ایک آسٹریلوی گورے کا قبول اسلام سے آخری لمحات میں ڈر جانا


adnan-khan-kakar-mukalima-3کچھ عرصہ ہوا کہ ایک ترک مبلغ نے ایک آسٹریلوی گورے عیسائی کے اسلام کی طرف راغب ہونے کا معاملہ بیان کیا تھا۔ پہلے وہ آسٹریلیا میں رہتا تھا۔ بتا رہا تھا کہ ایک گورے کے دل میں اللہ تبارک و تعالی نے نیکی ڈالی اور وہ اسلام کی طرف راغب ہوا۔ وہاں کی مسلم کمیونٹی کا مسرت سے برا حال ہو گیا کہ دیکھو ہمارے دین کی حقانیت اس گورے کو بھی نظر آ گئی ہے۔ خوشی خوشی اسے ہار پہنا کر گھوڑے پر بٹھایا اور جلوس کی صورت میں اسلامک سینٹر کا رخ کیا۔ اس مقام اور رتبے پر دنیا دنگ رہ گئی۔ راہ چلتے رک گئے اور اس مرد بلند بخت کی قسمت پر رشک کرنے لگے۔

پھر اسے وہاں کے بڑے مولوی صاحب کے سامنے پیش کیا گیا۔ مولوی صاحب نے پوچھا کہ کیا تم راضی خوشی اسلام قبول کر رہے ہو؟ وہ بولا ہاں، ایسا ہی ہے۔ مولوی صاحب نے پوچھا تمہیں کوئی جنتی لڑکی گھر سے بھگا کر تو نہیں لائی اور اب تمہارے سے زور زبردستی کر کے نکاح کرنے کے لیے تو اسلام قبول نہیں کرایا جا رہا ہے؟ وہ مرد نیک بولا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ جنتی لڑکیوں کے دھوکے میں کئی دفعہ ان کی والداؤٖں سے کہ افغانی شٹل کاک برقعے میں بالکل انہیں جیسی دکھتی ہیں، جوتے کھانے کے بعد اب ان سے دور ہی رہتا ہوں۔

تس پہ مولوی صاحب بولے کہ دیکھو، کیا تم کو معلوم ہے کہ تم پر راہ حق میں آنے کے بعد اس چڑھتی جوانی والی عمر میں بھی ایک ننھا سا سنجیدہ سا آپریشن بھی کیا جا سکتا ہے، کیا تم اسے سہہ لو گے؟ ایک لحظے کے لیے اس مرد جری کے چہرے پر ایک تاریک سا سایہ لہرایا لیکن وہ کمال استقامت سے سر بلند کر کے بولا کہ میں ہر تکلیف اٹھانے کو تیار ہوں۔

مولوی صاحب کو لاجواب ہوتے دیکھ کر لوگوں نے ہاہاکار مچا دی کہ اب یہ مرد صالح دائرہ اسلام میں آیا ہی چاہتا ہے اور مولوی صاحب اسے مزید ڈرا دھمکا کر نہیں روک سکتے۔ لیکن بھولے لوگ، بھلا کیا جانیں کہ تجربے کا کوئی مول نہیں ہوتا۔

مولوی صاحب مجمعے پر نگاہ غلط انداز ڈال کر مسکائے اور بولے اے مرد راست باز، تیری حق گوئی اور دلیری دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ تو اسلام قبول کر لے گا۔ تونے سارے امتحان پاس کر لیے ہیں۔ بس ایک آخری بات کو جان لے اور پھر کلمہ پڑھ اور دائرہ اسلام میں آجا۔

Auburn-Gallipoli-Mosque-Sydneyوہ شخص کہ عجب جوش و ولولہ اس کے چہرے سے چھلکا پڑ رہا تھا، بولا کیا بات ہے جو مجھے جاننی ہے۔ مجھے ڈرانے دھمکانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں اپنے ارادے سے نہیں پھروں گا۔ جو حق ہے اسی کی گواہی دوں گا۔ وقت ضائع مت کریں۔ بس مجھے مسلمان کر دیں۔ آپ جو کچھ بھی میری جانکاری میں اضافے کے لیے کہیں، مجھے قبول اسلام سے ہرگز نہ روک پائے گا۔

مولوی صاحب بولے، بس یہ جان لے کہ ایک دفعہ تو مسلمان ہو گیا اور پھر دوبارہ غیر مسلم ہوا تو بچہ ہم لوگ تجھے جان سے مار دیں گے۔ یہیں زمین میں گاڈ دیں گے اور کسی کو خبر تک نہ ہووے گی۔وہ شخص مسکایا اور بولا مولوی صاحب، مذاق مت کریں۔ وہ بات بتائیں جو مجھے جاننی ہے۔مولوی صاحب بولے یہی بات ہے جو تجھے جاننی تھی۔ اب بول، کلمہ پڑھاوں؟

اس شخص کا رنگ سرخ سے سپید ہونا شروع ہوا۔ اس نے مجمعے کی طرف دیکھا کہ شاید کوئی اس مذاق پر، اس کی ایسی درگت دیکھ کر ہنستا مسکراتا نظر آئے مگر وہ سب انتہائی سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ بلکہ پڑوس میں قصاب کی دکان والا پنج وقتہ نمازی تو باقاعدہ اپنے بغدے کی دھار کو چیک کرنے لگا تھا۔

اب اس کا حوصلہ جواب دینے لگا۔ اس نے مجمعے سے پوچھا کہ کیا مولوی صاحب سچ فرما رہے ہیں؟

مجمع جوش سے یک آواز ہو کر بولا حق ہے، مولوی صاحب سچ فرماتے ہیں۔

تس پہ اس مردک کا حوصلہ جواب دے گیا اور وہ قبول اسلام کے ارادے کو سات سلام پھیر کر پھر واپس اپنی دنیا میں لوٹ گیا اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

نوٹ: عبارتی رنگ آرائی کے علاوہ یہ سچا واقعہ ہے۔ وہ مبلغ بتا رہا تھا کہ کس طرح اس شخص نے اسلامی تعلیمات اور عقاید کا مطالعہ کیا اور اسلام قبول کرنے کو تیار ہوا لیکن پھر مولوی صاحب نے جب اسے مرتد ہونے پر قتل کرنے کی سزا بتائی تو واپس عیسائیت پر پلٹ گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا مولوی صاحب کو یہ علم نہیں تھا کہ آسٹریلیا ایک غیر مسلم ملک ہے اور وہاں شرعی سزائیں نافذ العمل نہیں ہوں گی؟ قصہ سنانے والے ترک مبلغ نے درد دل سے بتایا تھا کہ بعض تبلیغ کرنے والے لوگوں کو اسلام کی طرف کھینچنے کی بجائے دور دھکیل رہے ہیں اور ان کو خود تربیت کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

29 thoughts on “ایک آسٹریلوی گورے کا قبول اسلام سے آخری لمحات میں ڈر جانا

  • 09-05-2016 at 1:14 am
    Permalink

    Aaj kal modern hone ke chakar mein log kuch bhi ghatiya likh dete hain. Aik murtad ki saza mout hai.aap zyada liberal naa banein.

  • 09-05-2016 at 1:16 am
    Permalink

    درست فرمایا۔ ایک مرتد کی سزا موت ہے۔ اس گورے کو بھی یہی بتایا گیا تھا۔

    ویسے زیادہ نہیں تو کتنا لبرل بننا مناسب رہتا ہے؟ آپ کتنی لبرل ہیں؟

    • 09-05-2016 at 9:59 pm
      Permalink

      I loved the response

  • 09-05-2016 at 1:25 am
    Permalink

    Afsos dar afsos

  • 09-05-2016 at 1:58 am
    Permalink

    سبحان اللہ!! کتنےسارے غیر مسلم جواسلام سے متاٗٗثر ھوکردائرہ اسلام میں داخؒؒل ہونے کیلئے پر تول رہے تھے آُُُُُُُُُُُپ نےانہیں ناحق قتل ہونے سے بچا لیا، آپکے اس مضمون کو پڑھکریقیناً وہ مسلمان ھونیکے ارادے سے کان پکڑکرتائب ہوجاٗئیں گے، اللہ تعا لٰی آپکو انسانیت کی اس عظیم الشان خدمت پر اجر عظیم عطا فرمائے ۔ ۔ ۔ اور ہدایت بھی۔۔۔۔ آمین

  • 09-05-2016 at 4:17 am
    Permalink

    Truly appreciate the decision of escaped guy.they were not making him Muslim. they wanted to get total control of one normal human’s mind n soul for exploitation .

  • 09-05-2016 at 7:25 am
    Permalink

    مولوی صاحب نے غلط کیا لیکن عبارتی رنگ آرائی بھی تو غلط ہے. تنقید مثبت انداز میں کی جائے تو نتیجہ بہتر آتا ہے.

  • 09-05-2016 at 7:38 am
    Permalink

    یہاں امریکہ میں میرے ایک بزرگ دوست ہیں ڈیوڈ جو ریٹائرڈ قانون دان ہیں ـ یہودی النسل ہیں مگر جوانی میں ہی یہودیت ترک چکے ہیں ـ خُود کو Agnostic کہتے ہیں ـ ہم اکثر ملتے ہیں ـ امریکی سیاست سے لیکر عالمی سیاست اور مختلف مذاہب پر گفتگو کرتے ہیں ـ ایک روز قبولِ اسلام اور قبولِ یہودیت پر بات چل نکلی ـ کہنے لگے کہ یہودی بننا بیحد مشکل ہے ـ بہت سے مراحل سے گذرنا پڑتا ہے جو دشوار ہیں مگر یہودیت سے خارج ہونا بیحد آسان ہے ـ بس کہہ دیجیئے کہ آپ آج کے بعد یہودی مذہب پر ایمان نہیں رکھتے جبکہ اسلام میں اس کے اُلٹ ہے ـ مُسلمان بننا نہایت آسان ہے، مسجد جاؤ، امام کے ہاتھ پر بیعت کرو، کلمہ پڑھو اور مسلمان ہو جاؤ ـ کہنے لگے اسلام سے دستبردار ہونا ناممکن ہے ـ اسلام چُھوڑنے کی سزا موت ہے ـ مزید کہنے لگے کہ مذہب اسلام پر کوئی مسلمان سوال کرنے کا حق نہیں رکھتا ـ سوال کرنے کا مطلب گردن زدنی ہے ـ ڈیوڈ نے مزید کہا کہ اگر اسلام کو اپنی حقانیت پر پورا اعتماد ہے تو پھر گردنیں کس لئے؟ ـ بقول ڈیوڈ کے اسلام کسی فرد کو مسلمان کرنے کی بجائے یرغمال بناتا ہے ـ
    ڈیوڈ نے کہا کہ میں اب یہودی مذہب کا پیروکار نہیں ہوں مگر کبھی کبھی یہودی عبادت گاہ جاتا ہوں اور مذہب سے متعلق سوال اٹھاتا ہوں ـ میرے سوال کو تحمل سے سنا جاتا ہے اور اس کا جواب دیا جاتا ہے جو ظاہر ہے کہ میرے لئے ناقابلِ قبول ہوتا ہے ـ ڈیوڈ نے کہا کہ جبکہ مُسلمان اپنی مسجد میں خُدا اور پیغمبرﷺ سے متعلق اگر کوئی سوال اٹھائے گا تو اُسے وہیں مُرتد سمجھ کر مار دیا جائے گا ـ
    آخر میں ڈیوڈ نے بڑی دلچسپ بات کہی ـ کہنے لگے اگر اسلام سے مُرتد کی سزا اُٹھا لی جائے تو مسلمانوں کی اکثریت ترکِ اسلام پر راغب ہو جائے گی ـ

    • 09-05-2016 at 8:09 pm
      Permalink

      بہت دلچسپ بات شئیر کی آپ نے ظہور صاحب یہودیت کے حوالے سے ۔۔

      میں نے کہیں پڑھا تھا کہ یہودی مذھب میں داخلے ایک شرط یہ ہے کہ آپ کو یہودی عقائد اور شریعت و مزھب پر تنقید اور سوالات اٹھانے پڑتے ہیں اور ربائی کو ان کے سوالات کے مطمئن کرنے والے جوابات دینے ھوتے ہیں ، جب تک آپ تنقیدی سوالات اٹھانے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہ کرلیں ، آپ کو یہودیت میں داخلے کی اجازت نہیں ملتی،،، یعنی وہ سوال اٹھانے کے رویہ کو پروموٹ اور انکریج کرتے ہیں ، جبکہ ہماری طرف سوال اٹھانا منع ہے ۔۔۔۔ چند دن پہلے اوریا مقبول جان نے ’حرف راز‘ پروگرام میں سوال اٹھانے پر اینکر کا جو حال کیا ، خدا کی پناہ ۔۔۔!!!

  • 09-05-2016 at 11:31 am
    Permalink

    مرتد کی سزا ہرگز موت نہیں ہے.نہ ہی قرآن کریم میں ایسی کسی سزا کا ذکر ہے اور نہ ہی صحیح احادیث میں ایسی کوئی بات بیان ہوئی ہے.یہ سب ملاں کی دکان داری ہے.آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لوگ مرتد ہو کر چلے گئے کسی ایک کو بھی سزا نہیں دی گئی.

  • 09-05-2016 at 11:49 am
    Permalink

    درست فرمایا جناب۔ بلکہ تنقید کی بھی کیا ضرورت ہے۔ ایک ٹویٹ ہی کافی ہے۔

    “معتبر عینی شاہد نے بتایا ہے کہ آسٹریلیا میں ایک گورے نے عین وقت پر اسلام قبول کرنے سے اس لیے انکار کر دیا کہ وہ مولانا کی بتائی ہوئی مرتد کی سزا دے ڈر گیا تھا”۔

  • 09-05-2016 at 12:34 pm
    Permalink

    مرتد کی دو قسمیں ہیں اور مرتد ملی اور فطری اور انکے احکام مختلف ہیں

    • 09-05-2016 at 1:03 pm
      Permalink

      حضرت یہ شرعی احکامات کیا کسی غیر مسلم ملک میں بھی لاگو کیے جاتے ہیں؟ کون لاگو کرتا ہے؟

  • 09-05-2016 at 1:49 pm
    Permalink

    پس ثآبت شد کہ یہ فرنگی کبھی دل سے اسلام کے بارے میں مخلص نہیں ہو سکتے۔

  • 09-05-2016 at 2:40 pm
    Permalink

    a treacherous person if he is true he is challenged to present all identities including his own identity to confirm his truthfulness

    • 09-05-2016 at 3:18 pm
      Permalink

      ولی را ولی می شناسد۔

      لیکن پہلے آپ اپنی اصلی آئی ڈی، شناختی کارڈ کی کاپی، فون نمبر، دفتر کا پتہ، گھر کا پتہ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور جائیداد کے کاغذات کی گزیٹڈ افسر سے تصدیق شدہ کاپیاں بھیجیں تاکہ یقین ہو جائے کہ آپ سچے دل سے سوال کر رہے ہیں یا مکاری کر رہے ہیں۔

  • 09-05-2016 at 3:30 pm
    Permalink

    Perfect example of LANDA liberalism

    • 09-05-2016 at 8:14 pm
      Permalink

      بابر صاحب آپ لنڈے کی زبان (انگریزی) میں دوسروں پر لنڈے کا لیبل لگا لگے رہے ہیں ۔۔۔۔۔ ھا ھا ھا

      بابر صاحب آپ کے گھر میں کوئی آئینہ تو نہیں ھو گا ؟؟؟

  • 10-05-2016 at 10:12 am
    Permalink

    محترم عدنان صاحب
    السّلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ

    کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے اپنے چچا کے قاتل وحشی رضی اللہ تعالی عنہ کو مسلمان کرنے کے لیے اِس کے نخرے نہیں اٹھاۓ؟

    دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں !

    کیا کوئی ذی شعورجیّد عالم یا عامی مسلمان (جو عقل سے معذور نہ ہو) شوق سے آنے والے کسی نو مسلم کو اِس طرح ذلیل کر سکتا ہے؟
    کیا کسی نو مسلم سے اِس طرح کی گفتگو کی جا سکتی ہے؟

    “عبارتی رنگ آرائی”

    گستاخی معاف!
    یہ لفظ میں نے نہیں بلکہ آپ نے خود استعمال کیا۔

    میرے پاس اِس تمثیل کے لیے اِس لفظ سے زیادہ بہتر اور مناسب لفظ نہیں ہے۔

    کسی بھی دل آزاری کی معذرت!

    • 10-05-2016 at 11:09 am
      Permalink

      حضرت شاید آپ نے مضمون پر غور نہیں کیا ہے۔ اس گورے کو خاکسار نہ تو مسلمان کرنے کی کوشش کر رہا تھا،اور نہ اسے مرتد کی سزا کے بارے میں بتا رہا تھا۔ مضمون کو دوبارہ پڑھنے کی زحمت اٹھا لیں۔

      قصے کا راوی ایک معتبر شخص ہے۔

  • 10-05-2016 at 10:13 am
    Permalink

    حضرت وحشی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا اسلام بھی عجیب طریقہ سے ہوا ۔ حضرت وحشی رضی ﷲ عنہ کو ﷲ تعالیٰ نے سرورِ عالم صلی ﷲ علیہ وسلم کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ اے محمد صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ وحشی کو دعوت اسلام پیش کیجئے۔ سرورِ عالم صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنا قاصد بھیجا کہ ﷲ تم کو یاد فرمارہے ہیں، ﷲ پر ایمان لے آئو۔ وحشی حالت ِکفر میں ہے، رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تو بعد میں ہوئے، ابھی ایمان نہیں لائے لہٰذا انہوں نے جواب دیا کہ آپ کے خدا نے تو قرآنِ پاک میں یہ نازل فرمایا کہ جو مشرک ہوگا، قاتل ہوگا، زانی ہوگا
    وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَاماً یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ
    (سورۃُ الفرقان، اٰیۃ:۶۹)
    وہ شخص مجرم ہے اس کو تو دگنا عذاب ملے گا لہٰذا آپ مجھے کیسے دعوت اسلام دے رہے ہیں جبکہ میں یہ سب کام کرچکا ہوں وَاَنَا قَدْ فَعَلْتُ ذٰلِکَ کُلَّہُ میں نے قتل بھی کیا، شرک بھی کیا کوئی گناہ نہیں چھوڑا۔
    دیکھئے سوال و جواب چل رہے ہیں، ﷲ کا پیغام بواسطۂ نبوت وحشی کو پہنچ رہا ہے اور وحشی کا پیغام بواسطۂ نبوت ﷲ تعالیٰ تک پہنچ رہا ہے، آپ سوچیے کہ اس کے بعد اگر ﷲ عذاب نازل کرتا تو کیا عجب تھا کہ اچھا مردود نخرے بھی کرتا ہے اس کے اوپرآگ برسادو ، لیکن آہ! ارحم الراحمین کی شان دیکھیے کہ ان کے اسلام کے لیے دوسری آیت نازل ہورہی ہے:
    اِلاَّ مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلاً صَالِحاً
    (سورۃُ الفرقان، اٰیۃ:۷۰)
    وحشی سے کہہ دو کہ اگر وہ توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرتا رہے تو سب معاف، پھر کوئی عذاب نہیں ہوگا۔ اس پر انہوں نے دوسرا پیغام بھیجا کہ میں ایمان لانے کے لیے تیار ہوں، توبہ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن ساری زندگی صالح عمل کرنا یہ شرط بہت سخت ہے ہٰذَا شرط شدید لَعَلِّیْ لَا اَقْدِرُ عَلَیْہِ مجھے امید نہیں کہ میں اس پر قائم رہ سکوں، یعنی میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ ساری زندگی عملِ صالح کرتا رہوں، اب بتلائیے حالتِ کفر میں ہیں، اتنے بڑے مجرم ہیں کہ نبی کے چچا کو قتل کیا ہے اور ناز دِکھا رہے ہیں لیکن آہ! کیا رحمت ہے ﷲ تعالیٰ کی کہ ان کے ایمان کے لیے تیسری آیت نازل فرمائی:
    { اِنَّ ﷲَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ}
    (سورۃُ النسآء، اٰیۃ: ۴۸)
    ﷲ تعالیٰ مشرک کو معاف نہیں فرمائیں گے لیکن شرک کے علاوہ سب گناہ معاف کردیں گے چاہے وہ عملِ صالح کرے یا نہ کرے یعنی عملِ صالح سے بھی آزادی دے دی۔ اب ان کا جواب سن لیجیے۔ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کو بذریعہ قاصد بھیجتے ہیں کہ اِنِّیْ فِیْ رَیْبٍ میں ابھی شک میں ہوں کیونکہ ﷲ نے میری مغفرت کو مقید بالمشیت کردیا ہے کہ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ تو مشیت کی جو قید ہے اس میں مجھ کو شک ہے اَنَّ مَشِیَّۃَ ﷲِ تَعَالٰی تَکُونُ فِیَّ اَمْ لاَ یعنی ﷲ کی مشیت میرے بارے میں ہوگی یا نہیں ہوگی؟ اس میں کوئی ضمانت، کوئی گارنٹی نہیں ہے، مجھ کو اس کا یقین نہیں آرہا ہے۔ تین آیتیں نازل ہوگئیں۔ اب چوتھی آیت ﷲ تعالیٰ نازل فرمارہے ہیں وحشی کے اسلام کے لیے، اس سے اندازہ کرو کہ حق تعالیٰ کتنے ارحم الراحمین ہیں کہ ایک جلیل القدر صحابی یعنی نبی کے چچا حضرت سید الشہداء حمزہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے قاتل کو بھی آغوشِ رحمت میں لے رہے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ ﷲ کی کیا شان ہے کہ کروڑوں زِنا اور بدمعاشی کے باوجود کوئی نادِم ہوکر توبہ کرلے تو سب معاف فرمادیتے ہیں۔ اب ﷲ تعالیٰ نے چوتھی آیت نازل فرمائی:
    قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِن رَّحْمَۃِ ﷲِ اِنَّ ﷲَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعاً
    (سورۃُ الزمر، اٰیۃ: ۵۳)
    اے نبی! آپ میرے بندوں سے فرمادیں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا کہ میری رحمت سے نا امید نہ ہوں، اب اس میں مشیت کی بھی قید نہیں۔ چار چارتاکیدوں کے ساتھ فرمایا کہ کوئی بھی گناہ ہو، ﷲ سب بخش دے گا۔ اس آیت کو سن کر حضرت وحشی کیا کہتے ہیں؟
    نِعْمَ ہٰذا واہ! کیا ہی اچھی آیت ہے ۔ چنانچہ فوراً آئے اور اسلام قبول کرلیا۔

  • 10-05-2016 at 10:18 am
    Permalink

    نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم جلیل القدر صحابی یعنی اپنے چچا حضرت سید الشہداء حمزہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے قاتل کو بھی آغوشِ رحمت میں لے رہے ہیں۔

  • 10-05-2016 at 11:55 am
    Permalink

    محترم عدنان صاحب

    “مولوی صاحب بولے، بس یہ جان لے کہ ایک دفعہ تو مسلمان ہو گیا اور پھر دوبارہ غیر مسلم ہوا تو بچہ ہم لوگ تجھے جان سے مار دیں گے۔ یہیں زمین میں گاڈ دیں گے اور کسی کو خبر تک نہ ہووے گی۔وہ شخص مسکایا اور بولا مولوی صاحب، مذاق مت کریں۔ وہ بات بتائیں جو مجھے جاننی ہے۔مولوی صاحب بولے یہی بات ہے جو تجھے جاننی تھی۔ اب بول، کلمہ پڑھاوں؟”

    ” بچہ ہم لوگ تجھے جان سے مار دیں گے”
    میری ناقص راۓ میں یہ الفاظ کوئی ذی عقل انسان استعمال نہیں کرسکتا۔ یقینا یہ صاحب پاگل پن کے مریض تھے یا نشے میں مدہوش تھے!

    • 10-05-2016 at 12:03 pm
      Permalink

      بہت شکریہ جناب کہ آپ نے ان دو امراض کی تشخیص خاکسار سے ہٹا کر ان صاحب پر ڈال دی ہے۔ ممنون ہوں۔

  • 10-05-2016 at 12:28 pm
    Permalink

    نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم اپنے چچا کے قاتل کو مسلمان کرنے کے لیے کیسے بے چین تھے؟

    اور مذہب کے نام نہاد ترجمان نے تمثیل میں آسٹریلیا کے آمدہ مہمان کو کیا کچھ کہا؟
    اِن کا رویّہ کیسا ترش اور روکھا تھا؟
    تمثیل کے راوی کو بھی یقین نہ آیا ہو گا۔

    اصل مریض مولوی صاحب تھے یا پھرتمثیل کے راوی!

    حقیقت اللہ بہتر جانتا ہے، مجھے معلوم نہیں!

    • 10-05-2016 at 12:45 pm
      Permalink

      تمثیل کا راوی خود ایک مبلغ اسلام ہے اور نہایت ہی معقول اور خوش گو شخص ہے جو برائی کرنے کا قائل نہیں ہے۔ وہ اس واقعے پر افسوس کا اظہار ہی کر رہا تھا کہ کیسے کیسے لوگ عالم بنے ہوئے ہیں جو لوگوں کو مسلمان ہونے سے روک رہے ہیں۔ جہاں تک مرتد کی سزا، یا کسی بھی شرعی سزا کا تعلق ہے، وہ صرف حکومت ہی دے سکتی ہے، اور غیر مسلم ملک میں شروع سزا کا امکان ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ ان مولانا کو اس بنیادی شے کا علم نہیں تھا۔ اور غالباً آپ نے بھی اس پر غور نہیں کیا ہے۔

  • 10-05-2016 at 1:08 pm
    Permalink

    اس واقعے پر افسوس کا اظہار ہی کرنا چاہیے۔

    اِس درجے کی جہالت اور بے حِسی کا مظاہرہ دیکھنے کو شاذ و نادر ہی ملے گا۔

    “ان مولانا کو اس بنیادی شے کا علم نہیں تھا۔ ”

    بالکل صحیح فرمایا۔

    اللہ آپ کو جزاے خیر دے۔

  • 11-05-2016 at 7:52 am
    Permalink

    Ya Allah shetan say main khud bach jaun ga

    mere Rab Molvi say mujhe tu bachana

  • 11-05-2016 at 4:14 pm
    Permalink

    م ز اسلم صاحب ہم نے تو یہ پڑھا ہے کہ قرآن کریم کی جو آیتیں یا سورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجرت سے پہلے اتریں ہیں وہ مکی ہیں اور جو سورتیں یا آیتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجرت کے بعد اتریں ہیں وہ مدنی ہیں۔
    سورۃ الفرقان مکی آیت ہے یعنی یہ ہجرت سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔
    وحشی کا یہ مکالمہ ظاہر ہے کہ فتح مکہ کے بعد کا ہے کیونکہ وہ اسلامی فوجوں کی آمد کا سن کر طائف بھاگ گیا تھا۔
    تو پھر آپ کے وحشی کے لیے سورۃ فرقان کیا دوبارہ نازل ہوئی تھی؟
    ’’ لیکن آہ! ارحم الراحمین کی شان دیکھیے کہ ان کے اسلام کے لیے دوسری آیت نازل ہورہی ہے:
    اِلاَّ مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلاً صَالِحاً
    (سورۃُ الفرقان، اٰیۃ:۷۰)‘‘
    آپ نے وحشی کے لیے جو تیسری سورۃ النساٰ والی تیسری آیت ’اتاری‘ وہ مدنی ہے۔

    ’’ لیکن آہ! کیا رحمت ہے ﷲ تعالیٰ کی کہ ان کے ایمان کے لیے تیسری آیت نازل فرمائی:
    { اِنَّ ﷲَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ}
    (سورۃُ النسآء، اٰیۃ: ۴۸)‘‘
    بنی ہاشم کے گھرانے کے چشم و چراغ کے بد نام قاتل کے حق میں آپ جو چوتھی آیت ’اتار‘ رہے ہیں وہ پھر مکی آیت ہے یعنی یہ ہجرت سے پہلے نازل ہوچکی ہے۔

    ’’ اب ﷲ تعالیٰ نے چوتھی آیت نازل فرمائی:
    قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِن رَّحْمَۃِ ﷲِ اِنَّ ﷲَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعاً
    (سورۃُ الزمر، اٰیۃ: ۵۳)
    اے نبی! آپ میرے بندوں سے فرمادیں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا کہ میری رحمت سے نا امید نہ ہوں، اب اس میں مشیت کی بھی قید نہیں۔ چار چارتاکیدوں کے ساتھ فرمایا کہ کوئی بھی گناہ ہو، ﷲ سب بخش دے گا۔ اس آیت کو سن کر حضرت وحشی کیا کہتے ہیں؟
    نِعْمَ ہٰذا واہ! کیا ہی اچھی آیت ہے ۔ چنانچہ فوراً آئے اور اسلام قبول کرلیا۔‘‘
    آپ سے مودبانہ درخواست ہے کہ میری یہ الجھن دور فرمائیں۔ نوازش ہو گی۔

Comments are closed.