تھائی لینڈ کے بچوں کو غار سے کیسے نکالا گیا؟ تصویری کہانی


An onlooker clasps her hands as she cheers on ambulance taking the children

17 روزہ ریسکیو آپریشن نے تمام ملک کی توجہ مرکوز رکھی

تھائی لینڈ میں فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی ایک غار میں سیلاب کے باعث قید ہو کر رہ گئے تو یہ خبر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ بالآخر منگل کو ان بچوں کو بازیاب کروایا گیا۔ اس کی تصویری جھلکیاں۔

23 جون کو تھائی لینڈ کے 12 بچوں پر مشتمل فٹبال ٹیم اپنے 25 سالہ کوچ کے ہمراہ تھام لوانگ غار کی سیر کرنے گئی۔

یہ غار دس کلومیٹر گہرا ہے اور اس کے اندر ادھر ادھر کئی ذیلی راستے نکلتے ہیں۔ جب وہ غار کے اندر ہی موجود تھے تو تیز بارشوں کے باعث سیلاب آ گیا اور بچوں کی واپسی کا راستہ مسدود ہو گیا۔

جب بچے وقت پر گھر نہیں پہنچے تو انھیں تلاش کرنے کی مہم شروع ہو گئیں۔

جب ان بچوں کے سائیکلیں، بوٹ اور دوسری چیزیں غار کے دہانے کے قریب ملیں تو شک گزرا کہ شاید وہ غار کے اندر پھنس گئے ہیں۔

Bicycles pictured close to the cave's entrance

People gather in the cave system for a briefing, with special lighting equipment brought in

اسی دوران بارشیں جاری رہیں اور غار میں پانی کی سطح بلند ہوتی گئی۔

اتوار کو بچوں کے والدین اور عزیز غار کے دہانے پر پہنچ گئے اور انھوں نے دعائیں مانگنا شروع کر دیں۔

A woman is pictured praying in waterproof hood outside of site

Getty Images

تین دن بعد رائل تھائی نیوی کے غوطہ خور بھی پہنچ گئے۔ نائب وزیرِ اعظم نے بھی غار کا دورہ کیا۔

امدادی کارکنوں نے غار میں داخل ہونے کے متبادل راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔

Rescue personnel carrying diving tanks on their backs gather at the cave site


Soldiers relaying electric cables into the cave system

27 جون تک دنیا کے دوسرے ملکوں سے بھی غوطہ خور اور دوسرے ماہرین پہنچ گئے۔ سوشل میڈیا پر زبردست چرچا شروع ہو گیا۔

رشتہ دار غار کے باہر ہی رہے۔ موسم بدتر ہوتا چلا گیا۔

پمپوں کی مدد سے غار کے اندر سے پانی کے اخراج کی کوششیں شروع کر دی گئیں مگر مسلسل بارشوں نے اس میں کامیابی نہیں ہونے دی۔

امدادی کارکنوں کا اندازہ تھا کہ بچے غار کے اندر موجود ایک اونچی چٹان پر پناہ لیے ہوئے ہیں جسے ’پتایا کا ساحل‘ کہا جاتا ہے۔

A relative is pictured looking down in a sad manner, in a close-up image

Reuters

The prime minister holds microphone for relative as he listens to her at an event

وزیرِ اعظم پرایوتھ چان اوچا نے بھی غار کا دورہ کیا اور یہ کہہ کر رشتے داروں کی ہمت بندھائی کہ ’وہ ایتھلیٹ ہیں، وہ مضبوط ہیں۔‘

اب دنیا بھر کا میڈیا بھی وہاں پہنچ گیا اور لمحہ بہ لمحہ خبریں نشر کرنے لگا۔

Dozens of media cameras are pictured, covered with makeshift waterproof protection

Getty Images

30 جون کو بارشوں میں مختصر وقفے کے دوران غوطہ خوروں کو غار کے کافی اندر جانے کا موقع مل گیا۔

Technicians lifting water pumps at drilling site near the cave system

AFP/Getty

دو جولائی کو غوطہ خوروں نے بچوں کو دیکھ لیا۔ وہ محفوظ تھے اور غار کے دہانے سے چار کلومیٹر اندر ایک اونچی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔

Still from video showing the boys perched

بچوں کی دریافت کی پہلی ویڈیو

بچوں کی ایک ویڈیو نشر کی گئی۔ بچوں کو ادویات اور خوراک پہنچائی گئی۔

اس دوران غار سے لاکھوں لیٹر پانی نکالا جا چکا تھا۔ لیکن موسم کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔ بعض ماہرین کا خیال تھا کہ بچوں کو شاید مہینوں تک انتظار کرنا پڑے کہ بارشوں کا موسم ختم ہو اور پانی سوکھ جائے۔

Bulldozer and other heavy equipment pictured at top of cave site

Getty Images

Oxygen tanks pictured outside the site

Getty Images

اسی دوران ایک غوطہ غور آکسیجن ختم ہونے سے ہلاک ہو گیا۔

Saman Gunan's coffin is carried by soldiers

اس سے اندازہ ہوا کہ بچوں کو نکالنا کس قدر مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی دوران معلوم ہوا کہ غار کے اندر آکسیجن کی مقدار کم ہو رہی ہے۔

A note written in Thai

بچوں نے ایک نوٹ میں اپنے والدین کو لکھا کہ وہ ٹھیک ہیں اور ان کی فکر نہ کریں

آخر کار آٹھ جولائی کو بچوں کو نکالنے کا نازک اور پیچیدہ آپریشن شروع کر دیا گیا جسے ’ڈی ڈے‘ کا نام دیا گیا۔

غوطہ خوروں نے بچوں کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔ پہلے چار بچے بازیاب کروائے گئے۔

An ambulance with sirens on speeds away from the scene where children were rescued

اس آپریشن کے لیے دہانے سے لے کر بچوں کے مقام تک رسے لگائے گئے۔ بچوں کو سلنڈروں کے ذریعے آکسیجن دے کر پانی کے اندر سے غوطہ لگوا کر باہر لانا تھا۔

پیر کو مزید بچوں کو نکال لیا گیا۔

Nurses pictured outside of Chiangrai Prachanukroh Hospital,

بازیاب کروائے گئے بچوں کو رفتہ رفتہ دوبارہ سے ٹھوس خوراک کا عادی بنایا گیا
Children smile after being told the news of some of the children's rescues

بچوں کے ساتھیوں نے آپریشن کی کامیابی کی خبر سن کر خوشی منائی

حکومت نے اس آپریشن کی کارروائی خفیہ رکھی اور بچوں کے نام بھی نہیں ظاہر کیے۔

بچوں کو ہسپتال میں رکھا گیا جہاں ان سے ملنے والوں کی تعداد کو محدود رکھا گیا۔

منگل کو آپریشن کے آخری روز بقیہ بچوں کو بھی نکال لیا گیا۔

Onlookers wave at ambulance going by

آخر منگل کی شام کو خبر آئی کہ تمام بچے اور ان کے کوچ کو بچا لیا گیا ہے۔

لوگوں نے زبردست جشن منایا اور دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

A man is pictured watching the news of the boys' rescue on a television in nearby Chiang Rai

مقامی لوگ ٹیلی ویژن پر بازیابی کی خبریں دیکھ کر خوشی منا رہے ہیں

A girl wearing a hat with Wild Boar symbol
ایک بچی غار کے اندر مقید بچوں کی فٹبال ٹیم کا نشان پہنے ہوئے ہوئے

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4528 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp