نواز شریف کی واپسی


گیارہ برس قبل 10ستمبر 2007ء کو سب نگاہیں اسلام آباد ایئر پورٹ پر مرکوز تھیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف برسہابرس کی جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس لوٹ رہے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے سورج کو گرہن لگ چکا تھا۔ اگرچہ سپریم کورٹ جسٹس افتخار چوہدری کو بطور چیف جسٹس بحال کرنے کا فیصلہ دے چکی تھی، عدالتی احکامات کی روشنی میں نوازشریف کو واپس آنے سے نہیں روکا جا سکتا تھا لیکن لندن سے آنے والی پرواز کے اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کرتے ہی سیکورٹی اہلکاروں نے کنٹرول سنبھال لیا۔ نوازشریف کے ساتھ آنے والے صحافیوں کو تتر بتر کرنے کے بعدڈنڈا ڈولی کرکے سابق وزیراعظم کو سعودی عرب جانے والے جہاز میں ڈال دیا گیا۔

نوازشریف کا خیال تھا کہ ان کے چاہنے والوں کا سیلاب اُمڈ آئے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ احسن اقبال جیسے رہنماؤں کو کارکنوں سمیت دھر لیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جنہیں تب تک ”لاڈلے‘‘ کا خطاب نہیں ملا تھا، انہوں نے بھی نوازشریف کو وطن بدر کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر مذاق بنا دیا گیا ہے۔ نوازشریف کے اس مس ایڈونچر کا فائدہ یہ ہوا کہ چند ماہ بعد بینظیر بھٹو واپس آئیں تو ان کی جلاوطنی بھی ختم ہو گئی اور وہ 25نومبر2007کو پاکستان واپس آگئے۔

اس بار میاں نوازشریف نے اسلام آباد کے بجائے لاہور ایئرپورٹ پر اترنے کافیصلہ کیا تو ان کا فقید المثال استقبال ہوا۔ اب نوازشریف 13جولائی 2018ء کو لندن سے لاہور آرہے ہیں تو حالات قدرے مختلف ہیں۔ انہیں احتساب عدالت سے سزا ہو چکی ہے، عدلیہ سے کسی قسم کا ریلیف ملنے کی توقع نہیں ہے، نہ صرف ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جا چکا ہے بلکہ اڈیالہ جیل میں ان کے قیام و طعام کابندوبست بھی کیا جا رہا ہے، ان حالات میں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز جمعہ کی شام لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے تو حالات کیا رُخ اختیار کریں گے؟ وفاقی و صوبائی نگران حکومتوں کی حکمت عملی کیا ہو گی، نیب ان کی گرفتاری کے لئےکیا لائحہ عمل اختیار کرے گی؟ اگر ان کی پرواز کا رُخ کسی اور شہر کی طرف موڑ دیا گیا تو کیا ایسا کرنے والوں کے خلاف اسی طرح ہائی جیکنگ کا مقدمہ بن سکے گا جس طرح پرویز مشرف کے جہاز کا رُخ موڑنے پر نوازشریف کے خلاف مقدمہ چلایا گیا؟ اور ان سوالات میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ عوام کا ردعمل کیا ہو گا؟

ذوالفقار علی بھٹو جیل میں تھے تو انہیں توقع تھی کہ ایک روز پاکستان کے عوام اپنے ہر دلعزیز قائد کو بچانے کے لئے جیل پر دھاوا بول دیں گے اور ان کے کندھوں پر بیٹھ کر وہ پھر سے وزیراعظم بن جائیں گے۔ ان کی یہ خوش فہمی تب تک قائم رہی جب تک تختہ دار پر پھانسی کا پھندہ ان کے گلے میں نہ ڈال دیا گیا۔ بھٹو کی المناک موت کے بعد ہمارے ہاں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا انقلاب یا بغاوت پاکستانی عوام کے خمیر میں ہی شامل نہیں۔ کوئی کتنا بڑا لیڈر کیوں نہ ہو، لوگ اس کے لئے لڑنے مرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ لیکن یہ مفروضہ تب غلط ثابت ہوا جب بھٹو کی جانشین بینظیر بھٹو لاہور پہنچیں اور ان کے استقبال کے لئے لوگ سیلاب کی مانند اُمڈتے دکھائی دیے۔

25نومبر 2007ء کو نوازشریف کا بھی بھرپور استقبال ہوالیکن ایک موقع پر کارکنوں نے ”قدم بڑھاؤ نوازشریف ‘‘ کے نعرے لگانا شروعکیے تو نوازشریف نے ازراہ تفنن کہا، پہلے بھی آپ لوگ ایسے ہی نعرے لگاتے تھے لیکن 12اکتوبر 1999ء کومیں نے قدم بڑھانے کے بعد پیچھے مُڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ نواز شریف اٹک قلعہ میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہتے اور جلاوطن ہونے سے انکار کر دیتے تو ان کے چاہنے والے پیچھے نہ ہٹتے لیکن جب قیادت ہی ملک میں نہ ہو تو کارکنوں کا مورال ڈاؤن ہونا فطری سے بات ہے۔ تب مسلم لیگ (ن) کے کارکن دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور تھے کیونکہ انہیں مخالفین کی طرف سے قیادت کے مفرور ہونے کا طعنہ دیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس اب صورتحال مختلف ہے۔

نوازشریف عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نا اہل ہونے کے بعد کسی موقع پر ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے اور تمام مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ احتساب عدالت کی پیشیاں بھگتی ہیں، ان کی اہلیہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، انہیں باربار پیغام دیا گیا کہ پاکستان آنے کا فیصلہ ملتوی کر دیا جائے اور بیگم کلثوم نواز کی علالت کا عذر پیش کرتے ہوئے وہ انتخابات تک پاکستان واپس نہ آئیں تو انہیں ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ لندن رُکنے پر آمادہ نہیں ہوئے اور گرفتاری پیش کرنے کے لئےاپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ پاکستان آرہے ہیں۔

جمعہ کے روز عوام کا جم غفیر اور مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی یہ طے کرے گی کہ نوازشریف کا شو ختم ہو چکا یا پھر ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ تمسخر اڑانے والوں کا خیال ہے کہ یہ ترکی نہیں ہے جہاں لوگ مزاحمت کریں اور ٹینکوں کے آگے لیٹ جائیں، یہ پاکستان ہے جہاں لوگ جانے والوں کے عیب چنتے اور آنے والوں کے آگے سر دھنتے ہیں۔ مجھے بھی اس نوع کی مزاحمت کی توقع تو نہیں جس کا مظاہرہ چند برس قبل استنبول کی سڑکوں پر دیکھنے کا ملا لیکن نوازشریف کی واپسی پر سیاسی جوار بھاٹا ضرور آئے گا۔

اس دن ہونے والے احتجاج اور استقبال کی لہریں 25جولائی کو ہونے والے انتخابات پر بھی اثر انداز ہوں گی۔ نوازشریف کی پاکستان واپسی ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے جس سے انتخابی مہم کی سمت متعین ہو گی۔ اگر پشاور یکہ توت یا کراچی کارساز جیسا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا، نوازشریف اور مریم نواز بھرپور عوامی استقبال کے بعد اڈیالہ جیل منتقل ہو گئے تو مسلم لیگ(ن) کا راستہ روکنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ پاکستان کے عوام کی خمیر میں خونی انقلاب یا بغاوت کی روش چاہے نہ ہو مگر ووٹ کی طاقت سے جواب دینے کی خو بہرحال موجود ہے۔
بشکریہ جنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں