ماشاللہ یہ بھی امریکہ نے بنایا ہے؟


\"husnainجاڑے روانہ ہونے کو تھے۔ دو بچے بہت ضد کر کے اپنے باپ کے ساتھ اسکوٹر پر بیٹھ کر صدر گئے۔ وہاں فوجیوں کی طرف سے ہر سال اسلحے کی نمائش لگتی تھی۔ ٹینک، توپیں، بندوقیں، آبدوز،جہاز، ہیلی کاپٹر، سب کچھ دیکھنے کو مل جاتا تھا۔ ہاتھ بھی لگا سکتے تھے اور اندر بھی بیٹھ سکتے تھے۔ اچھا دور تھا، ابھی اتنی پابندی نہیں لگی تھی کہ فوجی علاقے میں داخلے پر بھی کئی جگہ شناختی کارڈ دکھانا پڑے۔ وہاں ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر دیکھنے والوں کے لیے ایک قطار لگی ہوئی تھی۔ وہ بھی اسی میں کھڑے ہو گئے۔ رینگتے رینگتے ہیلی کاپٹر تک پہنچے تو ان سے پہلے ایک مولانا نے اندر جھانکا اور خاصے مرعوب انداز میں حلق کی گہرائیوں سے پاس کھڑے فوجی کو مخاطب کیا، \”ماشاللہ، کیا یہ ہیلی کاپٹر پاکستان نے بنایا ہے؟\” فوجی جوان زیر لب مسکرایا اور کہنے لگا، \”بابا جی، ماشاللہ اے وی امریکن اے، گوریاں نے ای بنایا وے۔\”

مولانا کی سوچ ایک محب وطن پاکستانی کی سوچ تھی لیکن یاد رکھیے، پرائز بانڈ نہیں خریدا تو لاکھ دعائیں مانگ لیجیے، انعام نہیں نکلے گا۔ بنیادی شرط پرائزبانڈ خریدنا ہے۔ عین اسی طرح ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہونا ہے تو وہ تمام اقدامات کرنے ہوں گے جن پر عمل کر کے انہوں نے ترقی کی۔ ہماری کاہلی کے تو ویسے بھی مقولے مشہور ہیں، جتھےکم اتھے ساڈا کی کم (جہاں کام، وہاں ہمارا کیا کام)، یا پھر وہ، کم جوان دی موت اے (کام کرنا جوان کے لئے موت ہے)، اور یہ رویہ تحصیل علم سے لے کر زندگی کرنے کے ہر معاملے میں ہم روا رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ پدرم سلطان بود کے نعرے مارتے مارتے جبڑے ٹیڑھے ہو جاتے ہیں، منہ سے رال بہنے لگتی ہے، آنکھیں چڑھ جاتی ہیں مگر ضد وہی کہ چارپائی پر بیٹھے بیٹھے ہی ترقی کرنی ہے۔ ایسی ہی ترقی کے چند معاملات آگے زیر بحث لاتے ہیں۔

\"hus05\"ہر قسم کی جہالت کی ایک حد ہوتی ہے۔ بفضل خدا ہم اسے پار کرنے کی میراتھن ریس لگائے بیٹھے ہیں۔ احمقوں کی ایک جنت ہے اور اس کا ہر سردار ہمارے یہاں سے ہی منتخب ہوتا ہے۔ یقین جانیے جتنا دکھ اور افسوس آج جہالت کے ایک عظیم الشان مظاہرے پر ہوا، کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر اپنی کل ہی کہی بات یاد آ گئی کہ انسان سے مایوس نہیں ہونا، اور دل چاہا کہ خود کو اس بات پر دو جھانپڑ رسید کیے جائیں۔ آپ انسانوں سے مایوس بے شک نہ ہوں لیکن جہل اور حماقت کے عظیم الشان مظاہر سے بہرحال کد رکھنی پڑے گی اس کے بغیر کام نہیں بننے والا۔

ایک سوشل میڈیا پیج پر چند تصاویر دیکھنے کو ملیں جن میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ مسلمانوں نے پچھلے ایک ہزار سال میں کیا کیا۔ وائے عبرت، ایسی ایسی نایاب تحقیق نظر آئی کہ جس کے لیے گوگل تک سے رابطہ نہیں کیا گیا اور کلی طور پر جذبہ ایمانی ان کے پیچھے کارفرما رہا۔ جو اسفل زبان وہاں استعمال ہوئی، وہی کرنے کو ہم مجبور ہیں کیوں کہ اس کے بغیر آپ کھل کر جائزہ نہیں لے سکتے۔ آئیے دیکھتے ہیں؛

۱- رات کو مولوی ابن الہیشم کے ایجاد کردہ کیمرے سے اپنی باجی کے فیشن شو کی ویڈیو بنانے کے بعد وہ صبح اٹھ کر کہہ رہا تھا کہ اسلام نے دنیا کو آج تک دیا کیا ہے؟

الجواب

\"hus06\"سرکار۔ کیمرہ آبزکیورا نامی ایک ایجاد مسلمان ابن الہیشم سے منسوب کرتے ہیں جو ان سے کئی سال پہلے 1088 عیسوی میں چین کے عالم شین کو اپنی کتاب میں بے حد تفصیل سے بیان کر چکے تھے۔ مسلم دنیا میں چوں کہ انہوں نے باقاعدہ طور پر اس کا تعارف کروایا اور ان تصاویر کی مدد سے اس نظریے کو بیان کیا اس لیے عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پن ہول کیمرہ ابن الہیشم کی ایجاد تھا۔ دوسری بات یہ کہ اپنی باجی کی ویڈیو جس کیمرے سے اس نے بنائی ہو گی، وہ کیمرہ الحمدللہ کفار کی ایجاد ہے، آپ ابن الہیشم کو دفن کرنے کے بعد کوئی قابل ذکر کام اس میدان میں نا کر سکے، اس پر افسوس کرنا آپ کا حق ہے، نہ کہ غیر ذمہ دارانہ باتوں سے پوری قوم کو بے وقوف بنانا۔

۲- مولوی خالد کی ایجاد کردہ کافی کی چسکیاں لینے کے بعد، مصر کے مولوی سلطان کے تیار کردہ قلم سے اس نے اپنا مضمون مکمل کیا، جس کا عنوان تھا مسلمانوں نے دنیا کو کیا دیا!

الجواب

\"husnain02\"اورومو قبیلہ جو ایتھوپیا، کینیا اور صومالیہ میں بستا ہے، جس کے اڑتالیس فی صد لوگ عیسائی ہیں اور سینتالیس فی صد مسلمان، وہ قبیلہ ازمنہ قدیم سے کافی کی جادوئی طاقتوں پر یقین رکھتا تھا۔ پندرھویں صدی میں اس کے بیج یمن منگوائے گئے اور یمن کے صوفی بھائیوں نے اسے شب بیداریوں کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ اور جو نام آپ استعمال فرما رہے ہیں وہ خالد نہیں کالدی تھا۔ کالدی ایک چرواہا تھا اور کہانی یہ مشہور تھی کہ اس کی بھیڑوں نے کافی کے پودوں کو چر لیا تو ان میں عجیب قسم کی چستی بھر گئی اور مولانا کالدی صاحب نے بھی اسی چستی کے چکر میں کافی ایجاد کر ڈالی۔ ہاتھ ہلکا رکھا کیجیے، ایسی باتیں اساطیر تک اچھی لگتی ہیں!

رہا فاؤنٹین پین کا تعلق تو وہ 1837 میں لیوائز واٹرمین نے ایجاد کیا تھا۔ ان سے پہلے لوگ شاید ہولڈر سے لکھتے ہوں گے، اس سے پہلے بانس کی قلمیں بنتی ہوں گی، اس سے پہلے پروں کو رنگ میں ڈبو کر لکھا جاتا ہو گا، اس سے پہلے غاروں میں انسان لکھتا تھا، یہ فوک وزڈم تھی صاحب، فطرت کی عطا کردہ تھی، کل کو آپ جذبات میں آ کر دنیا کا پہلا انڈہ تلنے والا بھی مسلمان کہہ دیں گے تو یہ صرف زیادتی ہی ہو گی، اپنوں کے ساتھ! آپ نے تو جوش جذبات میں صفر کی ایجاد کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر باندھ لیا حالانکہ وہ بھی بابل، مایا اور قدیم ہندی تہذیبوں کی عطا تھا، اور یہ تحقیق بہت پرانی بھی ہو چکی ہے۔

۳- پرفیوم کا استعمال کرتے اور منرل واٹر کی چسکیاں لیتے وقت یہ بات یاد رکھیں کہ یہ دونوں تحفے آپ کو مولبی جابر بن حیان نے دان کیے ہیں۔

الجواب

\"hus2\"پرفیومری کی صنعت قبل مسیح سے میسو پوٹیمیا اور ہندوستان میں پائی جاتی تھی۔ 1370 میں پہلا ماڈرن پرفیوم بنا جسے ہنگری واٹر کہا  جاتا ہے، وہ پرفیوم ہنگری کی ملکہ نے خاص طور پر حکم کر کے تیار کروایا تھا۔

جابر بن حیان بے شک قابل فخر کیمیادان تھے۔ انہوں نے عمل تقطیر اور اس جیسی کئی دوسری صنعتوں پر کام کیا، عطر بھی کشید کیے، مگر وہ پہلے بھی ہوتے تھے۔ طریقہ مختلف تھا۔ خوشبو کا استعمال تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی پسند تھا اور احادیث میں بھی کثرت سے اس کا ذکر ہے، یہاں تک کہ عطر کا تحفہ لوٹانے کی بھی ممانعت ہے!

رہا منرل واٹر، تو اس کا ایجاد ہونا اس دور میں ممکن نہیں تھا۔ مختلف معدنیات کا حامل پانی آج کے دور میں تو بنایا جا سکتا ہے مگر جابر بن حیان کے دور میں پہاڑی چشموں کے بہتے پانی میں ہی برکت ہوتی تھی۔ باقی تو صاحب ہم یہودی کمپنیوں کا ہی پانی پیتے ہیں کیوں کہ دیسی کمپنیوں پر رہا سہا اعتبار بھی محترمہ عائشہ ممتاز کے چھاپوں کی وجہ سے اٹھ چکا ہے۔

۴- دیسی بجرنگیوں سے عرض ہے کہ بینک سے چیک کیش کرانے کا بائیکاٹ کر دیں کیوں کہ چیک کے استعمال کا طریقہ کار نویں صدی میں عربی بدوؤں نے ایجاد \"husnain6\"کیا تھا۔

الجواب

352 قبل مسیح کے رومن دور میں بھی چیک سسٹم کی موجودگی کا شائبہ ملتا ہے لیکن معلوم تاریخ کے مطابق چیک پندرھویں صدی میں ہالینڈ کے باشندوں نے استعمال کرنا شروع کیا۔ اھل عرب شاید کھجوروں کے کاروبار میں لین دین کے واسطے دستی لکھت پڑھت کرتے ہوں، اگر ایسا تھا، تو وہ پھر چیک ہی ہوں گے۔ بندہ خدا، اپنے کارناموں کی تلاش میں کیوں اتنا دور دور دوڑے پھرتے ہو، برصغیر کے قدیم لوگ جو ہمارے آباؤ اجداد تھے، وہ بھی بہت گنی اور گیانی تھے، فخر ہی کرنا ہے تو کچھ ان کی خبر لاؤ اور گردنیں اکڑاؤ۔ صفر بھی ویسے انہی کی ایجاد تھا۔

\"husnain۵۔ رائٹ برادران کی اس دنیا میں آمد سے قریباً ایک ہزار سال پہلے عباس ابن فرناس نے اڑنے والی مشین بنا کر اڑان بھرنے کی کوشش کی تھی۔

الجواب

فرناس کی وفات کے سات سو برس بعد 1632 میں احمد محمد المقری نے یہ دعوی کیا کہ انہوں نے ایک اونچی جگہ سے پر باندھ کر چھلانگ لگائی تھی اور اڑنے کی کوشش کی۔ ابھی اڑے ہی تھے کہ پشت کے بل نیچے گرے اور بہت زبردست چوٹ کھائی۔ بنیادی طور پر انہوں نے شاید گلائڈ کرنے کی کوشش کی ہو گی اور لینڈنگ کے وقت گرے ہوں گے کیوں کہ لینڈنگ آج بھی جہاز اڑانے میں سب سے نازک مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔

تو معلوم تاریخ میں واحد روایت اس قصے کی المقری نے کی، باقی تمام کتابیں خاموش ہیں۔ صاحبو، دل تو کسی کا بھی کر سکتا ہے کہ اڑا جائے، بن پنچھی اڑ جائیں گے، ہم ہاتھ کسی کے نہ آئیں گے، یا پھر وہ، پنکھ ہوتے تو اڑ آتی رے، رسیا او بالما ۔۔۔ خواہشات بہت ہوتی ہیں لیکن پر باندھتے وقت بہرحال اپنے انجر پنجر کا دھیان رکھیے گا تو انجام بہتر ہو گا۔

رائٹ برادرز کی عظمت کو ایک مرتبہ پھر سلام کہ انہوں نے پر باندھ کر شوق پورے نہیں کیے، دنیا کو کچھ دے کر گئے۔

اس کے علاوہ بہت سے باقاعدہ ایسے مقامات ہیں جن کو ایجاد کرنے والا بلاشبہ ابوالحمقا کہلانے کا سزاوار ہے۔ مثلاً دنیا کا پہلا باغ گیارہویں صدی میں اسپین میں بنا۔ خدایا! بابل کے معلق باغات سے بڑی کیا کاری گری ہو گی، کبھی سنی بھی تھی آپ نے مولانا؟ جہاں میسوپوٹیمیا ہوتا تھا، قدیم عراق، وہاں کی باتیں ہو رہی ہیں، معلوم تو کیجیے! اسی طرح شیمپو کی ایجاد کا سہرا بھی آپ مسلمانوں کے سر باندھ گئے، قبلہ، ایک صاحب نے \”محمد انڈین ویپر باتھز\” کے نام سے انگلینڈ میں بال دھونے کے \"husnain03\"ہندوستانی فارمولے متعارف کروائے تھے جن کو اتنی پذیرائی ملی کہ وہ شاہ جارج چہارم کے شیمپوئنگ سرجن مقرر ہو گئے اور خوب ترقیاں کیں مگر اس سے یہ قطعی ثابت نہیں ہوتا کہ ماشاللہ یہ بھی مسلمانوں کی ہی ایجاد تھا۔ ازمنہ قدیم سے خواتین بال دھوتی آئی ہیں، ریٹھا، آملہ وغیرہ کے نام تو ہمیں بھی یاد ہیں تو ایسا ہی کچھ فارمولا ہو گا۔ باقاعدہ لیکوئڈ شیمپو جو عیدین کی نماز پڑھنے سے پہلے ہم استعمال کرتے ہیں وہ شوارزخوف صاحب نے 1927 میں بنایا تھا، نام خدا آج تک کمپنی چل رہی ہے ان کی۔

اب ایسے کئی اور معاملات ہیں، کتنا تھکائیں ہم خود کو اور آپ کو۔ کہنا مگر یہ مقصود ہے کہ اب بھی اگر آپ نہیں مانتے کہ \”آپ ہم تو بوجھ ہیں زمیں کا\” اور اپنی اصلاح کی کوشش کرنے کے بجائے ایسی ہی فضولیات میں پڑے رہتے ہیں تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدر بننا ہی بہتر ہے۔ شاید اندھیرے کی بلا کے ڈر ہی سے کچھ بچے سدھر جائیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 237 posts and counting.See all posts by husnain

7 thoughts on “ماشاللہ یہ بھی امریکہ نے بنایا ہے؟

  • 08-05-2016 at 8:40 pm
    Permalink

    برادرم، بڑی مشکل تو یہ ہے کہ اگر مغربی محقق سائنس کی تاریخ نہ لکھتے تو ہم ان بزرگوں کے ناموں سے بھی نہ واقف ہوتے۔

  • 08-05-2016 at 8:49 pm
    Permalink

    بجا فرمایا سر، بلکہ بہت ہی اہم بات ہے یہ۔ کاش یہ میرے ذہن میں آ جاتی تو اس مضمون میں شامل کر دیتا۔ بہت نوازش

    نیاز مند

  • 08-05-2016 at 9:57 pm
    Permalink

    Aur dunya me pehla “head transplant” Hindu mythology ke mutabiq Ganesh Maharaj ka huwa tha.

  • 08-05-2016 at 10:02 pm
    Permalink

    “Jitna waqt hum apne bacchon ko Musalman Science dano ke Karnamey parhane me sarf karte hein, agar iss se adha waqt inn ko science parhaney me sarf karein to iss mulk ka kuch bhala ho jaey”(Mushtaq Ahmad Yousufi)

  • 10-05-2016 at 5:44 pm
    Permalink

    جس طرح کا پھٹیچر سیاسی نظام اج اسلامی ممالک میں موجود ہے اس کے نتیجے میں تو جینا مشکل ہو جاے گا
    نہ سماجی نظام ہے نہ معاشی اور معاشرتی
    اختلاف پہ بندہ پھڑکا دیا جاتا ہے
    سارے گندے کام اسلام کے کھاتے میں ڈال دے جاتے ہیں حالانکہ اسلام پر چلتا کون ہے یہاں تواسلام کا صرف نام استعمال کیا جاتا ہے
    لبرلز بھی سارا غصہ مذہپ کی روایات پر ہی نکال دیتے ہیں
    اور اس کی وجہ ننگ کردار اج کے مسلم ہیں
    شائد ہم سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • 10-05-2016 at 7:36 pm
    Permalink

    ….ap k mhfil ma ma b shamil hoo

Comments are closed.