پلاسٹک کے گڈے اور خلائی مخلوق کا خوف


ہاشم الغائلی نام کے کوئی شخص ہیں، نہیں معلوم نام اصلی ہے یا فرضی مگر وہ سوشل میڈیا پر “میں نے آج پڑھا ” کے عنوان سے سائنسی تحقیقات کا نچوڑ بہت خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں۔ موضوعات متنوع ہیں۔ کائنات کے رازوں سے لے کر جانداروں کی عادات تک۔ ایک پوسٹ میں بتایا گیا:

 ” مکڑیاں پوری بنی نوع انسان کو محض ایک سال میں ہڑپ کر سکتی ہیں پھر بھی اپنی شدید گرسنگی کے سبب بھوکی رہیں گی۔ ایک تحقیق سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا بھر کی مکڑیوں کی سالانہ خوراک چالیس کروڑ سے اسی کروڑ ٹن تک ہے جبکہ روئے ارض پر موجود بالغ انسانوں کا کل وزن تقریباً اٹھائیس کروڑ ستر لاکھ ٹن بنتا ہے چنانچہ اگر مفروضہ طور پر دنیا بھر کی مکڑیاں انسانوں پر پل پڑیں تو وہ پوری بنی نوع انسان کو ایک سال میں چٹ کر سکتی ہیں۔ اگر ہم دنیا بھر کے بچوں کا وزن بھی جو تقریباً سات کروڑ ٹن ہوگا، شامل کر لیں ، تب بھی یہ مقدار دنیا بھر کی مکڑیوں کی مجموعی سالانہ خوراک کی مقدار سے کم ہو گی۔ روئے ارض پر موجود تمام انسان ہر سال تقریباً چالیس کروڑ ٹن گوشت اور مچھلیاں کھاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق دنیا کی ساری مکڑیوں کی سالانہ خوراک کچھ اتنی ہی بنتی ہے۔ اس وقت دنیا کی آبادی سات ارب ساٹھ کروڑ نفر ہے جب کہ دنیا میں مکڑیوں کی تعداد کہیں 21 کواڈریلین ہے یوں 28 لاکھ مکڑیوں کے حصے میں ایک انسان آتا ہے۔ سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ دنیا بھر کی مکڑیوں کا مجموعی وزن ڈھائی کروڑ ٹن ہے۔ چالیس کروڑ برس پہلے روئے زمین پر نمودار ہونے والی یہ مخلوق دنیا کی مستعد ترین شکاری ہے جو اپنے حجم کے لحاظ سے مچھر مکھی سے لے کر مینڈک اور چھپکلیوں تک کو اپنے جال میں پھنسا کر مار دیتی ہے اور چٹ کر جاتی ہے”۔

مگر میں اس بات سے خائف نہیں ہوا کیونکہ ساری دنیا کی مکڑیاں کبھی اکٹھی ہو کر انسانوں پر حملہ آور نہیں ہوں گی۔ بفرض محال ہو بھی گئیں تو کیمیائی ہتھیار کس روز کام آئیں گے۔ یہ اور بات کہ عہد موسٰی میں مصریوں پر نازل کیے گئے چار نوع کے عذابوں کی طرح عالم انسانیت پر مکڑیوں کی بالا دستی کا عذاب نازل ہو جائے۔

میں ڈرتا ہوں تو ان ہونیوں سے کہ کہیں انہونی ہونی میں نہ بدل جائے۔ مثال کے طور پر میرے گھر میں ایک گڈا ہے۔ پلاسٹک کے اس گڈے کی عمر 44 برس ہے۔ اسے میری بیوی نے اپنی بیٹی کے لیے تب خریدا تھا جب وہ جرمنی میں مقیم تھیں، تب ان کی بیٹی کی عمر ایک برس تھی۔ پھر اس گڈے سے ہماری نواسی کھیلی۔ ظاہر ہے مجھے اس گڈے سے ڈرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اینگیلینا سے مجھے بہت پیار رہا، اب وہ خود بیاہ کی عمر کو پہنچ چکی ہے۔ مجھے یہ گڈا البتہ اچھا کبھی نہیں لگا، پتہ نہیں کیوں۔ اب یہ گڈا ہماری پوتی کو پسند ہے جو اگرچہ سکول جانے کی عمر کی ہو گئی ہے اور اپنے والدین کے ساتھ دور ایک شہر میں رہتی ہے مگر جب آتی ہے تو اپنے گڈے کا ضرور پوچھتی ہے۔

 ہمارے اپارٹمنٹ کا ایک حصہ آئینوں والے سلائیڈنگ ڈورز سے بند ہوتا ہے جن کے پیچھے کپڑے ٹانگنے اور گھر کا استعمال نہ ہونے والا سامان رکھنے کو جگہیں ہیں۔ مجھے کپڑے بدلنے کو دن میں دو سے زیادہ بار اس جگہ جانا ہوتا ہے۔ پھر ایک روز میں نے ایک ہولناک فلم دیکھ لی جس میں بھوت گڑیا یا گڈا تھا۔ اس کے بعد مجھے اس گڈے سے ڈر لگنے لگا کہ کہیں بولنے نہ لگ جائے، کہیں الماری سے کود کر نیچے نہ آ جائے، کہیں چلنا شروع نہ کر دے۔

 میری بیوی میرے وہم کا سن کے جھنجھلا اٹھتی ہے پھر اسے کہیں چھپا دیتی ہے مگر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسی جگہ کہیں ہے۔ رات بھی میں نے کتابوں کا ایک بنڈل اس کے آگے اڑسا۔ ارے رات کہاں کل شام۔ رات کو تو میں اوپر دیکھتا بھی نہیں، وہاں جا کر ضروری ملبوس پہنتے ہوئے میرے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور میں آدھا لباس اس جگہ سے باہر نکل کر ہی پہنتا ہوں۔ اپنے آپ پر خود ہنستا ہوں کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے مگر ڈر بہر طور لگتا ہے۔ میں سلائیڈنگ ڈور بند کر دیتا یوں اور جانتے ہوئے کہ اس کے کھلنے سے چرچراہٹ نہیں ہوتی، ڈرانے والی فلموں میں چرچراہٹ کے ساتھ کھلتے دروازے کی طرح اس کے کھلنے کا منتظر رہتا ہوں۔

 ویسے دروازہ بند کرکے خاصا مطمئن ہو جاتا ہوں حالانکہ اگر کوئی ماورائی مخلوق ہو تو وہ دروازہ کھول بھی سکتی ہے اور بغیر کھولے بھی سامنے آ سکتی ہے۔ یہ ڈر رات کا اندھیرا اور خامشی شروع ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ فٹ بال کا میچ چل رہا ہو تو میں اس ڈر سے بے نیاز ہو جاتا ہوں مگر میچ ختم ہونے کے بعد پھر ڈر شروع۔ ایک رات تنگ آ کے میں نے دروازہ کھلا رکھا مگر بالآخر بند کر دیا کیونکہ ڈر لہر کی طرح گھٹتا بڑھتا رہا۔ کل اس گڈے پر نگاہ پڑی جو بیچارہ دو اٹیچی کیسوں کے درمیان اوندھا پڑا تھا تبھی اس کے آگے کتابوں سے بھرا پلاسٹک بیگ رکھ دیا جیسے وہ نکلنے سے پہلے کتابیں نیچے گرائے گا۔ اگر گرا بھی دے تو مجھے کونسا فائدہ، میں تو کتابیں گرتے ہی شاید بیہوش ہو جاؤں یا باہر کو دوڑ لگا دوں۔

 آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ میں کس قدر ڈرپوک ہوں مگر سچ مچ کیا آپ کو کبھی ڈر نہیں لگا۔ ڈر تو انسان کے اندر ہوتا ہے جسے انگیخت درکار ہوتی ہے جیسے میں نے فلم دیکھ کر ڈر تخلیق کیا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ڈر درحقیقت ہمارے آباء کو درپیش خطرات سے چونکنے کی ایک شکل ہے جو ڈی این اے کے ذریعے ہم تک منتقل ہوئی ہے۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ڈر اندھیرے، خامشی اور تنہائی سے اجاگر ہوتا ہے اگر ان میں سے ایک بھی دور کر دیا جائے تو ڈر کم ہو جاتا ہے۔

 ڈرنا بری بات نہیں کیونکہ یہ جینے کی خواہش کو بڑھاتا ہے، مزاحمت کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ مگر ڈر ہوتا کس بات کا ہے؟ موجود ہیبتوں سے ماورائی ہیبت تک ڈرنے کی وجہ ایک ہی ہے یعنی نقصان ہونا۔ کسی بھی طرح کا۔ بہت زیادہ گھبرا جانے کی صورت میں بوکھلانا یا بیہوش ہو جانا، جسمانی اذیت پہنچنے کی صورت میں، مر جانے کی صورت میں، مالی یا اخلاقی گزند پہنچنے کی صورت میں۔ ڈر پیدا بھی کیے جاتے ہیں اور طاری بھی کیے جاتے ہیں۔

خوف اور لالچ پر دنیا تو دنیا، آخرت کا بھی دارومدار ہے۔ یہ کہنا کہ مت ڈرو، بالکل بیکار بات ہے۔ ہر شخص ہر شے سے نہیں ڈرتا اور کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو کسی بھی چیز سے نہ ڈرتا ہو، کسی نہ کسی سے تو وہ ڈرے گا ہی۔ کم یا زیادہ۔ ڈر پر قابو بھی پایا جا سکتا ہے اور قابو پانے کی کوشش میں ڈر فزوں تر بھی ہو سکتا ہے۔ آپ میں سے اکثر نے چین کے پہاڑوں میں بنے شیشے کے پل کی وڈیو دیکھی ہوگی جس پر سے کچھ ہنستے ہوئے گذرتے ہیں۔ کچھ کنارہ پکڑ کر ڈرتے ہوئے گذرتے ہیں۔ کچھ رینگ کر چیختے ہوئے اور کچھ کو تو بس کھینچ کر لے جایا جاتا ہے۔ وہ سارے کے سارے نہ صرف عجوبہ دیکھنے آتے ہیں بلکہ اپنے ڈر کا اندازہ لگانے اور ڈر سے نبرد آزما ہونے کے لیے بھی پہنچتے ہیں۔

 آج کل پاکستان میں خلائی مخلوق سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ اول تو خلائی مخلوق تاحال کوئی سامنے آئی نہیں اگر کوئی ہے تو وہ خلائی نہیں، غیر مرئی ہو سکتی ہے اور غیر مرئی بھی اس لیے کہ لوگوں نے مارے ڈر کے ان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے سے گریز کرنے کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ ایک زمانے میں لوگ کے جی بی کو نام سے نہیں پکارتے تھے۔ اس کے لیے یا تو اسی طرح کے نام رکھے ہوتے تھے یا مناسب یہی سمجھا جاتا تھا کہ منہ بند رکھا جائے۔ بہت خوف کی فضا میں ایسے ہی رویے اختیار کیے جاتے ہیں۔ دروازہ بند کرکے بھی اس کے چرچراہٹ کے ساتھ کھلنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ خلائی مخلوق تو دروازہ کھول کر یا دروازہ توڑ کر آ سکتی ہے اور اپنے بارے میں بک بک کرنے والے کو غائب بھی کروا دیتی ہے۔ اللہ جنوں سے اور انسان نما خلائی مخلوق کے غیظ سے ہر شخص کو محفوظ رکھے۔ میرے لیے دعا کیجیے کہ میں نہ ڈروں۔ میں نے ابھی ابھی اس گڈے کو ٹھانے کے لیے غلطی سے الماری کے نچلے حصے پر پاؤں رکھ کر تختہ بھی توڑ دیا، اب گڈے سے زیادہ بیوی سے ڈر ہے۔ گڈے نے آنکھیں جھپکائیں اور جب اسے واپس ڈالا تو اس کا ایک بازو کھٹ سے پہلو میں گرا۔ ویسے یہ مخلوقات ہوتی گڈوں کی مانند ہیں۔ بس ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی ہمت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں