بیٹیوں کو بوجھ سمجھنا چھوڑ دیجیے


بابا بابا ادھر دیکھیں ۔ میں اس وقت گھر کے قریب ایک پارک میں بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا جب میری بیٹی کا یہ جملہ مجھے سنائی دیا۔ میں نے توجہ کتاب سے ہٹا کر اس کی جانب منتقل کی تو دیکھا کہ وہ پارک میں گرنے والے املتاس کے بہت سے پیلے پھولوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے پرجوش کھڑی تھی۔ میرے دیکھتے ہی اس نے ان پھولوں کو ہوا میں اچھالا اور اپنے چہرے کو اوپر اٹھا ان دلکش پیلی پتیوں کو نیچے گرتا دیکھنے لگی۔ میں ابھی اس کے معصوم پرجوش چہرے پر موجود خوشی کے تاثرات کو دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ پورے زور سے بھاگ کر میرےسینے سے لگ گئی اور میں کتاب چھوڑ کر اس کی کھلکھلاتے ہوئی ہنسی کے ترنم میں کھو گیا۔

مجھے لیکن اتنے حسین احساسات سے متعارف کرانے والی میری یہ بیٹی جب پانچ سال پہلے اس دنیا میں آئی تھی تو ہمارے گھر سبزی دینے والے بوڑھے ہاکر نے “دکھ” کی اس گھڑی میں مجھ سے باقاعدہ افسوس کا اظہار کیا تھا۔

اس کے پوچھنے پر جب میں نے اسے بتایا تھا کہ ماشاللہ خدا نے بیٹی سے نوازا ہے تو اس کے پہلے ردعمل نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ “اوہو۔ دھی ہوئی اے۔ بڑا افسوس ہویا جی۔ چلو جو رب نوں منظور”۔

میں نے اس کے اس انداز اور جملے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب گھر والے تو اللہ کی رحمت ملنے پر بہت خوش ہیں۔ میری طرف سے اسے شاید اس جواب کی توقع نہیں تھی۔ وہ ایک لمحے کو ٹھٹکا لیکن پھر بولا۔۔ ” او سب تے ٹھیک اے جی۔۔ پر ہے تے دھی ای نا”۔

شعور سے عاری جس معاشرے کا میں حصہ ہوں اس میں بیٹی کی پیدائش کو کیسا سمجھا جاتا ہے میں اس سے لاعلم نہیں تھا لیکن پھر بھی سبزی فروش کے ساتھ ہونے والے اس مکالمے نے مجھے سخت مایوس کیا۔

اس واقعے کے کچھ سال بعد میرے گھر پر بیٹی کی صورت رحمت کی ایک اور برسات ہوئی ۔ اس کے کچھ دن بعد گھر کے باہر بدقسمتی سے اسی ہاکر سے سامنا ہوگیا۔ “ہور باو جی۔ بال بچیاں دا سناؤ ” میں نے چند سال پرانی گفتگو بھلا کر اسے پھر اتنی ہی خوشی سے بتایا کہ خدائے بزرگ و برتر نے مجھے ایک اور بیٹی عطا کی ہے۔

” اوہو ،ایہہ تے بڑی ماڑی گل ہو گئی ائے”

اس نے پھر ذہنوں میں مجمند صدیوں پرانی خباثت کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے کہ میں اس کے خیالات کو بہتر بنانے کی کوئی کوشش کرتا ۔ اس کے ٹھیلے پر کھڑا دوسراشخص میری جانب بڑھا اور تشویش کا اظہار کرکے پوچھنے لگا “کیا ہوا سب خیریت تو ہے” میرے جواب دینے سے پہلے ہی سبزی فروش نے اپنے اسی لب و لہجے میں اسے آگاہ کیا کہ “بھائی صاحب ول فیر دھی ہوئی ائے”

میں موضوع کو بدلنے کے لیے کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ بظاہر پڑھے لکھے نظر آنے والے وہ صاحب بولے “چلو کوئی گل نئیں جی ۔ رب پتر وی دے گا تسی دل چھوٹا نہ کرو” ۔۔۔

ان دونوں اشخاص کی غلط سوچ کے جواب میں میرے پاس مذہبی حوالوں سے لے کر جدید علوم سے حاصل کردہ بہت سے دلائل تھے ۔۔ مگر میں چپ رہا کیوں کہ شاید اسیر ذہنوں میں سوچ بھرنے کا فن ابھی مجھے نہیں آیا۔۔

ہم ایسا کیوں سوچتے ہیں ۔ ہماری ذہنی سطح اب تک کیچڑ کی سطح سے اوپر کیوں نہیں اٹھ سکی۔۔ ہم بیٹی کو بوجھ کیوں گردانتے ہیں۔۔

اس سوچ کا باعث بننے والی تمام وجوہات سے شائد ہم سب ہی آگاہ ہیں تاہم اس سلسلے میں ایک موقف ایسا ہے جو خاصے جذباتی انداز میں اپنایا جاتا ہے اور وہ کچھ اس طرح بیان ہوتا ہے کہ “ہم کو بیٹی سے نہیں بیٹی کے نصیبوں سے ڈر لگتا ہے”۔

اس بے معنی دلیل کے پیچھے بھی دراصل ہمارا ماضی اور ماضی سے چپکے رہنے کی روش کار فرما ہے۔ پرانے وقتوں میں چونکہ بیٹیوں کو بابل کے کھونٹے کی گیاں (گائے) قرار دیا جاتا تھا اور گھر کے کام کاج کے علاوہ زندگی کے ہر قابل ذکر پہلو میں آگے بڑھنے کے لیے وہ مردوں کی محتاج ہوتی تھیں لہذا بیٹیوں کے والدین ان کی عزت و ناموس سے لے کر خوشیوں کی ضمانت تک ہر بات میں خدشات کا شکار رہتے تھے۔ اور پھر ایسی بابل یا اللہ میاں کی گایوں کو شوہر کے ساتھ رخصت کرتے وقت بھی اس کے نصیبوں سے ڈرنا ایک فطری بات تھی۔

زمانہ بدل گیا۔ہم نے اپنے انداز بھی بدل لیے لیکن سوچ نہیں بدلی۔ وہ وہیں دھنسی رہی خوف کی دلدل میں ۔

بیٹی سے محبت کی بنا پر اس کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونا قدرتی امر ہے۔ اپنے وجود کے ایک حصے کو ایک دن خود سے جدا کرنااور پھر اس کی خوشیوں کے لیے دعاگو رہنے میں جو درد چھپا ہے وہ بھی لازم ہے۔ لیکن اگر ہم اپنی بیٹیوں کو خود اعتمادی دیں، انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ یقین بھی دلائیں کہ وہ زندگی کی دوڑ میں آنے والے ہر چیلنج کا سامنا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں تو یقین کریں آپکو۔ہم سب کو ان کے نصیبوں سے خوف کھانے کی کوئی ضرورت ہی نہ رہے گی۔ تعلیم اور شعورکے ساتھ شخصیت میں خوداعتمادی بھی آجائے تو انسان بیرونی سہاروں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ راہیں کٹھن بھی ملیں تو سفر نہیں رکتا اور پھر ہر مشکل کے بعد آسانی کا وعدہ تو خدا نے بھی کر رکھا ہے۔

لہذاہمیں اب بیٹیوں کو بوجھ سمجھنا چھوڑ کر خوف کے اس صدیوں پرانے بے معنی چکر سے خود کو آزاد کرا لینا چاہیے۔ لڑکیاں باشعور اور پراعتماد ہوں تو ان میں زمانے کی اونچ نیچ سے لے کر خاندانی مسائل اور معاشی مشکلات سے لے کر گھریلو ناچاقیوں تک ہر الجھن کو سلجھانے کی صلاحیت آجاتی ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پراعتماد اور بااختیار بیٹیاں نصیب میں لکھی الجھنوں کا حل بھی خود ہی نکال لیتی ہیں.

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

شاہد وفا

A boradcast journalist who wants to inculcate trait of critical thinking among masses.

shahid-wafa has 5 posts and counting.See all posts by shahid-wafa