نواز شریف کو تاریخ کیسے یاد رکھے گی


اگست 2014 سے شروع ہونے والے دھرنوں، ڈان لیکس اور پانامہ کیس کے آغاز سے اب تک کے ملکی حالات کا جائزہ لیں تو یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ نواز شریف کو سزا کرپشن کرنے پر نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے اور سول بالادستی کے حصول کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی وجہ سے دی گئی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پانامہ لیکس میں شامل سینکڑوں دیگر پاکستانیوں کے کیسز بھی اب تک احتساب کے کسی نہ کسی مرحلے پر پہنچ چکے ہوتے۔ علاوہ ازیں دو مرتبہ آئین پامال کرنے والے غداری کے مرتکب پرویز مشرف بھی اپنی سزا پوری ہونے کے انتظار میں کسی کال کوٹھڑی میں نظر آتے۔

اگر یہ بھی مشکل تھا تو پھر قوم کو یہی بتا دیا جاتا کہ سینکڑوں بیگناہوں کو پولیس مقابلوں میں پار کرنے والے راؤ انوار کو سزا دینے میں کیا رکاوٹ حائل تھی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے جب آخری دنوں میں پرویز مشرف کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو منسوخ کیا تو ”بابا رحمے“ کا اضطراب پوری قوم نے دیکھا اور پھر موصوف نے اپنی قانونی مہارت سے نہ صرف مشرف کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ دوبارہ بحال کروا دیا بلکہ کچھ دن سابق آمر کے خلاف بڑھکیں لگا کر کمپنی کی مشہوری کا سامان بھی کرتے رہے۔

نواز شریف کا اصل جرم ہی یہ ہے کہ اس نے بغاوت کے جرم میں مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوشش اور اس سلسلے میں سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا۔ اس کے علاوہ اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے برعکس بھارت اور افغانستان سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش نہ رکھتے یا پھر ڈان لیکس کے ذریعے کالعدم جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے کی کوشش نہ کرتے تو انہیں پانامہ اور اس سے جڑے ہوئے کیسز کی بنیاد پر نا اہلی اور قید با مشقت کی سزا کا بھی سامنا نہ کرنا پڑتا۔ نواز شریف کے ساتھ ساتھ مریم نواز کو بھی نشان عبرت بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ کھڑے ہونے اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزم کیا ہوا ہے۔ انہیں ایک ایسی دستاویز کے جعلی ہونے کی بنا پر سزا دی گئی جسے برطانیہ کا قانون مکمل طور پر قانونی اور درست قرار دیتا ہے۔

اس طرح دیگر سیاستدانوں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے خود کو سچ مچ کا حکمران سمجھنے کی غلطی کی تو انہیں کس انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس طرح اسٹیبلشمنٹ جسے نواز شریف خلائی مخلوق کا نام دیتے ہیں اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے گی؟ یہ بات حقیقت ہے کہ اس وقت نواز شریف کا سیاسی مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے تاہم انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کو ایک عوامی موضوع بنا کر ایسی کامیابی حاصل کی ہے جس کا اس سے پہلے تصور بھی ناممکن تھا۔

تاریخ نواز شریف کو ان کے ماضی کی بجائے سویلین بالادستی کے لئے جدوجہد کے حوالے سے یاد رکھے گی کیونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دینے کا کفارہ اس کے خلاف کھڑے ہو کر ادا کر رہے ہیں۔ اب اگر وہ سیاسی میدان میں رہیں یا نہ رہیں لیکن سویلین بالادستی کا سوال موجود رہے گا اور آنے والی حکومت کو بھی اس حوالے سے آخر کار یہی موقف اپنانا پڑے گا کیونکہ اس کے بغیر کسی بھی سیاسی حکومت کے لئے امن، ترقی اور خوشحالی کا خواب پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نعیم احمد

نعیم احمد ماس کمیونکیشن میں ایم ایس سی کر چکے ہیں۔ سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔

naeem-ahmad has 3 posts and counting.See all posts by naeem-ahmad