نوازشریف نے الیکشن 2018 کو ریفرنڈم قرار دے دیا


سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ 25 جولائی 2018ء کا الیکشن سب سے بڑا ریفرنڈم ہوگا۔ عوام ایسا فیصلہ سنائیں گے کہ دنیا خراج تحسین پیش کرے گی۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد لندن سے پاکستان واپسی کے حوالے سے پریس کانفرنس میں نوازشریف نے کہا کہ جیل کی کال کوٹھری اپنے سامنے دیکھ کر بھی پاکستان آ رہا ہوں۔ انہوں نے آصف زرداری کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ بھی سن لیں جو دعویٰ کر رہے تھے کہ میں نے لندن میں سیاسی پناہ لے لی ہے اب واپس نہیں آئوں گا۔ میں اپنے ملک آ رہا ہوں۔

نوازشریف نے مزید کہا کہ ووٹ کو عزت دو کے وعدے کو پورا کرنے پاکستان آرہا ہوں۔ احتساب عدالت کا فیصلہ ان فیصلوں کی قسط ہے جو ایک سال پہلے شروع ہوئے تھے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ کیا اس طرح کے فیصلے ہوتے ہیں؟ کیا اس طرح قانون و انصاف کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں؟ انصاف کے کئی پیمانے اور کئی ترازو بنالئے گئے ہیں، لاڈلوں کو کسی اور ترازو میں تولا جاتا ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ ان عدالتوں میں دو اور سابق وزرائے اعظم کے مقدمے بھی چل رہے ہیں، انہیں کئی کئی ماہ اور سالوں کا استثنیٰ کیسے مل گیا؟ بتایا جائے جس پٹیشن کو فضول کہہ کر پھینکا گیا تھا، وہ اچانک مقدس کیسے بن گئی؟

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی ہے جو 11 سال قید بامشقت سن کر بھی واپس آیا ہو؟ پردے ڈالنے کا وقت گزرگیا، اب پردے اٹھانے کا وقت ہے، بہت صبر سے کام لیا، کب تک اپنے سینے پر پتھر رکھتے رہیں گے؟ حقائق قوم کے سامنے لانے کا وقت آ گیا ۔

سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ کون ہیں جو اپنے چینل چلاتے ہیں اور منتخب جمہوری حکومت کو گالیاں دلواتے ہیں۔ ڈال دو عمر بھر کے لئے جیل میں، چڑھا دو پھانسی مگر نوازشریف کے ان سوالات کے جواب دو، کیا مجھے جیل میں ڈالنے سے یہ سوال بھی جیل چلے جائیں گے؟

نوازشریف نے کہا کہ اقتدار عزیز ہوتا تو سر جھکا کر جی حضوری کر کے ہر معاملے پر انگوٹھے لگا کر لمبے عرصے تک اقتدار میں رہ سکتا تھا، کئی سال پہلے کہا تھا کہ اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کروں گا ،جب تک آئین کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہر ادارہ اپنی حدود میں نہیں رہتا، اگر یہی کچھ کرنا ہے تو آئین کو ہٹا دو۔

نوازشریف نے مزید کہا کہ اب یہ کھیل نہیں کھیلے جا سکتے، کٹھ پتلیوں کا زمانہ گزر گیا، پاکستان پر رحم کرو، قوم کو سزا نہ دو، جگ ہنسائی، بے یقینی اور عالمی تنہائی سے قوم کو بچاؤ۔ معلوم ہے کہ یہ مشن کتنا مشکل اور کٹھن ہے۔ جس قوم نے مجھے تین بار وزیراعظم بنایا، اس کا مجھ پر قرض ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں