پاپوش میں لگادی کرن آفتاب کی


بادشاہ سلامت اپنے اک شہر کے حالات کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ اس شہر میں چوری ڈکیتی کسی طرح تھم کر نہ دیتی تھی۔ جو بھی نگران شہرآتا وہ بھی لٹیروں سے مل جاتا۔ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔ اس نے کئی والئی شہر بدلے لیکن حالات جوں کے توں رہے۔ بادشاہ کسی ایسے جری آدمی کی تلاش میں تھا جو بلا کسی رو رعایت کے سب چور اچکوں کو تہہ تیغ کرے سب کو ٹھوک دے۔ اسی پریشانی کے عالم میں بادشاہ اک دن شکار پہ روانہ ہوا تو وہاں اک شخص اونچی آواز میں صدائیں دے رہا۔ “ اے جنگل میں تجھے ٹھوک دوں گا “۔ “ اے پہاڑ میں تجھے ٹھوک دوں گا “۔ “ اے درخت میں تجھے ٹھوک دوں گا “۔ “اے ندی میں تجھے ٹھوک دوں گا “۔ بادشاہ کے کان میں جب یہ آواز پڑی فوراً غلاموں کو حکم دیا اسے پکڑ کر حاضر کیا جائے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔

بادشاہ نے اس شخص کو سارا ماجرا کہا اور اسے بھاری معاوضے اور انعام و اکرام کے عوض نگران شہر بننے کی فرمائش کی۔ ساتھ میں اسے بتایا کے اسے بھاری اسلحہ و سازو سامان دیا جائے گا۔ اسے رات کو محافظوں کے ساتھ شہر میں گشت کر کے امن و امان قائم رکھنا ہے۔ جہاں کہیں چور ڈاکو نظر آئے فوراً اس کا قلع قمع کیا جائے۔ وہ شخص راضی ہوگیا ساتھ ساتھ اسی کی صدائیں بھی جاری جو چیز نظر آئے فوراً بول اٹھے میں تجھے ٹھوک دوں گا۔ بادشاہ واپسی پہ اس شخص کو لے اسی شہر میں رکا۔ رات کا اگلا پہر ہوا تو شہر میں شوروغوغا برپا ہوگیا۔ چور چور بچاؤ بچاؤ پکڑو پکڑو۔ اب بادشاہ سلامت بھی منتظر اب دیکھیے چوروں کی خیر نہیں۔ ادھر یہ حضرت بھی تلوار ہاتھ میں لیے گھوڑے پہ بیٹھے صدائیں دے رہے۔ “ اے تلوار میں تجھے ٹھوک دوں گا “۔ “اے دیوار میں تجھے ٹھوک دوں گا “۔ “ اے گھوڑے میں تجھے ٹھوک دوں گا “۔ “ اے شہر میں تجھے ٹھوک دوں گا “۔ ادھر بچاؤ بچاؤ کی آوازیں مسلسل بڑھ رہیں۔ اتنے میں بادشاہ کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور وہ غصے سے بولا جاؤ چوروں کو ٹھوکو۔ وہ شخص تلوار پھینک کر بولا بادشاہ سلامت میں صرف باتیں ٹھوکتا ہوں۔

یہی اپنے میاں صاحب کی بہادری کی کہانی ہے دفتر عمل خالی صرف باتیں ٹھوک سکتے ہیں۔ عوام نے میاں صاحب کے بہادری کے قصے بھی سنے ہوئے اور عملی مظاہرے بھی بہت دیکھے۔ میاں صاحب اور ان کی دختر نیک اخترجنہوں نے کہا ہے میرا موازنہ محترمہ بینظیر سے نہ کیا جائے( ان کا موازنہ کس سے کیا جائے اس کا ذکر آخر میں آئے گا ) جب یہ کہتے ہیں ہم جیلوں سے ڈرنے والے نہیں ہنسی سی نکل جاتی ہے۔ چند سال ادھر کی بات ہے میاں صاحب ہاتھ پاؤں جوڑ کر دس سالہ جلا وطنی پہ روانہ ہوئے تھے۔ واقفان حال بتاتے ہیں جیل میں بھی میاں صاحب کے لیے ہوٹلوں سے کھانا آتا تھا۔ معافی مانگ کر ایسے جلاوطنی پہ نکلے تھے جیسے غرناطہ فتح کیا ہو۔ رخت سفر میں باورچی خدام خانساماں اور شکم پروری کا لاؤ لشکر۔ یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے۔ اور صادق امین ایسے ہمیشہ اس ڈیل سے انکاری رہے۔

جب پرنس مقرن اور سعد حریری نے بتلایا میاں جلاوطنی کا دس سالہ معاہدہ ہے تو پانچ کی تکرار کرنے لگے۔ جدہ جاتے ہوئے نہ تو ان کو کسی کارکن کا خیال آیا نہ ہی وزیر مشیر اور ساتھی کا۔ حتیٰ کہ بزرگ سیاست دان غوث علی شاہ صاحب بھی جیل میں ان کے ساتھ مشقت کاٹ رہے تھے لیکن جاتے ہوئے ان کو جھوٹے منہ بھی نہ پوچھا بڑے میاں کیسے ہو۔ جب غوث علی شاہ صاحب نے طعنہ دیا میاں صاحب کیا جدہ جانے والے جہاز میں ہمارے لیے جگہ نہیں تھی۔ وہ دن اور آج کا دن میاں صاحب ان سے ناراض ہیں۔ میاں صاحب کے اک خوشہ چیں محترم دانشور نے اگلے دنوں میاں صاحب کو تاریخ ساز شخصیات کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی بشمول قائد اعظم محمد علی جناح اور مولانا محمد علی جوہر۔ کہاں صداقت، شجاعت عزم و ہمت کے پیکر کہاں خاندان سمیت گھوڈے گھوڈے کرپشن میں لتھڑے میاں صاحب۔ کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی۔ کہاں کی اینٹ چوبارہ میں لگادی۔

پاپوش میں لگادی کرن آفتاب کی
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی

مولانا محمد علی جوہر صاحب صدیوں کے آدمی تھے۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔ تاریخ نےمولانا محمد علی جوہر کو بطل حریت کا خطاب دیا۔ بیک وقت اردو و انگریزی میں قادرالکلام۔ تحریر و تقریر میں ایسی روانی کہ اک جہاں انگشت بدنداں۔ دلیر ایسے کے تحریک عدم تعاون اور جدوجہد آزادی میں حصہ لینے کی پاداش میں کئی سال پابند سلاسل رہے۔ لیکن نہ تو ان کے عزم میں کمی آئی نہ کبھی انگریزوں کے آگے سرنگوں ہوئے۔ تحریک خلافت کے بانی۔ مولانا قبلہ اوّل بیت المقدس میں آسودۂ خاک۔ قائد اعظم محمد علی جناح سے پہلے جو چند نام مسلمانان برصغیر پاک و ہند کے لیڈر کہلانے کے حقدار تھے ان میں سے انتہائی معتبر نام مولانا محمد علی جوہر۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ قیادت اک محمد علی سے دوسرے محمد علی کو منتقل ہوئی تو بے جا نہ ہوگا۔

مولانا محمد علی جوہر اور قائد اعظم محمد علی جناح کے تعلقات اور ادب و احترام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب قائد اعظم برصغیر کے حالات سے دل برداشتہ ہوکر انگلستان واپس چلے گئے تو یہ علامہ محمد اقبال اور مولانا محمد علی جوہر ہی تھے جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو واپس آنے پر آمادہ کیا۔ خدا کی شان کس مرد قلند کس مرد حر مرد میدان کے ساتھ میاں نوازشریف کا ذکر۔

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور

کہاں بطل حریت مولانا محمد علی جوہر جیسے نادر روزگار بے بدل لیڈر اور کہاں میاں نوازشریف۔ کہاں عزم و ہمت وشجاعت کی دیوار مولانا محمد علی جوہر جن کی آدھی عمر قید و بند میں گزری۔ کہاں کرپشن میں لتھڑا ہوا جیل میں ہوٹلوں کے کھانے کھانے والا معافی مانگ ڈر کر بھاگنے والا میاں نوازشریف۔ کہاں انگریزی، فارسی اردو میں مدلل مقرر مولانا محمد علی جوہر۔ کہاں پرچی بردار علم بیزار دلیل سے عاری میاں نوازشریف۔

اگر میاں صاحب کو کسی کے ساتھ کھڑا کرنا ہے تو وہ شیخ مجیب الرحمٰن ہے۔ وہی جس شیخ مجیب الرحمٰن جس کا ذکر میاں صاحب حسرت سے کرتے ہیں۔ اور ان کے دل میں نیا مجیب الرحٰن بننے کی خواہش انگڑائی لیتی ہے۔ ساتھ میں ان کی بیٹی جو کہتی ہے میرا موازنہ بینظیر سے نہ کیا جائے نئی شیخ حسینہ واجد مریم نوازشریف۔

پاپوش میں لگادی کرن آفتاب کی
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں