جُگنو


1-yasir-pirzada ’’ہمارا نظام ان گلے سڑے پھلوں کی طرح جس کو سُنڈیاں کھا رہی ہیں ، اس نظام سے بھلائی کی امید رکھنا ایسے ہی ہے جیسے فالج کے مریض سے امید رکھنا کہ وہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرے گا ، اس نظام میں کسی غریب کا بیٹا اوپر نہیں آسکتا ، اس نظام کو جمہوریت کہنے والوں کو جہالت کا طلائی تمغہ دینا چاہیے، اگر یہ جمہوریت ہے تو لعنت ہے ایسی جمہوریت پر ، جب تک اس نظام کو تیزاب سے نہیں دھویا جائے گا ، کرپشن کرنے والوں کو چوراہوں پر پھانسیاں نہیں دی جائیں گی ، ووٹوں کا فراڈ ختم نہیں کیا جائے گا تب تک یہ ملک ترقی نہیں کر سکے گا ، ہم میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے مگر یہ نظام ہم جیسے لوگوں کو اوپر آنے سے روکتا ہے ، اس لئے ہم اسے تبدیل کرنا چاہیے ! ‘ ‘ یہ  ہے ہمارے ملک میں جمہوریت کے خلاف مقدمے کا خلاصہ۔

        اپنی روز مرہ گفتگو میں چند باتیں ہم نے فرض کر لی ہیں ۔مثلا ، ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ پاکستان میں کسی قسم کا کوئی سسٹم کام نہیں کر رہا ، ہم نے فرض کر لیا ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کے پاس ہی اصل طاقت ہے اور چونکہ وہ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں اس لئے ہر خرابی کے ذمہ دار وہی ہیں اور اس  بات کے اظہار کے لئے ضروری ہے کہ انہیں گند ی گالیاں دی جائیں، ہم نے فرض کر لیا ہے کہ ہمارے جمہوری نظام میں کوئی مڈل یا لوئر مڈل کلاس کا شخص انتخاب لڑ کر اوپر نہیں آسکتا ، ہم نے فرض کر لیا ہے کہ تمام انتخابی سیاست صرف اور صرف جاگیر داروں ، وڈیروں ، سرداروں اور سرمایہ داروں کی جیب میں ہے ، ہم نے فرض کر لیا ہے کہ ہم ٹیلنٹڈ ہیں اور یہ فرسودہ نظام ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے  ، ہم نے فرض کر لیا ہے کہ پاکستان میں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا ، کسی منصوبے میں شفافیت نہیں ہوتی اور کوئی تقرری میرٹ پر نہیں ہوتی اورہم نے فرض کر لیاہے کہ صرف کرپشن ہی تمام مسائل کی جڑ ہے ۔ ان مفروضوں کے پیچھے دراصل وہ تمام خرابیاں جو ہم روزانہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، ہم دیکھتے ہیں کہ  ہسپتالوں میں ایک بستر پر تین تین مریض تڑپتے ہیں   ، سرکاری دفاتر میں لوگ  مارے مارے پھرتے  ہیں ، اربوں کی کرپشن کی خبریں میڈیا پر سنتے ہیں ، کسی با اثر آدمی کی ویڈیو دیکھتے ہیں جس میں وہ ایک کانسٹیبل کو تھپڑ مارتا دکھائی دیتا ہے اور پھر بین الاقوامی میڈیا میں دیکھتے ہیں  کہ کیسے ایک غریب ٹرک ڈرائیور کا بیٹا لندن کا مئیر منتخب ہو جاتا ہے ۔ یہ تمام باتیں  ایسی غلط بھی نہیں لہذا ہتھوڑے کی طرح دماغ پر برستی ہیں تاہم  یہ سب باتیں درست ہونے کے باوجود تھری ڈی تصویر کا صرف ایک رُخ ہیں ۔

         لندن کے مئیر کی مثا ل  لیتے ہیں جس کے بارے میں شدو مد سے کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ پاکستان میں ہوتا تو ہار جاتا ۔ جُگنو محسن ، پاکستان کا جگمگاتا ستارہ ہیں ، مچلز فارم والے محمد محسن کی صاحبزادی ، سید سجاد کرمانی کی بھتیجی، سید مراتب علی کی نواسی اور نجم سیٹھی صاحب کی بیوی۔ اس تعارف کا مقصد قطعا یہ باور کروانا نہیں کہ جُگنو محض اپنے آبا ؤ اجداد کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں ، وہ اپنی ذات میں انجمن ہیں اور یہ ان کی شخصیت کا فقط ایک پہلو ہے ، ان کے صحافتی اور علمی تعارف کے لئے  چونکہ یہاں جگہ محدود ہے سو ہم اسے چھوڑ کر ان کی شخصیت کے تیسرے پہلو کی طرف بڑھتے ہیں جو حال ہی میں میرے علم میں آیا۔جگنو محسن کا آبائی گاؤں شیر گڑھ  ہے  جو رینالہ خورد اوکاڑہ سے پندرہ کلو میٹر پرے واقع ہے ، یہاں وہ  اپنے ابا کا  قائم کردہ ایک ٹرسٹ گزشتہ آٹھ برس سے چلا رہی ہیں، اس ٹرسٹ کے زیر سایہ اس وقت ۳۲ سکول کام کرہے ہیں جن میں چار ہزار بچے بہترین تعلیم حاصل کر رہے ، واضح رہے کہ گاؤں کی آبادی فقط پچیس ہزار ہے ۔لیکن اس کاوش کی اصل خوبصورتی   جگنو کی وہ روشنی ہے جو انہوں  نے empowerment کی شکل میں یہاں پھیلائی ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے یونین کونسل سے ایک ایسے  غریب شخص کو انتخاب لڑوایا جو مشکل سے دو تین قلعے زمین کا مالک تھا ، اس کے مد مقابل روایتی پیر برادری کے تگڑے امیدوار تھے جن کے پاس حکومتی پارٹی کا ٹکٹ تھا ، اس کے باوجود قلعہ دیوان سنگھ جیسے چھوٹے سے گاؤں کے ’’جاہل عوام ‘ ‘ نے پیری مریدی ، ذات برادری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس غریب آدمی کو جتاوا دیا دیا جوروایتی سیاست کے منہ پر ایک طمانچہ تھا۔دوسری یونین کونسل شیر گڑھ کی تھی ، یہ وہ علاقہ تھا جہاں سے جگنو محسن کا اپنا بھتیجا ایم این اے تھا ، اس کے دھڑے کے  مقابل انہوں نے ایک غریب قصائی کے بیٹے کو جو پڑھ لکھ کر وکیل بن چکا تھا ، الیکشن لڑوایا او ر وہ بھی جیت گیا جبکہ مد مقابل کے پاس حلومتی پارٹی کا ٹکٹ تھا۔یہ پنجاب کے  صرف  دو دیہات کی کہانی نہیں، اگر ۱۹۸۵ سے لے کر اب تک کے انتخابات کا تجزیہ کیا جائے تو ہمیں علم ہو گا کہ کیسے آہستہ آہستہ جاگیر داروں اور وڈیروں کی ’’پاکسٹس ‘ ‘ میں کمی آئی اور ان کی جگہ مڈ ل کلاس کے لوگ اسمبلیوں میں پہنچے ، اگر ہمارے ’’ٹیلنٹڈ ‘ ‘ نوجوانوں کے پاس فرصت ہو تو وہ اس موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ قلم بند کر سکتے ہیں  جس سے پتہ چلے گا کہ ’’اگر صادق خان پاکستان میں ہوتا تو ہار جاتا ‘ ‘ والا مفروضہ درست  نہیں ۔

        جمہوریت اور اس نظام کے خلاف نفرت کو سمجھنا کچھ مشکل کام نہیں کیونکہ اس نظام کی خرابیاں ہمارے ارد گرد  بکھری پڑی ہیں جس کی وجہ  سے  جمہوریت کا مقدمہ لڑنا مشکل ہو جاتا ہے ، رہی سہی کثر وہ گالیاں پوری کر دیتی ہیں جو ’’پڑھے لکھے عوام ‘ ‘  اس نظام سے نفرت کی وجہ سے اُن لوگوں  کو دیتے  ہیں جو  اس لاغر جمہوری نظام کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں  ۔مغالطہ اس میں یہ ہے کہ ہمیں سرکاری ہسپتالوں میں تین تین مریض تو تڑپتے نظر آتے ہیں مگر یہ نظر نہیں آتا کہ لندن کے گائز ہسپتال کا بجٹ پورے پنجاب کے صحت کے ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہے ، ہمیں ویسٹ منسٹر ڈیموکریسی کی روایات تو نظر آتی ہیں جنہیں ہم اپنے یہاں اپنانا چاہتے ہیں مگر یہ نظر نہیں آتا کہ برطانوی جمہوریت میں کسی طالع آزما کا شب خون مارنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، ہمیں وہ سہولیات تو نظر آتی ہیں جو مغربی ممالک اپنے شہریوں کو فراہم کرتے ہیں مگر یہ نظر نہیں آتا کہ ان سہولیات کے بدلے وہ اپنے عوام سے کتنا ٹیکس وصول کرتے ہیں جبکہ  ہم ریاست کو کیسے بیوقوف بناتے ہیں ، ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ اس ملک میں سیاست دان ووٹ لے کر منتخب ہوتے ہیں لہذا انہیں گالیاں دے کر ’’بیباک تجزیہ نگار ‘ ‘   کا لیبل لگوا لینا چاہیے مگر یہ نظر نہیں آتا کہ جب جمہوریت کا تختہ الٹا جاتا ہے تب  ان’’ بیباک تجزیہ نگاروں ‘ ‘ کی مردانگی کہاں گھاس چرنے چلی جاتی ہے ، ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ کیسے  بپھرا ہوا سیاست دان ایک کانسٹیبل کو رعونت میں تھپڑ رسید کرتا ہے مگر اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت پر ہا ہا کار مچانے  والے آئین کی پامالی کو کسی کھاتے میں  ہی نہیں ڈالتے  اور فورا آمریت کی ہاتھوں پر بوسہ دینے کے لئے بیقرار رہتے ہیں ، ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ محکموں  میں تقرریاں میرٹ پر نہیں ہوتیں مگر یہ نظر نہیں آتا کہ خود ہمیں نوکری عین میرٹ پر ہی ملی تھی !

        جو لوگ رات دن اس نظام کے خلاف نفرت ابلتے ہیں، ان کی حب الوطنی اور درد مندی پر مجھے کوئی شک نہیں کہ خود میں بھی اس نظام کو بہتر سے بہتر دیکھنا چاہتا ہوں مگر ایسے لوگوں سے التماس ہے کہ اس نظام اور اس کا دفاع کرنے والے لکھاریوں کو ماں بہن کی گالیاں دینے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک کر صرف یہ دیکھ لیں کہ کہیں  خود آپ بھی  اس نظام کے beneficiaryتو نہیں ! اگر ایسا ہے تو جُگنو کی طرح روشنی پھیلائیں ، گالیاں دینے سے جہالت ہی پھیلے گی ۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “جُگنو

  • 08-05-2016 at 1:52 pm
    Permalink

    جیتے رہو یاسر پیرزادہ! اسے کہتے ہیں ترکی بہ ترکی جواب دینا، فرض کرنے سے کرنے تک کے عمل بارے۔

  • 09-05-2016 at 11:19 am
    Permalink

    Very impressive and motivating.

Comments are closed.