ہائے بچے کے دودھ کے لیے پیسے نہیں


تنگ دستی کے دنوں میں دودھ کا کم سے کم پانچ چھ ہزار کا ماہانا خرچ قطعی غیر ضروری اور اضافی ہے۔ خواتین اپنے شوہروں کوپریشان کیے رکھتی ہیں اور وہ بے چارہ بھی بچے کے دودھ کی خاطر نہ جانے کہاں کہاں زلیل ہوتا ہے۔ اس بات کو لے کر ہمارے ہاں غریبوں سے اظہارِ ہمدردی کے لیے ایسے ایسے دل زخمی کر دینے والے ڈائلاگ لکھے اورادا کیے جاتے ہیں کہ سننے اور پڑھنے والے پر گریہ طاری ہو جاتا ہے۔ یہ ہی نہیں اگر بچہ کسی وجہ سے دودھ پینا بند کر دے تو مائیں خود کھانا پینا چھوڑ دیتی ہیں، حالانکہ بچہ دوسری غذائیں، پھل، بسکٹ، چاکلیٹ آئس کریم وغیرہ وغیرہ لے رہا ہوتا ہے۔

پاکستان، اور بالخصوص بڑے شہروں میں دودھ کی شکل میں لوگوں کو جو کچھ دستیاب ہوتا ہے، اس کی غذائیت کے بارے میں ڈاکٹرز اور غذائی ماہرین اپنی آرا پیش کرتے ہی رہتے ہیں لیکن بچوں کے لئے دودھ کو والدین اپنے ایمان کی طرح لازمی جزو سمجھتے ہیں۔ کم آمدنی والے صرف اس ایک خرچے کے لیے خود کو مقروض کیے رکھتے ہیں۔

کیمیکل کی آمیزش سے دودھ بچے کی نہیں بیماریوں کی افزائش ضرور کرتا ہے۔ بھینس کو انجکشن لگا کر دودھ کی اور پھر پانی کے اضافے سے اس کی مقدار میں اضافہ کیا جا تا ہے۔ پھر اسے گاڑھا کرنے کے لیے کیمیکل، اسے تازہ رکھنے کے لیے کیمیکل، اور اسی پر بس نہیں چلتا اس میں بالائی کی موٹی تہہ لانے کے لیے بھی مختلف حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اب ایسے دودھ میں غذائیت کم اور بیماریوں کے زیادہ ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

ایک خاتون شدید پریشان تھیں، میاں بے روز گار اور دودھ والے نے دو ماہ کے بل کی عدم ادائگی پر دودھ بند کر دیا تھا۔ بچوں کی عمریں بالترتیب دو، تین اور چار سال تھیں۔ بڑے کی تو نہیں لیکن چھوٹوں کی فکر تھی۔ میں نے کہا دودھ ضروری نہیں، انہیں گھر کی بنی ہوئی ملائم غذا جیسے، حلوہ، سویاں، دلیہ، کھچڑی وغیرہ وغیرہ دیا کرو۔ اور اپنا ذاتی تجربہ بھی بیان کیا۔

میرے میاں کی خرابیء صحت اور ان کی بے روز گاری کی وجہ سے گھر صرف ایک فرد کی آمدنی پر چل رہا تھا، میرے بچوں کو ماں کا دودھ نہ مل سکا کیوں کہ اس کی مزدوری کے اوقات اس کی مالی اوقات سے زیادہ تھے۔ دو نوں بیٹوں نے دو ماہ بعد ہی جو دودھ پیا اس میں ہم نے بھی اپنے بچوں کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کچھ ملاوٹ کی۔ بچوں کے خشک دودھ کا ڈبہ ہم پورے دو ماہ اس طرح چلاتے کہ جو کے دلیے میں خوب سارا پانی ملا کر، اور حسب ذائقہ چینی ڈال کراسے چولہے پر رکھ کراسے گاڑھا کر لیتے۔ پھر اسے چھان کر اس گاڑھے محلول میں خشک دودھ کا ایک چمچ ڈال دیتے، اس محلول کی شکل بھی سفید ہو جا تی، پھر اسے فیڈر میں بھر کے بچوں کو دے دیتے۔

ہو سکتا ہے بچہ ذائقہ مختلف ہونے کی وجہ سے نہ پیے، لیکن کب تک نہیں پیے گا اس دوران اسے پانی کے علاوہ کچھ نہ دیں۔ بھوک سے بے تاب ہو کر خود ہی پیے گا، بعد میں عادی ہو تا چلا جا ئے گا۔ تیسرے بیٹے کی مرتبہ حالات اچھے تھے لیکن تب بھی ہم نے یہ ہی کیا۔ کیوں کہ اس سے بچے کی ہر غذائی ضرورت پوری ہوتی تھی۔

میرے بیٹے اب جوان ہیں انہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ انہیں بچپن میں دودھ نہیں ملا۔ بچوں کی نشونما دودھ کے بغیر بھی بہتر انداز میں ہو سکتی ہے۔ وہ مائیں جو دودھ کا خرچ برداشت نہ کرنے کی سکت کی وجہ سے سراسیمہ رہتی ہیں، ہم نے مناسب سمجھا کہ اپنا ذاتی تجربہ بیان کریں۔ شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں