جسٹس شوکت عزیز صاحب، اوریا مقبول جان اور ایک عظیم فیصلہ


4 جولائی 2018کو جماعت احمدیہ کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جناب جسٹس شوکت عزیز صاحب کا ایک تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ اور 6 جولائی کو مکرم اوریا مقبول جان صاحب کا ایک مضمون “ایک اور عظیم فیصلہ ” کا نام سے روزنامہ 92 نیوز میں شائع ہوا۔ اور اس میں انہوں نے اس فیصلہ کی اور جناب جسٹس شوکت عزیز صاحب کی بہت تعریف فرمائی اور تحریر فرمایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پڑھ کر جج صاحب کے نام کو بوسہ دیا اور ان کا قلم اس قابل نہیں کہ اس فیصلہ کی تعریف کر سکے۔ اور مزید تحریر فرمایا کہ یہ دعائیں بھٹو صاحب اور ان کے ساتھیوں کے لئے بھی ہیں جنہوں نے 1974 میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ترمیم منظور فرمائی تھی۔

172 صفحات کے اس فیصلہ میں بہت سے تاریخی واقعات کو اس فیصلہ کی حقیقی بنیاد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کے قانونی نکات کا جائزہ تو قانون دان حضرات پیش کریں گے لیکن ہر صاحب ِ شعور کو ان تاریخی تفصیلات سے ضرور دلچسپی ہو گی جو کہ جج صاحب نے تحریر کئے ہیں۔ اور ان کو پرکھ کر ہر شخص اس فیصلہ کے بارے میں اپنی رائے قائم کر سکتا ہے۔ ان میں سے چند اہم نکات کے بارے میں جب جائزہ لیا گیا تو ایسی تصویر سامنے اْبھری کہ یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

 اوریا مقبول جان صاحب کی طرح جج صاحب نے بھی 1974 میں منظور کی جانے والی دوسری آئینی ترمیم کو اپنے فیصلہ کی اصل بنیاد کے طور پر بیان کیا ہے اور اس ضمن میں خاص طور پر اٹارنی جنرل کی اختتامی تقریر کو تاریخی قرار دے کر اپنے فیصلہ کی تائید میں درج کیا ہے۔ کیونکہ اس تقریر میں ساری کارروائی کا خلاصہ بیان کیا گیا تھا۔ اور یہ تقریر inverted commas میں درج کی گئی ہے، جس کا صاف مطلب ہے کہ معین اور حرف بحرف عبارت درج کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ بات سن کر ہر پاکستانی کا حیران رہ جائے گا کہ معزز عدالت کے فیصلہ میں اصل عبارت کو کافی تبدیل کر کے تبدیل شدہ اور تحریف شدہ عبارت درج کی گئی ہے۔ اس فیصلہ کے صفحہ 62 سے  64 پر 1974 کی کارروائی میں اٹارنی جنرل صاحب کی تقریر ملاحظہ کریں، قومی اسمبلی کی طرف سے جو کارروائی شائع کی گئی ہے اس کے صفحہ  2678 تا 2681 پر یہ حصہ شائع کیا گیا ہے۔ دونوں انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ ہر کوئی خود دیکھ سکتا ہے کہ عدالتی فیصلہ میں عبارت بدل کر تحریف شدہ عبارت شائع کی گئی ہے۔ مگر ایسا کیوں کیا گیا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنی تقریر کے آغاز میں ہی اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراف کیا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی قراردادیں اپنے اندر ہی  contradiction  (تضاد) رکھتی تھیں۔ یعنی ان دونوں کی عبارت ایسی تھی کہ ان کا ایک حصہ دوسرے کی تردید کر رہا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قانونی طور پر یہ قراردادیں صحیح نہیں تھیں۔ جب یہ قراردادیں ہی درست نہیں تھیں تو پھر ان پر کی جانے والی کارروائی درست کس طرح ہو گئی؟ اس بات کو چھپانے کے لئے اس عدالتی فیصلہ میں جہاں یہ لفظ آیا ہے وہاں اس لفظ کو conflictسے بدل دیا گیا۔ اسی طرح اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اگر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو پھر آئین اور اسلام کی رو سے احمدیوں کو اپنے عقائد profess، practice اور propagate کرنے کی آزادی دینی ہو گی۔ اور پھر آپ ان کو باغی اور تخریب کار قرار دے کر ان حقوق پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ اس عبارت کو درج کرتے ہوئے بھی عدالتی فیصلہ میں عبارت تبدیل کردی گئی ہے اور propagate کا لفظ اْڑا دیا گیا ہے۔ کیونکہ 1984 میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف نافذ کیا جانے والا آرڈیننس اور سارا عدالتی فیصلہ اس حق کی نفی کرتا ہے۔

 1953 میں بھی پنجاب میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف فسادات برپا کئے گئے تھے۔ جسٹس شوکت صاحب نے 1953 کے فسادات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اور جب وہ اس مرحلہ پر پہنچتے ہیں کہ جب فسادات کرنے والوں کے خلاف قانون اور آرمی حرکت میں آئے تو دیکھتے دیکھتے مہم چلانے والے پیچھے ہٹ گئے تو وہ اس ایکشن کو خلاف قانون قرار دیتے ہیں اور اس بات کی دلیل کے طور پر وہ لکھتے ہیں

The whole nation condemned it. The action was also resented by the Prime Minister.

(پوری قوم نے اس ایکشن کی مذمت کی اور وزیر اعظم اس پر ناراض تھے۔)

یہ بات خلاف واقعہ ہے کیونکہ جب یہ سب واقعات ہو چکے تھے اور عدالت ان فسادات پر تحقیقات کر رہی تھی۔ توخواجہ ناظم الدین صاحب سے 1953 میں لاہور میں ہونے والے جنرل اعظم صاحب کے آرمی کے ایکشن کی بابت سوال کیا گیا۔ انہوں نے جواب دیا

I, however, accept responsibility for General Muhammad Azam’s action because taking over by the military was, in my opinion the only opinion the situation could be saved.

ترجمہ: البتہ میں جنرل محمد اعظم کے ایکشن کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک اس وقت ملٹری کا نظم و نسق سنبھالنا وہ واحد راستہ تھا جس سے صورت ِ حال بچائی جا سکتی تھی۔

اور اس بیان میں سابق وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب نے اقرار کیا کہ انہیں اطلاع مل چکی تھی کہ خود وزیر اعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ صاحب احمدیوں کے خلاف فسادات کو ہوا دے رہے ہیں۔ اور اس غرض کے لئے وہ خود اخبارات میں احمدیوں کے خلاف کچھ اخبارات میں مضامین شائع کروا رہے ہیں۔ خواجہ ناظم الدین صاحب کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے۔ اور تحقیقاتی عدالت میں یہ ثابت ہوا تھا کہ ان اخبارات کو پنجاب کی حکومت نے ‘تعلیم بالغاں ‘ کے فنڈ سے رقم نکال کر اس رپورٹ کے مطابق ‘عطیہ غیبی ‘ کے طور پر دیئے تھے۔ باوجود اس کے کہ محکمہ تعلیم کے افسران نے اس پر احتجاج بھی کیا تھا۔ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات ِپنجاب 1953 ص84-85 (

ہم نے صرف دو مثالیں پیش کی ہیں۔ اور ایسی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فیصلہ میں جو تاریخی واقعات درج کئے گئے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ اب یہ سوال لازمی طور پر اُٹھتا ہے کہ جس فیصلہ میں درج حقائق ہی درست نہ ہوں تو کیا وہ فیصلہ عظیم فیصلہ کہلا سکتا ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں