منزل نہ دے، چراغ نہ دے، حوصلہ تو دے


Kashif Rafiqueہمارے بہت سے سینئیر کالم نویس جن کا تجربہ اور مشاہدہ یقینی طور پر ہماری عمر سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہو گا شدید ترین جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔ ایک تواتر کے ساتھ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر ان کے تجزیوں اور تبصروں سے جو تاثر قائم ہو رہا ہے اس کا لب لباب کچھ یوں ہے؛ عوام نے تمام سیاسی جماعتوں کو مسترد کر دیا ہے، کم و بیش تمام ہی سیاستدان کرپٹ اور نوٹ چھاپنے میں مصروف ہیں، زندگی کے کسی شعبہ میں حکومت کی عملداری نظر نہیں آتی، افراتفری کا عالم ہے، معاشرہ زبوں حالی کا شکار ہے، قومی ادارے تباہ ہو چکے ہیں جو اب تک نہیں ہوئے وہ بس ہونا ہی چاہتے ہیں، عوام جاہل ہیں اور ان کے منتخب نمائندے ابو جاہل، کچھ بھی ٹھیک نہیں، سب غلط ہے، کسی بہتری کی کوئی امید نہیں، کچھ بہتر ہو ہی نہیں سکتا، پسماندگی ہمارا مقدر ہے، ہم اس پسماندگی سے نکل ہی نہیں سکتے، جمہوریت نا کام ہو چکی وغیرہ وغیرہ۔

مقصد ایک ایسا تاثر جیسے ہم سب من حیث القوم تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں اور ایک مکمل تباہی ہی ہمارا مقدر ہے اور پھر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی مغرب کی اقوام سے ہمارا تقابل کر کے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان کے بھی دو ہاتھ دو پاؤں اور ایک ہی دماغ ہے مگر وہ ہم سے زیادہ مہذب اور ترقی کی دوڑ میں ہم سے کئی سو گنا آگے ہیں۔ انداز بیاں اور طرز تخاطب کچھ ایسا ہوتا ہے کے اس تقابل سے بھی کوئی مثبت ترغیب نہیں صرف تذلیل ہی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے جس کے کارن ہماری پسماندگی پہلے احساس محرومی کا شکار ہوتی ہے اور پھر مایوسی کی لوریاں اس کی رہی سہی ہمت کا جنازہ نکال کر اسے عزم و حوصلے کے فطری جوہر سے بھی محروم کر دیتی ہیں۔

کوئی ہمیں بتائے، سمجھائے کہ ایک ایسی قوم جس کے افراد پہلے ہی سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی نا ہمواریوں کا شکار ہوں اس کے دیدہ ور ہی اگر مایوسیوں کے مبلغ بن جائیں تو پھر ایسی قوم سے کسی مثبت پیش رفت کی توقع کیوںکر کی جا سکتی ہے۔ ہمیں اس بات پر قطعی طور پر اختلاف نہیں کہ یہ تمام صاحبان جو کچھ لکھتے ہیں یا فرماتے ہیں وہ سچ نہیں ہوتا ہم تو صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ سب کچھ غلط ہی نہیں ہو رہا، کچھ اچھا بھی ہوتا ہے اور سب لوگ ہی خراب نہیں کچھ اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں پھر کیا ضروری ہے کہ ہم صبح شام تصویر کے صرف بد نما رخ کو ہی نمایاں کر کے پیش کرتے رہیں اور تصویر کے قدر خوش نما رخ کو چھپانے کی، پوشیدہ رکھنے کی شعوری یا لا شعوری جستجو ہی میں مگن رہیں۔ اگر کچھ یا بہت کچھ ہماری توقعات یا ہماری سوچ کے مطابق نہیں ہو رہا تو ہم ذہنی طور پر جھنجھلاہٹ کا شکار ہو کر پوری قوم کو فرسٹریشن میں مبتلا کر دیں، کیا یہ صحت مند اقدام کہلا سکتا ہے؟۔

عوام خوابوں کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں، خوابوں میں جیتے ہیں اور خوابوں میں مرتے ہیں۔ صرف ایک امید کے سہارے اپنی ساری زندگی گزار دیتے ہیں کہ کبھی تو ہمارے دن بھی بدلیں گے۔ آپ ان سے ان کے خواب ان کی امید چھین کر انھیں زندہ درگور کرنے پر جانے کیوں کمر بستہ ہیں۔ یہاں آپ صاحبان فرما سکتے ہیں کہ عوام خود فریبی میں مبتلا ہیں اور آپ حضرات انھیں اس خود فریبی سے نکالنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ تو نہایت ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ اگر آپ اپنے فرض کی انجام دہی میں کلی طور پر کامیاب ہو گئے تو آپ کی آبادی بیس کروڑ سے گھٹ کر دس کروڑ رہ جائے گی باقی کے دس کروڑ زمین کی پشت سے زمین کی گود کو بہتر جانتے ہوئے زندگی سے منہ موڑ لیں گے۔ آپ کسی کی امید توڑ کر اسے کسی بھی طرح بہتری کی طرف نہیں لا سکتے مار ضرور سکتے ہیں اگر مایوسی زہر نا ہوتی تو خالق کائینات اسے گناہ قرار نہیں دیتا ۔

ہمیں ہمیشہ ان جدید ترین مشینوں سے اختلاف رہا ہے جو بلا وجہ انسانی جسم سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان بیماریوں کا سراغ لگاتی ہیں جن کا علاج ممکن نہیں۔ ایسی بیماری کی تشخیص کا کیا فائدہ جس کا علاج ہی نہ ہو؟ کم از کم انسان کو مرنے تو سکون سے دیا جائے۔ آپ دن رات جن معاشرتی بیماریوں کا رونا روتے ہیں کبھی ان کا علاج بھی تو تجویز فرمائیں، کیا ہمارے فرائض میں صرف خرابیوں کی نشاندہی کرنا ہی شامل ہے؟

ہم تبدیلی کا نعرہ تو بہت زور و شور سے لگاتے ہیں مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنے حصے کا کام کرنے کو تیار نہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی معاشرتی، سماجی خرابیاں جن کا خاتمہ بہ آسانی اپنی مدد آپ کے تحت کیا جا سکتا ہے ہم اس کے لئے بھی ارباب اختیار کا منہ دیکھتے رہنے کے عادی ہیں۔ خود احتسابی سے یہ کہہ کر دامن بچا لیتے ہیں کہ دوسرے بھی تو اس برائی میں مبتلا ہیں حالانکہ ہم خود کو بدل کر تبدیلی کی بنیاد کا پہلا پتھر رکھ سکتے ہیں۔ باتیں انقلاب کی کرتے ہیں اور من حیث القوم ہماری حالت یہ ہے کہ راہ میں کوئی پتھر آجائے تو پتھر ہٹانے کے بجائے راستہ ہی بدل لیتے ہیں۔

جمہوریت کی ناکامی اور سسٹم کی خرابی کا راگ الاپنے والوں سے التماس ہے کہ نا تو ریاست کسی کمپیوٹر کی مانند بے جان ہے اور نا جمہوریت کسی خود کار آپریٹنگ سسٹم کا نام ہے کہ آپ محض آپریٹنگ سسٹم بدل کر اپنی ڈیوائس کی خامیوں کو درست کر لیں گے۔ جمہوریت ایک سیاسی، سماجی نظام ہے جس کی بنیاد انسان، عوام یعنی میں اور آپ ہیں۔ اگر جمہوریت ناکام ہے تو آپ اور میں ناکام ہیں اگر جمہوریت خراب ہے تو آپ اور میں خراب ہیں۔ تو کیا یہ مناسب نہیں ہو گا کہ جمہوریت کے پیچھے ڈنڈا لے کر دوڑ لگانے کے بجائے میں اپنی خرابیاں دور کر لوں آپ اپنی خرابیاں دور کر لیں ۔

ہم نے ادب اور احترام کے تمام تر تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی لکھنے والے کا نام دانستہ نہیں لکھا۔ اس لیے امید ہے کہ کوئی برا بھی نہیں منائے گا۔ یہ قوم بہت پر امید اور محنت کش قوم ہے بس رہنمائی اور حوصلہ بڑھا کر اسے مایوسیوں کے دلدل سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ ایک مشہور غزل کے اس مصرعہ پر بات ختم کرتے ہیں؛

منزل نہ دے، چراغ نہ دے، حوصلہ تو دے


Comments

FB Login Required - comments