خواب دیکھو مگر دیوانے مت بنو!


وہ اچھا بھلا دلبر قسم کا آدمی تھا۔ ہر وقت ہنسی مذاق، موج مستی، ہر کسی سے چھیڑ چھاڑ، انتہائی سنجیدہ باتوں کے درمیان بھی ہنسنے کا ایک نہ ایک پہلو تلاش کر لینے والا۔ وہ دوسروں پہ ہنستا تھا تو اپنی ہنسی اڑوانے کا حوصلہ بھی اس میں تھا۔ گاؤں سے شہر آیا، اچھا بیک گراؤنڈ تھا، محنتی بچہ تھا، پڑھائی میں خوب محنت کی، شہر کے سب سے اچھے کالج میں داخلہ ملا، امتیازی نمبروں سے پاس ہوا، یونیورسٹی گیا، وہاں سے بھی ایک پروفیشنل ڈگری لے کے باہر آیا‘ بعد ازاں دو تین ماہ کسی لوکل کمپنی میں گزارنے کے بعد اسے بہت اچھی کمپنی میں نوکری مل گئی۔

اس کا سٹائل بڑا دیسی قسم کا تھا۔ جہاں عام لوگ اپنے کلائنٹس کو سر سر کہتے ہوئے نہ تھکتے تھے وہ انہیں نام سے مخاطب کرتا، عزت سے بات کرتا لیکن کسی کو سر پہ چڑھانا اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ تین چار سال کی مسلسل محنت کے بعد تقریباً سارے کسٹمر اس کے دوست بن چکے تھے اور اس کے ذاتی تعلقات بھی ان سے بہت اچھے تھے۔ ایک تو کمپنی کی گُڈ وِل اس کے نام کے ساتھ موجود تھی اور دوسرا یہ کہ وہ خود بھی مارکیٹ کا بندہ تھا تو اتنے عرصے میں وہ ایک قابل رشک پی آر بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

وہ بہت زیادہ آؤٹ سپوکن تھا، ڈرتا ورتا کسی سے نہیں تھا، کھاتے پیتے گھر سے تھا اور شادی بھی نہیں ہوئی تھی تو افسروں کو وہ زیادہ لفٹ نہیں کراتا تھا۔ کسی بھی میٹنگ میں سب سے زیادہ چبھنے والے سوال اسی کے ہوتے، سب سے تلخ جواب بھی اسی کو سننے پڑتے لیکن اس کے چکر میں باقی لوگوں کی بھی نیّا پار لگ جاتی۔ جس کسی کو اپنا کوئی مسئلہ ڈسکس کرنا ہوتا وہ انتظار کرتا کہ یار پہلے یہ بول لے، اس کے بولنے کے بعد راستہ کھل جائے گا تو ہم لوگ بھی اپنی مرضی سے تھوڑے لقمے دے لیں گے۔ راستہ اکثر کھل جایا کرتا تھا، باقیوں کے کام کچھ نہ کچھ نکل بھی آتے لیکن اس کے معاملات اکثر لٹکے رہتے تھے، وجہ صرف یہی تھی کہ وہ چپ نہیں رہتا تھا، وہ بولنا جانتا تھا اور بولنا چاہتا تھا۔

اسے فارمیلیٹیز بہت بری لگتی تھیں۔ جس دن ٹائی لگا لیتا اس دن جیسے موت پڑی ہوتی تھی۔ کوٹ پہنتا تو بار بار بازو اوپر چڑھاتا۔ نارمل دنوں میں وہ عام سی کاٹن کی پتلون اور قمیص پہنتا لیکن جب اہم میٹنگز ہوتیں تو اسے تیار بھی ہونا پڑتا تھا، اور یہ تیاری بہرحال اسے شدید کوفت کا شکار کرتی تھی۔ دفتر آتے ہی جوتے اتار کے چپلیں پہن لیتا اور کام شروع کر دیتا۔ کام میں وہ کوئی کسر نہیں چھوڑتا تھا۔ اسی عادت کی وجہ سے ادارے والے بھی اس کی باتیں پی جاتے تھے۔ جانتے تھے کہ یہی بندہ ہے جس کی اس وقت سب سے اچھی کلائنٹ ڈیلینگ ہے اور ان کی مرضی کے رزلٹ بھی لے کے آ رہا ہے۔

شادی کے بعد اسے خیال آیا کہ اپنا گھر بنایا جائے۔ اس نے چھوٹے سے ایک گھر کے لیے جیسے تیسے پلاٹ خرید لیا اور عمارت بنانے کا سوچنے لگا۔ اسے اندازہ ہوا کہ نوکری میں جتنا کمایا تھا اس سے زمین لے لی، اب کیا ہو گا؟ اسی بیچ گھر میں جائیداد کا تھوڑا بہت بٹوارہ ہوا تو اس کے حصے میں اتنے پیسے آ ہی گئے جن سے اس نے ایک مناسب سا گھر بنا لیا۔ بچے ہوئے، ان کی پڑھائی کا خرچہ بھی شروع ہو گیا، لیکن اس کی تنخواہ اتنی مناسب تھی کہ اچھا خاصا گزارہ چل جاتا تھا۔ وہ اب بھی اتنا ہی شوخ اور چلبلا تھا جتنا پہلے دن اسے دیکھا گیا۔ وہ تو لمبا سفر تک اس وجہ سے نہیں کرتا تھا کہ آٹھ دس گھنٹے ایک ہی جگہ پہ اکڑ کے بیٹھنا پڑے گا۔ ٹرین کا آپشن موجود ہوتا تو وہ ٹرین میں جاتا ورنہ اپنی گاڑی لے کر نکل جاتا۔ راستے میں چھتیس جگہ رکتا رکاتا آرام سے اپنی منزل تک پہنچتا۔

ایک دن اس نے فیصلہ کر لیا کہ اپنا بزنس شروع کرنا ہے۔ خاندان میں پہلے بھی سب کارخانے دار تھے۔ واحد بندہ وہی تھا جو کہیں نوکری کر رہا تھا۔ انہیں وہ کہتا تھا: یار اتنا پڑھا ہے تو کم از کم بندہ کچھ نہ کچھ فائدہ تو اٹھا لے۔ اس وقت اسے لگا کہ شاید وہ غلط تھا اور باقی سب ٹھیک تھے۔ یہی محنت اگر اپنے کاروبار میں کی جائے گی تو پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ نوکری کے ساتھ ساتھ اس نے بہت چھوٹے پیمانے پر اسی طرح کا اپنا ذاتی کاروبار بھی شروع کر دیا۔ کسٹمر اسے چونکہ پہلے سے جانتے تھے‘ اس لیے کچھ لوگ اسے بھی آرڈر کرنے لگے۔ یوں ذاتی کاروبار کے خواب کی تعبیر سامنے نظر آنے لگی۔

آٹھ نو برس جاب کرنے کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ استعفیٰ دے کر فل ٹائم اپنے کاروبار کی طرف توجہ دے کیونکہ ڈیڑھ سال پہلے شروع کیا گیا یہ کام اب اس سے مزید وقت مانگتا تھا۔ اس کا استعفیٰ دفتر موصول ہوا تو سب لوگ بہت حیران تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ایک نان سیریس آدمی ہے، کاروبار کیسے کر سکتا ہے۔ یہ صرف ان کا خیال تھا۔ ریزائن کرنے کے ٹھیک ایک برس بعد وہ اتنے کاروباری اثاثوں کا مالک تھا جتنی رقم پہلے وہ کم از کم پانچ سال میں کمایا کرتا تھا۔

پچھلے ہفتے تھوڑا وقت تھا تو اسے فون کیا اور اس سے ملاقات ہو گئی۔ جسارت علوی اپنے دفتر میں تھا۔ چھوٹی سی فرنچ کٹ داڑھی پورے چہرے پہ چھا چکی تھی۔ وزن پانچ چھ کلو کم تھا، چہرے کی لکیریں جو ہمیشہ ہنسی کی خبر سنایا کرتی تھیں وہ سب الٹی لٹکی ہوئی تھیں، جیسے انگریزی حرف ’یو‘‘ کو الٹا کر دیا جائے۔ عجیب سی تھکن اس کے چہرے پہ تھی۔ ایک گھنٹے کی اس ملاقات میں ایک بھی لطیفہ یا جگت اس کے منہ سے نہیں نکل پائی۔ وہ بہت پریشان تھا۔ کاروبار میں حکومت کی طرف سے نئی پابندیوں کا سامنا تھا۔ بل پر سائن کرنے والے ارکان اسمبلی کاروبار کی الف بے بھی نہیں جانتے تھے اور نئی شقیں منظور ہوتے ہی ساری بجلی ان کاروباریوں پہ گر رہی تھی۔ اسی کے جیسے دو بزنس مین گرفتار ہو چکے تھے، وہ شدید اینگزائٹی کا شکار تھا۔ وہ پاکستان میں کوئی بھی کاروبار شروع کرنے کے شدید خلاف ہو چکا تھا۔ ہر وقت ہنسی مذاق کرنے والے جسارت کی باتوں کا نچوڑ یہ تھا؛

‘یار نوکری میں بیٹھ کے لگتا تھا کہ یہ سب کام بڑے آسان ہیں، ہم لوگ افسروں سے بھڑ جاتے تھے، چھوٹی چھوٹی باتوں پہ طوفان اٹھا دیتے تھے، ہمیں لگتا تھا کہ یہ لوگ جان بوجھ کر اتنی چھوٹی چھوٹی ڈاکومنٹیشن میں اتنی دیر کرتے ہیں، لیکن ایسا نہیں بھائی۔ نوکری کرنے والا ادھر بہت سکھ میں ہے۔ پہلے ہفتے میں دو چھٹیاں ہوتی تھیں اب دو ہفتوں بعد بھی کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ رات گئے جب کام ختم ہوتے ہیں تو میں گھر جاتا ہوں۔ پیسہ کمایا ہے لیکن ساتھ جو ٹینشن بندھی ہوئی ہے وہ باہر والا کوئی بھی نہیں سوچ سکتا۔ کوئی بھی کاروباری دیکھ لو، اس کے ہاتھ اس برے طریقے سے بندھے ہوں گے کہ ہر وقت وہ میری طرح اوازار بیٹھا ہو گا۔ یہاں کوئی بھی ضابطہ کوئی بھی قانون طے نہیں ہے۔ جس سرکاری افسر کی داڑھ تلے آپ آئیں گے‘ وہ آپ کو چبا جائے گا۔ ان کے خیال میں ہم نوٹوں کی فصلیں اگاتے ہیں۔ ہر دوسرے دن کسی نہ کسی دفتر میں حاضری دینی پڑتی ہے۔ لیگل ایڈوائزر نہ رکھیں تو مصیبت ہے، رکھ لیں تو اس کے خرچے بھی پورے کریں۔ کتنے ہی لوگ مجھے کام پھیلانے کا کہہ چکے ہیں، انویسٹر پیسہ تک لگانے کو تیار ہیں لیکن یار کس منہ سے اس گورکھ دھندے کو اور پھیلاؤں۔ وقت کہاں سے لاؤں گا، کیا سونا بھی بند کر دوں یا گھر جانا چھوڑ دوں؟ لاؤ ذرا کسی موٹیویشنل سپیکر کو جو اب مجھے سمجھائے کہ خواب دیکھتے رہنا زیادہ آسان ہوتا ہے یا انہیں پا لینا؟

میرا وقت، میری خوشیاں، میری تفریح، میرا ملنا ملانا، ادھر ادھر گھوم لینا، بے فکری سے کہیں بھی بیٹھ کے کچھ بھی کھا پی لینا، سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ ایک دم زیرو! تو بابو یاد رکھو، اگر کبھی اپنا کام کرنے کی سوچو تو پہلے یہ سوچ لو کہ کرنا کہاں ہے۔ اگر یہاں کرنا ہے تو بارہ گھنٹے کی بجلی لوڈ شیڈنگ، گیس کی چھ ماہ عدم فراہمی، کمرشل بل، بیسیوں مختلف ٹیکس، نت نئی قانون سازی اور اس کے بل پہ آئے روز چکر لگانے والی انسپیکشن ٹیموں کے لیے تیار رہو۔ اور ہاں، چلتی نوکری کو لات مارنا عین بد نصیبی ہے۔ خواب دیکھو لیکن ان کے پیچھے دیوانے مت ہوا کرو!‘‘

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 444 posts and counting.See all posts by husnain