ہارون بلور: وہ تاریک راہوں میں مارا گیا


2012میں جب بشیر بلور کی شہادت کے ٹِکر ٹی وی سکرینوں پر چلنا شروع ہوئے تو میں اپنے دائیں ہاتھ کی طرف رکھی چائے کی پیالی کو میز پر چھوڑ کر ہی گاڑی نکال کر پشاور کے لئے روانہ ہوگیا تھا۔ حالانکہ اس واقعہ سے چند لمحے قبل ہی کراچی سے اپنے گھر لوٹا تھا۔

منگل کی رات مگر جب بشیر صاحب کے جواں سال بیٹے ہارون کی کارنرمیٹنگ پر خودکش حملے کی خبر آئی تو سُن ہوکر رہ گیا۔ یہ کالم لکھتے ہوئے بھی ذہن قطعی طورپر ماؤف ہے۔ سمجھ نہیں آرہی کہ لکھوں تو کیا لکھوں۔ رات سے بس اس کا خوش کن چہرہ ہی ذہن میں گھوم رہا ہے۔

ہارون سے صرف ایک ملاقات ہوئی تھی۔ 2013کے انتخابات کی مہم کے دوران ڈان کے سیرل المیڈا کے اصرار پر اس کے ساتھ مردان سے ہوتا ہوا پشاور پہنچا تھا۔ مردان میں ایک جلسے سے خطاب کے بعد عمران خان صاحب کو پشاور میں بھی اپنے کارکنوں کے دل گرمانا تھے۔ سکیورٹی حکام مگر جلسے کا مقام طے کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہے تھے۔ بالآخر پشاور کے گلبہار میں شوکت یوسف زئی کے انتخابی دفتر کو جانے والی گلی میں ایک شامیانہ لگادیا گیا۔

تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد گھنٹوں وہاں کھڑی اپنے لیڈر کا انتظار کرتی رہی۔ بالآخر عمران خان وہاں پہنچ ہی گئے مگر اپنی جیپ ہی سے خطاب کرنے کے بعد بغیر کسی کارکن سے ملے رخصت ہوگئے۔ رات گہری ہونا شروع ہوگی تھی۔ سیرل نے محض یہ پوچھا کہ حاجی غلام احمد بلور صاحب سے ملاقات کے امکانات ہیں یا نہیں۔ میں نے بغیر کسی کو فونکیے اسے گاڑی بلور ہاؤس کی طرف موڑلینے کی ترغیب دی۔

بلور ہاؤس نسبتاً خاموش اور کافی اندھیرے میں تھا۔ حاجی غلام احمد بلور صاحب جو عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی کی ایک نشست کے امیدوار تھے کسی انتخابی جلسے سے خطاب کرنے گئے ہوئے تھے۔ ہارون مگر وہاں موجود تھے۔ میرا نام سنتے ہی دروازے تک آئے بہت محبت سے مجھے اور ہمراہیوں کو گلے لگایا۔ ہمیں بٹھا کر چائے پانی کا حکم دیا اور پھر ہم سے پورے دن کی مصروفیات سنیں۔ یہ سنتے ہوئے اچانک تڑپ کر بولے کہ بھوک سے ہمارا بُرا حال ہو چکا ہوگا۔ ملازمین کو دوڑا کر فوراً پشاور کے روایتی کھانوں کے ڈھیر لگا دیے۔ سیاست کے بارے میں بڑھک بازی سے مکمل اجتناب برتا۔ زیادہ سنا بہت کم بولا۔ بشیر بلور کے ایسے کم گو وارث کو سن کر بلکہ مجھے تھوڑی مایوسی ہوئی۔

بشیر بلور کا یہ مؤدب، مہذب اور کم گو وارث مگر 2018ءکی انتخابی مہم میں دہشت گردوں کا پہلا شکار ثابت ہوا ہے۔ افواہ تو یہ بھی پھیل گئی تھی کہ اس کا 16سالہ بیٹا بھی اس کے ساتھ چلا گیا۔ بچے کی خوش قسمتی کہ بچ رہا۔ ہسپتال سے ایمبولینس میں اپنے والد کے جسدِ خاکی کو گھر لاتے ہوئے اس کی چھت پر بیٹھ کر کارکنوں کو حوصلہ دیتا رہا۔ وہ امن کی فریاد نہ کر رہا ہوتا تو پشاور شہر میرا یہ کالم لکھنے تک ہنگاموں کی آگ میں جل رہا ہوتا۔

”موروثی سیاست“ کی مستقل مذمت مجھ ایسے تجزیہ نگاروں نے شیوہ بنارکھا ہے۔ کچھ وراثتوں کو مگر دہشت گرد نہیں بھولتے۔ اپنے سیاسی مخالفین کی نسل کشی پر تلے بیٹھے ہیں۔ حتیٰ ان کے مخالف سوچ رکھنے والوں کی زبانیں خوف سے گنگ ہوجائیں۔

فیلڈ مارشل ایو ب خان کے دورِ آمریت میں بھی ہمارے سیاسی پھنے خانوں کی زبانیں گنگ ہوچکی تھیں۔ ان میں سے کئی ایک اپنے باہمی اختلافات بھول کر قائدِ اعظم کی بہن کے ہاں پہنچ گئے۔ محترمہ فاطمہ جناح کو قوم ”مادرِ ملت“ پکارتی تھی۔ ان سے فریاد ہوئی کہ جمہوری نظام کو بچانے کے لئے 1964کے صدارتی نظام میں فیلڈ مارشل کے مدمقابل کھڑی ہوجائیں۔ وہ تیار ہوگئیں تو ”مادرِ ملت“ کی کردار کشی کے لئے ریاست کے تنخواہ دار پراپیگنڈہ بازوں نے جو داستانیں پھیلائیں انہیں آج بھی یاد کروں تو خون کھول جاتا ہے۔

مزاحمت ایک وصف ہے جو شاید کچھ خاندانوں میں محض ڈی این اے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ بشیر بلور کے حصے میں بھی مزاحمت آئی تھی۔ ان سے ہارون کو منتقل ہوگئی۔ موروثی سیاست کے بارے میں سو طرح کے تحفظات رکھتے ہوئے بھی لہذا ”موروثی مزاحمت“ کی حقیقت کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوں۔

تمام سیاست دانوں کی بلاستثناءمذمت مگر اب فیشن بن چکا ہے۔ اس فیشن کا سہارا لیتے ہوئے سیاست دانوں کی حفاظت کے فریضے کو ” وی آئی پی پروٹوکول“ ٹھہراکر مستقل حقارت ونفرت کا نشانہ بنایا گیا۔ آوازیں بلند ہوئیں کہ قوم کے دیے ٹیکسوں سے قائم ہوئی پولیس اور بلٹ پروف گاڑیاں سیاست دانوں کی حفاظت سے دست بردار ہوجائیں۔ بالآخر حکم آگیا۔ ہم سب نے بھرپور تالیوں سے اس حکم کا سواگت کیا۔ دہشت گردوں کا کام مگر آسان ہوگیا۔ ہارون بلور پہلا نشانہ بنے۔

کئی روزقبل ماہِ رمضان کے دوران لکھے ایک کالم میں پاکستان اور افغانستان میں جاری شدت پسندی کی لہر کو بڑی لگن سے سمجھ کر ”آزاد“ ہونے کے دعوے دارمیڈیاکے لئے لکھے ایک کالم میں میرے بھائی سلیم صافی نے جان کی امان پاتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ دہشت گرد پاکستان میں انتخابی مہم کا انتظار کررہے ہیں۔ ریاست کو لہذا چوکنا رہنا ہوگا۔ ”ایک دن سب کو جانا ہے“ کہتے ہوئے مگر سلیم کی بات پر دھیان نہیں دیا گیا۔ دہشت گردوں پر نگاہ رکھنے کے ذمہ دار کئی افراد ویسے بھی ان دنوں سوشل میڈیا پر چلی خرافات پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ سیاست کو کرپشن سے بچانے کے لئے صادق وامین افراد کی تلاش اور پروموشن کی ذمہ داری بھی انہوں نے اپنے سر اٹھارکھی ہے۔

دہشت گردی کا پاکستان سے خاتمے کا اعلان ویسے بھی آج سے کئی ماہ قبل تھینک یو تھینک یو کہتے ہوئے ہوچکا ہے۔ ریاست کے دائمی اداروں کی توجہ اب دہشت گردی نہیں بلکہ کرپشن کے خاتمے کی جانب مبذول ہوچکی ہے۔ ہارون بلور کو لہذا مناسب تحفظ فراہم کرنے کی فرصت ہی کسی کے پاس نہیں تھی۔ وہ تاریک راہوں میں مارا گیا ہے۔ بلور خاندان کی دوسری نسل سے دہشت گردوں کا پہلا نشانہ۔ نجانے
”کب ٹھہرے گا دردِ دل کب رات بسر ہوگی۔ “
بشکریہ نوائے وقت۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں