پشاور دہشت گردی جمہوریت پر حملہ ہے


کل رات پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ پر خود کش حملہ میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہارون بلور سمیت اکیس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ہارون بلور کے والد بشیر بلور کو بھی 2012 میں ایک جلسہ کے دوران خود کش دھماکہ میں شہید کردیا گیا تھا۔ انتخابات سے دو ہفتے قبل یہ سانحہ اس بات کا انتباہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں اب بھی انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں پاکستان تحریک طالبان نے عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو انتخابی مہم نہیں چلانے دی تھی۔ ان انتخابات میں پیلز پارٹی اور اے این پی کی ناکامی کی وجہ عام طور سے حکومت کےدوران ان پارٹیوں کی خراب کارکردگی کو سمجھا جاتا رہا ہے لیکن طالبان کی دھمکیوں اور حملوں کو بھی اس سیاسی ناکامی کی اہم وجہ کہا جاسکتا ہے۔ جب نام نہاد آزادانہ اور شفاف انتخابات کے دوران ایک دہشت گرد گروہ چند ایسی سیاسی جماعتوں کو جو ان کے ایجنڈے کو مسترد کرتی ہوں اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر اور طاقت ور آواز کی حیثیت رکھتی ہوں، عوامی رابطہ مہم چلانے، جلسے منعقد کرنے اور اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے حق سے محروم کرنے میں کامیاب ہو گا تو ان انتخابات کو آزادانہ کہنا درست نہیں ہو سکتا۔ یہ صورت حال افسوسناک ہے کہ پاکستان کا سیاسی ایجنڈا سیاسی جماعتوں کی بجائے ایک دہشت گروہ طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ملک کے سیکورٹی ادارے ان عناصر کا سر کچلنے کے دعوے کرنے کے باوجود پرامن فضا پیدا کرنے اور دہشت گردوں کو غیر مؤثر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ہارون بلور اور ان کے بیس کارکنوں کی شہادت کا سانحہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی اس پریس کانفرنس کے ایک روز بعد رونما ہؤا ہے جس میں انہوں نے ملک میں پرامن انتخابات کے انعقاد کے لئے فوج کی منصوبہ بندی کی تفصیلات بتائی تھیں۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہیں ہونا چاہئے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے ایک سیاسی اجتماع پر تحریک طالبان پاکستان کا حملہ صرف ملک کی ایک سیاسی قوت کو خوفزدہ کرنے ہی کی کوشش نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے عسکری اداروں کے لئے بھی وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام تر دعوؤں اور اعلانات کے باوجود ملک میں سیکورٹی کے حوالے سے اس وقت بھی وہی حالات ہیں جو 2013 میں دیکھنے میں آئے تھے اور اب بھی دہشت گرد عناصر اپنی مرضی کی جگہ، وقت اور گروہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انتخاب سے دو ہفتے پہلے اس قسم کا سانحہ اس بات کا بھی انتباہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسے ہی مزید حملے بھی ممکن ہیں۔

پشاور سانحہ پر حکومت، سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی طرف سے افسوس اور مذمت کے پیغامات وصول ہوئے ہیں اور اے این پی کی قیادت نے پر امن طور سے سوگ منانے اور انتخاب میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے یہ دیکھنا ہو گا کہ دہشت گردوں نے ملک کی ایک ترقی پسند جماعت کو ہی کیوں نشانہ بنایا ہے۔ اس حملہ سے صرف انتشار پیدا کرنا مقصود ہے یا اس طرح دہشت گردی میں ملوث عناصر پاکستان جیسے اہم ملک کا سیاسی ایجنڈا طے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر تحریک طالبان پاکستان اس حملہ یا ایسے ہی مزید بزدلانہ واقعات کی وجہ سے انتخابات کو ملتوی کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے یا ایک خاص سوچ اور مزاج کی سیاسی پارٹیوں کے لئے میدان ہموار کرنے کا سبب بنتی ہے تو نگران حکومت، الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ یا فوج کے ان اعلانات کی کیا حیثیت رہ جائے گی کہ انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوں گے۔ کوئی انتخاب اس وقت تک نہ شفاف ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسے منصفانہ کہا جا سکتا ہے اگر ایک خاص گروہ مخصوص سیاسی قوتوں کو روکنے اور ان کا عوامی رابطہ منقطع کروانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ریاست کے اداروں کو کل رات ہونے والے حملہ کو عام حملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ یہ خود کش حملہ ایک چھوٹے سیاسی اجتماع پر ضرور ہؤا ہے لیکن اس کا سیاسی پیغام واضح اور دو ٹوک ہے کہ ’ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر لوگوں کو ہلاک اور تباہ کرنے والے عناصر اپنی مرضی کی حکومت یا نظام کا خواب دیکھ رہے ہیں‘۔

منگل کی رات کو پشاور میں حملہ پر صرف مذمت یا سینہ کوبی کافی نہیں ہے۔ نہ ہی معمول کے مطابق جے آئی ٹی بنانے، تحقیقات کرنے اور افغانستان میں بیٹھے عناصر کی طرف انگلی اٹھا دینے سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ یہ حملہ تقاضا کرتا ہے کہ پوری قوم جن میں عام لوگوں کے علاوہ سیاسی جماعتیں اور ریاست کے اہم ادارے شامل ہیں، ان عوامل پر غور کریں جو یہ صورت حال پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ پاک فوج کی مسلسل جنگ اور جانی و مالی قربانیوں کے باوجود دہشت گرد عناصر حملے کرنے اور خوف پھیلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ دلیل قابل قبول نہیں کہ ملک میں پہلے کے مقابلے میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جب تک ایک شہری بھی بلااشتعال حملہ میں ہلاک ہوتا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ نہ ختم ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس میں کامیابی کے دعوؤں کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ اگر ٹی ٹی پی کے عناصر اب بھی ملک میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو صرف یہ وضاحت کافی نہیں ہو سکتی کہ یہ لوگ افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور بھارت کی ایجنسیاں پاکستان میں تخریب کاری کے لئے ان کی مدد کرتی ہیں۔ یہ وہی مؤقف ہو گا جو امریکہ افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے خلاف اختیار کرتا ہے۔

اگر امریکی افواج افغان عسکری اداروں کے ساتھ مل کر افغانستان کی سرزمین کو محفوظ بنانے کے مقصد میں کامیاب ہو جاتیں تو انہیں پاکستانی افواج پر شبہ کا اظہار کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ لیکن وہ چونکہ افغانستان میں طالبان کی قوت کو کم کرنے اور ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں ناکام ہیں اس لئے عذر کے طور پر پاکستان پر الزام لگا کر خفت مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح اگر تحریک طالبان پاکستان کے کچھ عناصر افغانستان میں موجود ہیں اور وہ وہاں سے پاکستان میں حملے کروانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو پاکستا ن کیوں اپنے علاقوں میں ان عناصر کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہے جو دہشت گردوں کا آلہ کار بن کر اس منصوبہ بندی کاحصہ بن جاتے ہیں۔ اس کی سادہ اور قابل فہم وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور ادارے ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے خلاف فضا بنانے اور مذہب کی بنیاد پر تعصب، نفرت اور دہشت کا پرچار کرنے والے عناصر سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنے اور بلاتخصیص ہر قسم کے مذہبی انتہا پسند یا دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں سے لے کر ریاستی ادارے تک اپنی حکمت عملی یا ضرورتوں کے تحت کسی نہ کسی طرح مذہب کے نام پر شدت پسندی کا پرچار اور مظاہرہ کرنے والے گروہوں کے ساتھ راہ و رسم رکھتے ہیں۔ 25 جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات میں متعدد ایسے گروہ حصہ لے رہے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ مذہبی تشدد میں ملوث رہے ہیں یا اس کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ کسی نہ کسی عذر پر انتخاب میں حصہ لینے اور اپنے انتہا پسندانہ ایجنڈے کے لئے تائید و حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ عوام نے اکثر و بیشتر ایسے عناصر کو انتخابات میں شکست سے دوچار کیا ہے ۔ اس بار بھی کسی بھی انتخابی جائزے میں یہ نشاندہی نہیں کی گئی کہ جماعت الدعوۃ، لبیک تحریک یا جماعت اہلسنت والجماعت جیسے انتہا پسند گروہ کوئی خاص کامیابی سمیٹ سکیں گے۔ اس کے باوجود حیرت کی بات ہے کہ عوام جن گروہوں کو مسترد کرتے ہیں، انہیں سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر سرپرستی اور حمایت میسر آتی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی اجتماع پر تحریک طالبان پاکستان کا حملہ اس لحاظ سے بھی توجہ کا مستحق ہے کہ ٹی ٹی پی کو اگرچہ پاکستان کے عسکری اداروں نے تخلیق کیا تھا لیکن ان عناصر نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا ساتھ دینے کی وجہ سے پاک فوج کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا تھا۔ پاک فوج کو زچ کرنے کے لئے شروع کی گئی یہ لڑائی عوامی اجتماعات پر حملوں سے ہوتی ہوئی اب سیاسی گروہوں کو ٹارگٹ کرنے کے مقام تک پہنچی ہے۔ اس کا مقصد واضح ہے۔ یہ دہشت گرد گروہ اپنے سیاسی ایجنڈے کے خلاف متحرک اور بے خوف آواز بلند کرنے والی ترقی پسند سیاسی قوتوں پر حملہ آور ہو کر ملک کی پالیسیوں میں اپنی رائے کو مسلط کرنے کے نقطہ نظر سے کام کررہے ہیں۔ ورنہ اے این پی یا دوسری ترقی پسند قوتوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ملک کی سیاست کو دہشت گردی کے اثر و رسوخ سے بچانے کے لئے ہر سطح پر آگہی اور شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حملہ کو ایک سیاسی مخالف گروہ کے خلاف کارروائی سمجھ کر نظر انداز کرنے کی بجائے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ عناصر اس ملک کے نظا م اور انتظام کو اپنا مطیع کرنا چاہتے ہیں ۔

یہ جنگ بلا تخصیص پاکستان کے سب لوگوں، پارٹیوں اور اداروں کے خلاف ہے۔ اس جنگ میں جمہوریت سب سے پہلا نشانہ ہے کیوں کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جمہوری حکومت سے زیادہ کسی دوسری قوت سے خطرہ نہیں ہو سکتا۔ ملک کی سیاسی قوتوں کو اس پیغام کو سمجھنا اور پھیلانا ہو گا۔ جمہوریت اپنے منشور کے مطابق حکومت حاصل کرنے کا نام ہی نہیں ہے۔ اس نظام کی حفاظت کرتے ہوئے ہی معاشرہ کو اعتدال پسند اور سب کے رہنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ اس لئے اس مقصد کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ انتخاب میں کامیاب ہو کر اقتدار کی سیڑھی تک پہنچنا ضروری ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 875 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali