الوداع ہارون بلور


بشیر بلور کیسے ہر بار جیت جاتے ہیں۔ وہ کبھی کبھی غصہ بھی ہو جاتے ہیں۔ کام کرنے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ تھوڑے سے غیر محتاط بھی ہیں ان کے بارے کچھ ایسی ویسی خبریں بھی آ جاتی ہیں۔

بشیر بلور کا مقابلہ بھی ہر بار سخت ہوتا ہے، ہر بار  لگتا  ہے وہ ہار جائیں گے۔ حاجی صاحب کبھی ہار جاتے ہیں کبھی جیت جاتے ہیں۔ بشیر بلور اٹھاسی کے بعد نہیں ہارے۔ ایم ایم اے کی لہر میں بھی جیت گئے ۔

حاجی غلام احمد بلور کی شہرت اچھی ہے۔ مخالفین بھی ان کا احترام کرتے ہیں۔ اندازہ اس سے لگائیں کہ انہیں اکثر حریف پارٹیوں سے بھی سیاسی مدد مل جاتی ہے۔ پھر بھی حاجی صاحب الیکشن کبھی جیت جاتے ہیں کبھی ہار جاتے ہیں۔ بشیر بلور نہیں ہارتے جن کے خلاف سب مخالفین اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

بیٹھا یہ سب سوچ رہا تھا ۔ ہارون بلور انٹرویو کے لیے ہمارے دفتر آ رہے تھے اور میں یہ سب جاننا چاہ رہا تھا۔ ہماری یہ پہلی ملاقات تھی۔

ہارون بلور سے انٹرویو کے دوران کہیں یہ سب پوچھ ہی لیا۔ یہی کہ بشیر بلور کیوں نہیں ہارتے؟ ہارون کا جواب تھا کہ مانتے ہیں کہ نہیں پھر۔ جب ہم چائے پی رہے تھے ہارون نے کہا کہ سوال اچھا تھا کہ کیوں نہیں ہارتے، آپ کو کیا لگتا ہے۔ ان سے کہا کہ اگر پتہ ہوتا تو آپ سے کیوں پوچھتا۔

ہارون بلور نے کہا کہ لوگ بہت الگ طرح سوچتے ہیں۔ ووٹر بھی ماں کی طرح ہی ہوتا اس بندے سے بھی پیار کرتا ہے جس میں معلوم خامیاں ہوں۔ یہ سب باتیں انٹرویو کے بعد ہو رہی تھیں تو لکھ نہ سکا۔

ہارون بلور کے جواب اتنے فوری اور لاجیکل تھے کہ پتہ لگ رہا تھا کہ بندہ سیاسی میٹیریل ہے، بہت آگے جائے گا۔

پہلی ملاقات کے بعد ہارون بلور سے اکثر اآتے جاتے ملاقات ہو جاتی ۔ وہ ٹاؤن ون کے ناظم تھے ۔ ہمارے بھائیوں جیسے دوست ایک دوسرے ٹاؤن کے ناظم اور ہارون بلور کی مخالف پارٹی سے تھے۔ جب یہ دونوں ملتے تو ملاقات بہت مزے کی ہوتی تھی۔

ہمارے جماعتی سے دوست کو چڑانے کے لیے ہارون جب بھی ملتے تو انہیں دونوں ہاتھ جوڑ کر نمستے قسم کا سلام کرتے۔ ساتھ بتاتے کہ یہ صرف تمھارے لیے کہ تمھیں کوئی شک نہ رہے۔ پھر ہنسی اور گپ شپ میں بات بدل جاتی۔ ہم نے دیکھا تھا کہ حاجی صاحب اگر کسی کا کوئی کام اپنے مخالف ہارون بلور کو دیتے تو وہ ایک چٹ پر لکھا ہوتا تھا ، اور ہو ہی جاتا ہو گا کہ حاجی صاحب نے کبھی نہیں کہا کہ نہیں ہوا کوئی کام۔

بشیر احمد بلور سے ایک بار فارن میڈیا ٹیم کے ساتھ ملنے کا اتفاق ہوا۔ تب ان پر ایک خود کش حملہ ہوا تھا۔

بشیر بلور نے اس حملے کا واقعہ سنایا کہ کیسے خود کش ان کی گاڑی کے بانٹ پر چڑھ گیا ۔ دو بار اس نے اپنی بیلٹ کھینچی دھماکہ نہیں ہو سکا ۔ دونوں اک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے۔ خود کش پھر گاڑی سے اترا اور بھاگتے ہوئے گلیوں میں داخل ہو گیا۔ اس کے پیچھے ہی بشیر بلور اترے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے گاڑی سے اترتے ہوئے ہارون بلور کو فون کیا کہ ادھر پہنچ, خود کش آیا ہے۔

گورے نے پوچھا کہ آپ کو ڈر نہیں لگا۔ بشیر بلور نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہماری پشتو میں ایک کہاوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ پشتو کہاوت شاید بھول گئے یا مذاق کے موڈ میں تھے۔ انہوں نے وہی کہاوت پشتو کی بجائے ہندکو میں سنائی ۔ ہندکو لہجے میں ہی کہ باوے جیڑی رات قبر اچ آنی او بار نہ آسی۔ جو رات قبر میں آنی ہے وہ باہر نہیں آئے گی۔

بشیر بلور نے ہندکو کہاوت سنا کر ہم سب کو غور سے بھی دیکھا۔ ہمیں لگا کہ انہوں نے آنکھ بھی ماری۔ ہم سب ہنستے رہے۔ جانے لگے تو گلے ملتے ہوئے انہوں نے کہا سنا کیسی تھی پشتو کہاوت۔

کچھ وقت بعد ہارون سے ملاقات ہوئی۔ ان سے خود کش حملہ آور والے واقعہ کا پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے والد نے فون کیا کہ یہ وقت گھر بیٹھنے کا نہیں ہے۔ خود کش گلیوں میں گھس گیا ہے تو تم بھی یہاں پہنچو، یہ بھی پہنچ گئے۔

بشیر بلور، ہارون بلور دہشت گردوں کے آگے ہار ماننے کو تیار نہیں تھے۔ پشاور پر بم برس رہے تھے اور بشیر بلور ہر دھماکے کے بعد وہاں موجود پائے جاتے۔ انکی جرات تھی جو پشاور والوں کو حوصلہ دیتی تھی۔ دہشت گردوں کو یہی بات ڈپریس کرتی تھی۔

آج مجھے ایسی کوئی الجھن نہیں ہے کہ بشیر بلور کیسے جیت جاتے تھے۔ ہارون بلور نے اپنے والد کی بہادری کو وراثت سمجھا ۔اس روایت کو آگے بڑھایا۔

باپ بیٹا کم جیے ، جتنی دیر بھی جیے شان سے جیے۔ ہارون بلور کو الوداع کہتے ہمارے سر جھکے ہوئے نہیں ہیں، فخر سے بلند ہی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 334 posts and counting.See all posts by wisi