انڈیا: کیا بچوں کے خلاف جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں؟

دیویا آریہ - بی بی سی، دہلی


انڈیا

BBC
ریپ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے

انڈیا میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایسی خبریں ہر دوسرے ہفتے شہہ سرخیوں میں ہوتی ہیں جس سے لوگوں میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

جون میں وسطی انڈیا میں سینکڑوں لوگ ایک سات سالہ بچی کے ساتھ ریپ کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

کیا بچوں کے جنسی استحصال میں واقعی اضافہ ہوا ہے یا پھر ایسا صرف اس لیے نظر آتا ہے کہ اب زیادہ واقعات سامنے آنے لگے ہیں؟

خیال رہے کہ انڈیا میں 18 سال سے کم عمر کے افراد کو بچوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

انڈیا میں تیزی سے بڑھتے میڈیا سیکٹر میں اس پر زیادہ رپورٹنگ سے اب ایسی خبریں زیادہ منظر عام پر آنے لگی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

انڈیا: ریپ معاشرے کی بےحسی کا عکاس

اس کے علاوہ ریپ کی قانونی تشریح میں بھی تبدیلی آئی ہے اور اب پولیس پر یہ لازمی ہے کہ وہ جنسی استحصال کی شکایات درج کرے۔

جزوی طور پر بچوں کے جنسی استحصال پر بحث کی یہ تازہ لہر انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر میں رواں سال کی ابتدا میں ایک آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل کے بعد شروع ہوئی تھی۔

اس واسعے کے ملزموں کے خلاف سماعت اپریل میں شروع ہوئی اور اس کے بعد بچوں کے جنسی استحصال پر وسیع تناظر میں بحث کی ابتدا ہوئی۔

میڈیا

BBC
میڈیا کی توجہ کی وجہ سے بھی ریپ کے واقعات منظر عام پر آ رہے ہیں

انڈیا میں خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر مینکا گاندھی نے کہا کہ وہ کشمیر اور دوسری جگہوں پر ہونے والے ریپ کے واقعات سے ’شدید پریشان‘ ہوئی ہیں۔

عوام کی بڑھتی ہوئی تشویش اور خدشات کے پیش نظر انڈیا کی حکومت نے 12 سال سے کم عمر کے بچوں کے ساتھ ریپ کے مرتکب افراد کے لیے سزائے موت تجویز کی ہے۔

قانون میں تبدیلی

حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں (2012 سے 2016) میں بچوں کے خلاف ہونے والے ریپ کی شکایات دگنی ہو گئی ہیں۔

سنہ 2012 سے قبل بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف کوئی مخصوص قانون نہیں تھا۔

بچوں کے ساتھ ہونے والے بہت سے ممکنہ اور عام جنسی تشدد کے مختلف جرائم کا اس میں ذکر نہیں تھا اور پولیس پر تشدد کے شکار ہونے والوں کی شکایت درج کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

انڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوال

بچوں کو جنسی استحصال سے تحفظ فراہم کرنے والا نومبر سنہ 2012 کا تاریخ ساز قانون انڈیا کا پہلا جامع قانون بنا جس میں بچوں کے جنسی استحصال کا خصوصی ذکر ہے۔

اس قانون کے بعد پہلے ہی سال بچوں کے جنسی استحصال کی شکایات میں 45 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ نئے قانون میں ہر جنس مساوی ہے اور اس میں جنسی استحصال کے مختلف جرائم کا ذکر ہے۔

دہلی

AFP
سنہ 2012 میں دہلی کی چلتی بس ایک طالبہ کے ساتھ ریپ کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی واقعے کو رپورٹ نہ کرنا یا اسے درج نہ کرنا بھی جرم ہے جس میں جرمانہ اور قید دونوں شامل ہیں۔

ممبئی کے مجلس لیگل سینٹر کی آڈری ڈی میلو کہتی ہیں کہ ’اب ڈاکٹر اور پولیس کسی واقعے کو گھریلو واقعہ کہہ کر خارج نہیں کر سکتے کیونکہ ایسا کرنے سے انھیں جیل ہو سکتی ہے۔‘

یہ مرکز جنسی تشدد کے شکار لوگوں کو تعاون فراہم کرتا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ شکایت درج کرنے کو ضروری بنا دینا رپورٹ کیے جانے والے واقعات میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔

دسمبر 2012 میں دارالحکومت دلی میں ایک چلتی بس پر ایک طالبہ کے ساتھ ہونے والے اجتماعی ریپ نے انڈیا میں ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات پر عالمی توجہ مرکوز کی تھی اور اس طرح کے جرائم کی تحقعقات میں پولیس کے کردار پر بھی توجہ دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: ریپ کے بعد متاثرہ لڑکی کو جلا دیا گیا

انڈیا کے ’ریپ گرو‘ کے شاہانہ محلات: تصاویر

اس کے فوراً بعد حکومت نے ایک آرڈینینس کے ذریعے خواتین کے خلاف جنسی تشدد کی وسیع تشریح و توضیح کی تھی۔

اس کے اثرات واضح تھے کہ سنہ 2012 کے مقابلے میں سنہ 2013 میں رپورٹ کیے جانے والے واقعات میں 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی استحصال اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

انڈیا

Getty Images
ریپ کے واقعات میں سزا کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا ہے

سنہ 2007 میں خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت نے ایک سروے کرایا تھا جس میں انڈیا کی 13 ریاستوں سے 17 ہزار سے زیادہ بچوں نے شرکت کی تھی۔

سروے میں شرکت کرنے والے بچوں میں نصف سے زیادہ (2۔53 فیصد) بچوں نے کہا کہ انھیں ایک یا ایک سے زیادہ اقسام کے جنسی استحصال کا سامنا رہا ہے۔

حق سینٹر آف چائلڈ رائٹس کے ایک وکیل کمار شیلبھ نے کہا کہ اس سروے سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیا میں جنسی استحصال کی بہت کم رپورٹنگ ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2012 کے قانون میں رضامندی سے سیکس کرنے کی عمر 16 سے بڑھا کر 18 سال کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے اس کے درمیان کی عمر کے لوگوں کے درمیان رضامندی سے ہونے والا جنسی فعل بھی جرم کے زمرے میں آ گیا ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: ریپ کی متاثرہ خاتون دو سال بعد بھی انصاف کی منتظر

ٹیچر نے ریپ کر کے اسقاط حمل بھی کروا دیا

والدین نے ’بیٹی کا ریپ کرنے والے ملزمان کو پکڑ لیا‘

بچوں کے ریپ کی شکایات میں اضافے کے باوجود سزا کی شرح میں اضافہ نہیں دیکھا گیا ہے اور سنہ 2012 سے یہ 2۔28 فیصد ہے۔

سنہ 2012 کے قانون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے مقدمات کو ایک سال کے اندر مکمل کیا جانا ہے۔ لیکن اس کی شاذونادر ہی پابندی کی جاتی ہے کیونکہ یہاں کا قانونی نظام سست روی کا شکار ہے۔

جہاں جنسی استحصال کرنے والا رشتہ دار یا گھر کا فرد ہے وہاں جنسی استحصال کے شکار پر شکایت واپس لینے کا شدید دباؤ رہتا ہے۔

’گھر کی عزت‘ کی خاطر گھر کے فرد کے خلاف لوگ شکایت کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔

ڈی میلو کہتی ہیں: ’جہاں شکایت ہوتی ہے وہاں بھی ایک خاموش کوشش رہتی ہے کہ جرم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمہ نہ ہو۔ نظام شکایت کرنے والے کے خلاف کام کرتا ہے اور اکثر جھوٹا الزام لگانے کی بات ثابت ہوتی ہے۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5704 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp