سوشل میڈیا اظہار ذات ہے۔اپنے ہیرو خود بنیں


فیس بک نے میری بہترین خوبیوں کو اجاگر کیا ہے اور بری باتوں کو دبا دیا ہے۔یقینا میں کسی بے نام شخص کی طرح منظر سے غائب نہیں ہونا چاہتا۔میں چاہتا ہوں کہ میری سوچ سائبر ذرات کی صورت اس ورچوئل دنیا میں رہے۔

میں 35۔7بلین لوگوں میں سے نہیں ہونا چاہتا۔میں ایک بے نام شخص نہیں ہو نا چاہتا بلکہ میں ایک ایسا انسان بننا چاہتا ہوں جس کی سوچ اور خیال باقی رہےمیں چاہتا ہوں کہ میرے پوتے پوتیاں میرے چند الفاظ پڑھ سکیں۔یہ پرشکوہ نرگسیت پسندی نہیں ہے ۔بلکہ ایک طرح کا عظیم صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش ہے۔کہ ہم اپنا راستہ تراشیں اور خود کو پہچانیں۔ہم سب پیدائشی ہیرو ہیں۔

جب ہم ہزاروں کی تعداد میں کسی مسئلے پہ کمینٹ کرتے ہیں یا اسے فالو کرتے ہیں تو فرق پڑتا ہے ۔یہ مسئلہ وائرل ہوجاتا ہے اور یہ ظالموں کو بھی تبدیل کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔سوشل میڈیا نیوز میڈیا کے سینکڑوں آرٹیکلز کی نسبت کہیں زیادہ موثر ہے۔سوشل میڈیا کے مصنفین نظریاتی دقیانوس نظریات کی زنجیروں سے آزاد ہوتے ہیں ہم نے نئے آئی کونز بنائے ہیں جن کی نئی سوچ ہے اور جنہوں نے مخصوص طے شدہ نظریات کو جھٹلا دیا ہے لوگ ایک دوسرے بات کر کے ایک موثر اتفاق رائے تک پہنچ سکتے ہیں۔میرا ماننا ہے کہ بولے گئے الفاظ ہماری وراثت نہیں ہیں بلکہ لکھے گئے الفاظ ہمارا ورثہ ہیں۔

انسان کی جسمانی موت حتمی موت نہیں ہے۔کہ آخری بار اس کا نام لیا جائے گا یا الفاظ دہرائے جائیں گے ۔ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جو عظیم فلاسفروں کی سوچ میں حصہ نہیں ڈال سکتے لیکن کیا اس کا مطلب ہے کہ ہم اس کی کوشش کرنا بھی چھوڑ دیں۔ہمارے پاس پی آر کی کمپنیاں نہیں ہیں کہ وہ ہماری ہر بات ہر عمل کو لوگوں تک پہنچائیں۔لیکن ہمیں خود اپنا ہیرو ہونا چاہیے اور ہمیں اپنے ڈھول خود پیٹنے چاہیے۔

فیس بک ہمارے الفاظ کا مخزن ہے۔جب تک یہ بات ہم یاد رکھیں گےذہن اور اپنی اناوں کو قابو میں رکھیں گے یہ سیکھنے کا بہت بڑا پلیٹ فارم ہے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں