرائیور کا بیٹا لندن شہر کا مئیر بن سکتا ہو، جس میں اہم مناصب پر قریبی رشتے دار فائز نہ ہوں۔ اصلی جمہوریت وہ ہے جس میں حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، وہ اسٹیبلشمنٹ یا اپوزیشن کے خوف کا شکار نہ ہوں۔ اصلی جمہوریت وہ ہے جس میں عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں حاصل ہوں، جس میں وزیراعظم کے بچے بیرون ملک کاروبار اور آف شور کمپنیوں کے مالک نہ ہوں۔ اصلی جمہوریت وہ ہے جس میں میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے منصوبوں سے پہلے عوام کے بنیادی نوعیت کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دی جاتی ہو۔ حقیقی جمہوریت یہ نہیں ہے جس میں جمہوری بادشاہوں کی آمد و رفت کے لیے عوام کی زیر استعمال سڑکیں بند کی جاتی ہوں، حقیقی جمہوریت وہ ہے جس میں حکمران بھی عام شہری کی طرح ٹریفک سگنل کے گرین ہونے کا انتظار کرتے ہوں اور جس میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ہر سڑک میں مخصوص بس لائن موجود ہو۔

ہمارے ہاں فوجی آمریت تو آسکتی ہے، جمہوریت کے نام پر بادشاہوں کا راج قائم تو ہوسکتا ہے لیکن اصلی اور حقیقی جمہوریت سے ہم ابھی کوسوں دور ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “اصلی اورحقیقی جمہوریت کا افسانہ

  • 08-05-2016 at 4:20 pm
    Permalink

    ha ha ha …………bughzey nwaaz

Comments are closed.