چہرہ کتاب


وہ بولا!
آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں یہ محبت کی کہانیاں لکھنی بند کرو۔ کون پڑھے گا تمہاری سیف الملوک کی کہانی، ”شہزادہ اور پری محبت کے پروانے“۔ اب تو انسان آغاز سے ہی انجام کو فلم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ گھر گھر محبتوں، نفرتوں، جذبوں اور روز بدلتے سسی پنوؤں کے انبار لگے پڑے ہیں۔ تمہاری کتاب کے عنوان میں لکھا تھا کہ تم بھی دیکھ لو اور سب جو بھی دکھا دو۔ جو ہو رہا ہے جوکر رہے ہو، لیکن ہو ہونا ہے وہ کیا ہے۔

اس کی تلاش نے دربار حسن میں فریاد کی چٹھی ڈالی تو میاں محمد صاحب یاد آئے۔ کہتے تھے! ”ارے بچ کر قدم جمانا، پھسلن ہے چکنی مٹی ہے اس دربار کی، آگ بھری ہے جذبوں سے، خواہش کا پنچھی پرواز ناتمام کو راکٹ کی مانند تیار بیٹھا ہے“۔ بس بس غربت کا احساس دلانا بند کرو۔ نہیں ضرورت کسی بھی حجاب کی، ساتھ کی، فریاد کی، دعا۔ بس بٹن دباؤ اور سب کچھ پاؤ۔ میرے چہرے پر لکھا ہے کہ آج مجھے کہاں جانا ہے۔ کدھر سے آیا ہوں اور سفر کی منزل کہاں پر پہنچ گئی ہے۔ رات گہری ہے؟ لائٹ جانے میں دو منٹ رہ گئے ہیں۔ لیکن؛ یو پی ایس، پر نیٹ چلتا رہے گا، اور کہانی بھی تو ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ میرا سٹیٹس دیکھ لینا، گڈ نائیٹ۔

میں بولی!
ارے کیا ضرورت تھی عرفان کی وضاحت، محبت کی شراکت، خوشی کے طربیہ اور بہادری کے کارناموں کے رزمیوں کی۔ تھوڑی سی فکر انگیزی کی ہوتی تو تمثیل نگاری کر لیتے‘کاش کبھی تم میرے دل کو پڑھ لیتے، جھانکتی میری نہیں تو اپنے ہی اندر؛ تو پھر تم مجھے کہانیاں لکھنے سے منع نہ کرتے۔ کہانی تو ازل سے ابد تک چلے گی، کہانی لافانی ہے۔ شاید تم یہ بھول چکے کہ میں جہاں کھڑی ہوں وہ صحن نہیں نہ باغ نہ باغیچہ ہے، وہ کل‘ ہے اندر جھانکوں یا باہر فاصلہ ایک برابر ہے۔ الٹرا مائکرواسکوپ سے دیکھ لو یا دور بین کے عدسوں میں ڈھونڈو، تسخیر کرو، ۔ سب کائناتیں، سب کہانیوں کے منبعے اپنے اپنے مدار میں جھوم رہے ہیں؛ رومی کے مرشد کی طرحدعائے نسبت قلب سے سرفروش ہونے کی طرف گامزن ہیں۔

مادھو لال کا فقیر کیا تمہیں غریب دکھتا ہے؟ بھرا پڑا ہے استقلال مرکزیت سے۔ بس ایک ہی مرکز ہے، کبھی تو تم اس نیو کلیس کہہ کر باقیماندہ کو گرداب میں دیکھتے ہو، تو پھر یہ کیا کہ آج چہرہ کتاب پر تم نے اسٹیٹس لگا دیا “چونکا دیا ہے سائنسدانوں نے سٹرنگ تھیوری کی دریافت سے مجھے“۔ واہ واہ بھول گئے، سب یہیں ہے بس تم بے علم ہو، بے بصر ہو، بے سہاراوں کی طرح سائنس اور ٹیکنالوجی کو معراج بنا کر تسخیر کر رہے ہو۔

میرا کہا مانو ایک لمحے کے لئے اپنی شریانوں میں گھومتے پھرتے خون کے ایک ہی قطرے کی کہانی کو دیکھو تو سب کچھ سمجھ لو گے کہ کہانی کار نے تمہارے لئے جو انعام واکرام، فضل و برکت اور راحت جاں کے جس فردوس بریں کو رکھا تھا وہ تو تم کہیں پیچھے چھوژ آئے تھے۔ بس تم اس کی تلاش میں سرگرداں رہو اور اگر تم نے اس کو پا کیا تو سمجھو تم نے کہانی کے مرکزی خیال کے کردار کا روپ دھار تے ہوئے، کھویا ہوا قربت بے انداز سے من دھو لیا۔

چہرہ نما! (وہ بولا )
آدم سے آدم کا سفر تم نے کیسے جانا، تم تو ایک عام سی بایولوجی کی سٹوڈنٹ تھی، یہ الہام یہ کائناتوں کا سفر تم پر کیسے منکشف ہوا ہے؛ مجھے تو تم سے ڈر آنے لگا ہے۔

میں بولی!کوئی نہ چھوٹا ہے نا بڑا، امیر نی غریب، سفید نا کالا، پہلے نہ بعد، بس سب کچھ وہ ہے جو تم نے سوچا اور اس نے تمہیں دکھا دیا۔ بہتر ہے تم اپنی سوچ کو مثبت کروا کر وسیع کرو اور پھر دعائیں اور عمل کا وظیفہ اپنے نتائج ظاہر کرنے لگے گا۔

چہرہ کتاب نےدھڑام سے اپنے لیپ ٹاپ کےڈھکن نما آئینے کو مقفل کر دیا۔ لیکن کنیکشن تو ہے اور رہے گا؛ نہ تار نہ آواز، نہ پرواز نہ ٹھہراؤ، بس اس کو دیکھنے کے لئے ہر چند تیار رہو وہ تمہیں دکھا دے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

بینا گوئندی کی دیگر تحریریں
بینا گوئندی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں