پاناما پیپرز: مسلم لیگ (ن) معرکہ جیت رہی ہے


editآج رات پاناما پیپرز کے انکشافات کی دوسری قسط جاری ہونے والی ہے۔ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس ICIJ کے فیصلہ کے مطابق اس بار پاناما کی ایڈووکیٹ فرم موساک فونسیکا کی دستاویزات میں سے 2 لاکھ کمپنیوں اور ان کے رجسٹرڈ مالکان کے نام جاری کئے جائیں گے۔ گزشتہ ماہ کے شروع میں جو ابتدائی معلومات فراہم کی گئی تھیں، ان کے سامنے آنے کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ملکوں میں سنجیدہ سیاسی مباحث ، تحقیقات اور دولت کو غیر قانونی طور سے چھپانے کے طریقہ کار کی روک تھام کے لئے اقدامات کی باتیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں ابھی تک ان کاغذات میں سامنے آنے والے افراد کے خلاف کسی کارروائی کا آغاز تو نہیں ہو سکا ہے لیکن ملک کے وزیراعظم کو اپنی صفائی دینے کے لئے دوبار قوم سے خطاب کرنا پڑا اور اپوزیشن نے متحدہ طور پر اپنے تیار کئے ہوئے قواعد و ضوابط کے مطابق میاں نواز شریف کے خاندان کے مالی معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے اس حوالے سے حکومت کو خط لکھا ہے جس کا جواب آنے کے بعد ہی بات چیت آگے بڑھ سکے گی۔

تاہم اس دوران ہونے والی کشمکش اور کھینچا تانی میں اپوزیشن کا دباﺅ کم ہو گیا ہے اور عمران خان نے یکے بعد دیگرے کرپشن کے خلاف جلسے منعقد کر کے تصادم کی جو کیفیت پیدا کی تھی اب وہ کافی حد تک ختم ہو چکی ہے۔ اب وزیراعظم احتجاج کرنے والوں کو دہشت گردوں کی طرح ملک کا دشمن قرار دیتے ہوئے انہیں ترقی اور خوشحالی کا راستہ روکنے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اگرچہ تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے حوالے سے مذاکرات کے لئے تیار ہے لیکن اس بارے میں یک طرفہ مطالبوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اپوزیشن کی سات جماعتوں کے مقابلے میں حکومت نے بھی گیارہ جماعتوں کا اتحاد قائم کیا ہے۔ کل وزیراعظم ہاﺅس میں اجلاس کے دوران ان اتحادی پارٹیوں نے حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ نرمی نہ برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن کی طرف سے کمیشن کے ٹی او آرز TORs کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اس طرح غیر آئینی اقدامات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور دیگر اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کی باتوں میں آ کر قومی اسمبلی میں کوئی بیان جاری نہ کریں اور اپنے خاندان کے مالی معاملات کے بارے میں اس وقت تک تفصیلات سے آگاہ نہ کریں جب تک عدالتی کمیشن قائم نہ ہو جائے اور وہ باقاعدہ اس بارے میں استفسار نہ کرے۔

اگرچہ یہ مشورہ ملک میں قائم پارلیمانی جمہوری نظام اور روایت کے خلاف ہے لیکن وزیراعظم حامی پارٹیوں کے اس مشورہ سے پہلے ہی یہی رویہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں جا کر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی بجائے قوم سے خطاب کرنے کو ترجیح دی اور ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو اور پرویز مشرف کے دور میں اپنے خاندان کے ساتھ ہونے والے ”مظالم“ کی درد ناک کہانی سناتے ہوئے ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اس طرح اپوزیشن اور پاکستان کے عام شہریوں کو اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ میاں نواز شریف کے صاحبزادوں کے پاس اتنے وسائل کہاں سے آئے کہ وہ برطانیہ میں بیٹھ کر نہ صرف یہ کہ عالیشان اور کامیاب کاروبار کر رہے ہیں ، املاک خرید چکے ہیں بلکہ انہیں اس بے شمار دولت کا انتظام کرنے کے لئے آف شور کمپنیاں بنانے کی ضرورت بھی محسوس ہوئی۔ آف شور کمپنی اگرچہ ایسی کمپنی کو کہا جاتا ہے جو اپنے رہائشی ملک کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں رجسٹر کروائی جائے۔ ان کا قیام قانونی اور مروجہ طریقہ کار کے مطابق ہے۔ لیکن عام طور سے ٹیکس میں سہولت دینے والے ملکوں میں یہ کمپنیاں ٹیکس چوری کرنے اور ناجائز دولت کو چھپانے کے لئے قائم ہوتی ہیں۔ موساک فونسیکا جیسی کمپنیاں دولت مند لوگوں کو ایسی کمپنیاں بنانے میں مدد کرتی ہیں، جن کا وجود صرف ایک پوسٹ بکس تک محدود ہوتا ہے۔ اور اس کے مالکان کے طور پر جن لوگوں کے نام درج ہوتے ہیں، وہ عام طور سے اس کمپنی کے ذریعے منتقل کئے گئے وسائل کے اصل مالک نہیں ہوتے۔ اس طرح دنیا کے دولتمند لوگ نہ صرف یہ کہ ٹیکس چوری کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں بلکہ بڑی آسانی سے ناجائز ذرائع سے کمائی گئی دولت کو چھپانے میں بھی سرخرو ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے پاناما پیپرز کے ذریعے دنیا کے مقتدر لوگوں کے بارے میں معلومات سامنے آنے کے بعد اب یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ غیر قانونی وسائل کو تحفظ دینے والے چھوٹے چھوٹے متعدد مقامات پر آف شور کمپنیوں کی حوصلہ شکنی کے لئے عالمی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

جرمن اخبار سودتیشے ذائتنگ SUDEUTSEHE ZEITUNG کے ایک صحافی باستیان اوبرمائر کے ذریعے پاناما پیپرز دنیا تک پہنچانے والے شخص ”جان ڈو“ JOHN DOE نے اس دوران ایک خط لکھا ہے جو اب دنیا کے متعدد اخبارات میں شائع ہو چکا ہے۔ اس خط میں اس شخص نے جو کہ جان ڈو کے فرضی نام سے مواصلت کرتا ہے دنیا کی حکومتوں کو یہ پیشکش کی ہے کہ وہ جعلی کمپنیوں کے ذریعے قومی دولت چوری کرنے والے لوگوں کے خلاف تحقیقات میں تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ تاہم اس نے اس حوالے سے یہ شرط رکھی ہے کہ خفیہ معلومات سامنے لانے والے لوگوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہوئے عام معافی کا متفقہ قانون بنایا جائے۔ اس حوالے سے اس نے امریکی دستاویزات سامنے لانے والے جان اسنوڈن کا حوالہ دیا ہے جس پر امریکہ میں جاسوسی کا مقدمہ قائم کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اسنوڈن اسی وجہ سے کئی برس سے روس میں پناہ گزین ہے۔ اسی طرح اس شخص نے سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں غیر قانونی دولت کا راز فاش کرنے والوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں کو قانونی شکنی کے الزام میں قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔ اس لئے مکمل تحفظ کی ضمانت کے بغیر وہ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرے گا اور نہ ہی ان دستاویزات تک حکام کو رسائی دے گا جن میں کمپنیوں کے درپردہ مالکان کا راز فاش ہو سکتا ہے۔ اور ان لوگوں کا پتہ چل سکتا ہے جو لوگ قومی وسائل چوری کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

یہ پیشکش اس لحاظ سے دلچسپی کا باعث ہے کہ جرنلسٹوں کے عالمی کنسورشیم ICIJ اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والے دنیا بھر کے ایک سو سے زائد میڈیا ہاﺅسز نے یہ طے کیا ہے کہ وہ پاناما پیپرز میں سے کوئی ایسی دستاویزات یا معلومات سامنے نہیں لائیں گے جن کے فاش ہونے سے کسی بھی قسم کی قانون شکنی کا اندیشہ ہو یا ان میں کمپنیوں کے اصل مالکان ، ان کے متعلق دستاویزات اور تفصیلی معلومات عام ہو جائیں۔ اس طرح یہ جاننے کے باوجود کہ ان دستاویزات میں بہت سے مجرموں کے نام چھپے ہوئے ہیں، صحافیوں اور اخبارات نے طے کیا ہے کہ وہ خود کسی قانون شکنی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ”جان ڈو“ کا کہنا ہے کہ وہ جرنلسٹس کنسورشیم کے فیصلہ کے برعکس تمام دستاویزات اور ان کی تفصیلات حکام کو فراہم کر سکتا ہے لیکن اسے مکمل تحفظ چاہئے۔ اور یہ وعدہ بھی کیا جائے کہ ان معلومات کی روشنی میں دنیا کے عوام کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے اور آئندہ کے لئے اس کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ یہ پیچیدہ اور مشکل معاملہ ہے۔ اس میں دنیا کے 200 کے لگ بھگ ملکوں کے طاقتور لوگوں اور سرمایہ داروں کے نام شامل ہیں۔ اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ ”جان ڈو“ کی مرضی کے مطابق اس قسم کی ضمانتیں کیوں کر فراہم ہو سکتی ہیں۔ اگر مختلف ملکوں کے حکام کو ان دستاویزات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی تو لٹیروں کی تلاش اور ان کے خلاف کارروائی کرنے میں کئی برس یا دہائیاں صرف ہو سکتی ہیں۔

”جان ڈو“ کے خط میں یہ دستاویزات عام کرنے کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ دنیا کا نظام ناانصافی اور عدم مساوات پر استوار ہو چکا ہے۔ اسے تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی کیونکہ بدعنوانی کرنے والے لوگ اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ وہ نظام کے سب حصوں کو اپنا شراکت دار بنا لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ جن وکیلوں کو اعلیٰ قانونی اقدار کا احترام کرتے ہوئے ان کے فروغ کے لئے کام کرنا چاہئے ، وہ خود ہی قانون شکنی کا راستہ دکھاتے ہیں اور مختلف ملکوں کے قوانین کو لٹیروں اور چوروں کی مرضی کے مطابق موڑنے توڑنے کا سبب بنتے ہیں۔ جان ڈو نے کہا ہے کہ ان دستاویزات میں اس سوال کا جواب موجود ہے کہ دنیا میں کیوں معاشی عدم مساوات پیدا ہوئی اور کس طرح کرپشن نے معاشروں کو کھوکھلا کر دیا۔

اس پس منظر میں دنیا بھر کے مختلف ملکوں کے بدعنوان اور جعلی آف شور کمپنیوں کے مالکان نے فی الوقت تو سکھ کا سانس لیا ہو گا۔ ایسا ہی اطمینان شاید اسلام آباد میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ اسی لئے نواز شریف کا لہجہ درشت اور ان کی حکومت کا رویہ سخت ہے۔ اب یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم دو ہفتے تک ایک بار پھر طبی معائنے کے لئے برطانیہ جا رہے ہیں۔ اس بار وہ پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمین آصف زرداری سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس طرح بدعنوانی کے الزامات سے شروع ہونے والا معاملہ اب مکمل طور سے سیاسی صورت اختیار کر چکا ہے۔ میاں نواز شریف اور ان کے صاحبزادگان کا مسئلہ ناجائز دولت کو بدستور چھپائے رکھنا نہیں ہے۔ بلکہ اس حوالے سے سامنے آنے والے سیاسی طوفان پر قابو پانا ہے۔ لگتا ہے اپوزیشن ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) سے سیاسی جنگ ہار رہی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali