دانیال بلور نے والد کی میت لانے والی ایمبولینس پر بیٹھ کر سرخ پوش عزم و ہمت کی لاج رکھی


 

 ہارون بلور شہید کی میت لے جانے والی ایمبولینس پر بیٹھے ان کے بیٹے دانیال بلور’’زندہ ہے بلور زندہ ہے‘‘کے نعرے لگاتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات پشاور کے علاقہ یکہ توت میں اے این پی کی کارنر میٹنگ میں خودکش حملے کے نتیجے میں اے این پی کے رہنما اور انتخابی امیدوار ہارون بلور سمیت 20 افراد شہید ہو گئے۔

سکیورٹی اداروں کے مطابق خودکش حملہ آور کا ٹارگٹ ہارون بلور تھے۔ دھماکے کے بعد اطلاعات آئیں کہ ہارون بلور کے بیٹے دانیال بلور بھی اپنے والد کے ساتھ اس خودکش حملے میں جام شہادت نوش کر گئے ہیں تاہم بعد میں یہ خبر غلط نکلی اور بلور خاندان کی جانب سے اس خبر کو غلط قرار دیتے ہوئے دانیال بلور کے محفوظ رہنے کا اعلان کیا گیا۔ خودکش حملے کے وقت دانیال بلور اپنے والد کے ساتھ نہیں تھے بلکہ وہ دھماکے سے کچھ دیر بعد جائے وقوعہ پر پہنچے اور ہارون بلور کی میت لے جانے والی چھت پر بیٹھ گئے اور اس موقع پر نوجوان دانیال بلور نے عزم و ہمت کی مثال قائم کرتے ہوئے والد کی میت لے جانے والی ایمبولینس کی چھت سے ’’زندہ ہے بلور زندہ ہے‘‘کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ عوام دانیال عزیز کے جذبے اور ہمت و حوصلے کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں جنہوں نے اس موقع پر بھی ہمت اور حوصلہ قائم رکھتے ہوئے والد کو مشن کو جاری رکھا۔

 ہارون بلور کے صاحبزادے دانیال بلور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بھی اپنے والد کے ساتھ شانہ بشانہ جلسوں میں کھڑا ہوتا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں آج اپنے والد ہارون بلور کےساتھ نہیں تھا۔ دانیال بلور نے کہا کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ سے 2،4 منٹ پہلے میرے ایک دوست کو ان کا فون آیا، میں اس وقت اپنے دوست کے ساتھ ہی موجود تھا، انہوں نے فون پر کہا کہ 11 بج گئے ہیں تم لوگ آ جاؤ۔ ہم وہاں سے نکلے اور جلسہ گاہ کی طرف جا ہی رہے تھے کہ 2 منٹ کے اندر اندر دھماکہ ہو گیا جس کی اطلاع ہمیں راستے میں ملی اور ہم نے اپنا رخ لیڈی ریڈنگ اسپتال کی جانب موڑ لیا۔

 دانیال بلور نے اے این پی کے ورکرز اور پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ فوج اور سکیورٹی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ورکرز ، پاکستانی عوام اور فوج کے ساتھ تمام سکیورٹی اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں آپ کا احسان نہیں اُتار سکتا لیکن یہ بات میں ضرور آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ شہید بشیر بلور اور شہید ہارون بلور کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میری جان بھی اگر اس شہر پشاور اورپاکستان اور اس کے عوام کے لیے کیلئے حاضر ہے اور میرا بھی خون حاضر ہے۔

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں