کیا نواز شریف نے کارگل مہم جوئی کی اجازت دی؟


 

جب یہ اجلاس قریب الاختتام تھا تو سی جی ایس نے تجویز کیا کہ آپریشن کوہ پیما کی کامیابی کے لئے ایک مشترکہ دعا مانگی جائے۔ وزیراعظم نے ان سے کہا وہ خود ہی اس دعا کی ’امامت‘ کریں۔  اس کے بعد یہ اجلاس ختم ہو گیا۔ اس اجلاس میں جتنے لوگ بھی موجود تھے بشمول ان کے کہ جو بعد میں اس آپریشن کے سخت ترین ناقدین شمار کئے گئے ان سب کو یقین تھا کہ یہ آپریشن کامیاب ہو گا۔

اس اجلاس کے فوراً بعد سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) افتخار علی خان اپنی کار میں وزیر اعظم کے پیچھے پیچھے ہو لئے۔ اس وقت رات کے 9 بج رہے تھے اور نواز شریف پرائم منسٹر ہاؤس کی لفٹ میں داخل ہورہے تھے کہ افتخار ان کے تعاقب میں وہاں پہنچ گئے اور کہا: ’’سر! کیا میں آپ سے بات کرسکتا ہوں؟۔۔۔ معاملہ بہت اہم ہے۔ ‘‘ قوم کے چیف ایگزیکٹو نے جواب دیا کہ کیا صبح تک انتظار نہیں کیا جا سکتا؟ سیکرٹری دفاع اپنی بات پر مصر رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم سے دو سوالوں کا جواب چاہتے ہیں۔

ایک یہ کہ کیا ملٹری لیڈر شپ نے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی اجازت ان سے لی تھی؟ اس پر وزیر اعظم نے ان سے پوچھا کہ ’’کیا آرمی نے واقعی ایل او سی عبور کرلی ہے؟‘‘اس پر سیکرٹری دفاع نے کہا:’’کیا آپ نے ان سینکڑوں چوکیوں کا نوٹس نہیں لیا جو ایل او سی کے پار تھیں؟۔ ۔ ۔

اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ لائن آف کنٹرول کراس کرنے والے مجاہدین نہیں، ناردرن لائٹ لائٹ انفنٹری(NLI) کے ٹروپس تھے؟‘‘ جنرل افتخار دوسرے سوال کی تکرار کرتے رہے اور کہا:’’میاں صاحب! کیا ایل او سی کراس کرنے کے مضمرات کا پتہ آپ کو نہیں کہ اس کا معنی جنگ ہے؟‘‘ اس وقت رات کافی جا چکی تھی اس لئے وزیر اعظم نے پوچھا کہ جنگ کیوں ہوگی؟ اور ایل او سی کس نے کراس کی ہے؟

ان کو بتایا گیا کہ ہم 5 سے 6 سو مربع کلو میٹر بھارتی علاقے کے اندر جا چکے ہیں اور ان کی سینکڑوں چوکیوں پر قبضہ کرچکے ہیں۔ یہ سن کر وزیر اعظم نے سیکرٹری دفاع کو ہدائت کی کل صبح یہ صورت حال اپنے وزیر دفاع کو بتایئے۔ سب سے زیادہ اور کھلی زبان میں اس آپریشن پر تنقید کرنے والے سیکرٹری دفاع تھے۔ یہ ریٹائرڈ جنرل اس موضوع پر 20منٹ تک بولتے رہے اور وارننگ دی کہ یا تو یہ آپریشن کوہ پیما ٹوٹل جنگ پر منتج ہوگا یا پاکستان کے لئے ٹوٹل ملٹری شکست ہوگی۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ آرمی کمانڈ نے یہ آپریشن کوہ پیما حکومت سے کلیئر نس لینے کے بغیر شروع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آرمی کوئی خود مختار ادارہ نہیں ہے اور حکومت سے احکام لینے کا پابند ہے۔

اگلی صبح، ٹاپ آرمی کمانڈ کی آپریشن کوہ پیما پر بریفنگ کے 12گھنٹے بعد وزیر اعظم نے اپنے کلیدی وزراء کو وزیر اعظم ہاؤس طلب کرلیا۔ نواز شریف نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سرتاج عزیز، جنرل (ر) مجید ملک، وزیر مذہبی امور راجہ ظفر الحق، وزیر اطلاعات و نشریات مشاہد حسین اور سیکرٹری دفاع شریک ہوئے۔ سیکرٹری دفاع نے اپنی تشویش حاضرین کو بتائی اور انتباہ کیا کہ اس جنگ کا پھیلنا ناگزیر ہے اور انڈیا خاموش اور چپ ہو کر یہ سب کچھ برداشت نہیں کرے گا۔

جنرل افتخار نے شکائت کی کہ کسی سے مشورہ لئے بغیر اور کسی کو اعتماد میں لئے بغیر ’’چند کاغذی شیروں‘‘ نے کارگل کی خطرناک مہم شروع کر دی ہے۔ وزیر خارجہ نے بھی حاضرین پر واضح کیا کہ ان کی وزارت میں غیرملکی مشنوں سے بھی ہولناک رپورٹیں آ رہی ہیں اور اسی طرح کی کالیں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ جنرل (ر) ملک نے احتجاج کیا کہ وہ وزیر امور کشمیر اور شمالی علاقہ جات ہیں اور یہ جان کر سخت صدمے کی کیفیت میں گرفتار ہیں کہ ان کو اس سلسلے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔۔۔ ہر طرف سے ایسی آوازیں سننے کے بعد وزیر اعظم نے آرمی چیف سے رابطہ کیا۔

ایک گھنٹے کے اندر آرمی چیف پرائم منسٹر ہاؤس پہنچ گئے۔ کارگل کے اس نازک لمحے میں صرف تین آدمی وہاں موجود تھے، باقی جا چکے تھے۔ ۔ ۔ ۔ وزیراعظم، سیکرٹری دفاع اور آرمی چیف۔ ۔ ۔ وزیر اعظم نے مشرف سے سوال کیا: ’’کیا آپ نے ایل او سی کراس کی ہے؟‘‘ مشرف نے جواب دیا:’’یس سر! میں نے کی ہے!‘‘

وزیر اعظم کا دوسرا سوال تھا:’’ کس کی اتھارٹی پر؟‘‘

آرمی چیف نے فوری جواب دیا:’’میں نے اپنی ذمہ داری پر کراس کی ہے اور اگر سر! آپ کا حکم ہے تو میں ٹروپس کو ابھی واپسی کا حکم دے دوں گا‘‘۔

اس پر وزیر اعظم سیکرٹری دفاع کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا:’’دیکھا آپ نے،انہوں نے ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ ‘‘ نواز شریف نے شائد دل میں یہ خیال لاتے ہوئے کہ ان کو تاریخ میں ’’فاتح کشمیر‘‘ کے طو پر یاد رکھا جائے گا، یہ کہا:’’چونکہ آرمی، حکومت کا ایک حصہ ہے اس لئے ہم آج کے بعد آرمی کو سپورٹ کریں گے۔ ‘‘۔۔۔ اس مختصر سی ملاقات کے بعد آرمی قیادت کو سول حکومت کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہوگئی۔

 باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں