سوری ریحام خان اور مبارکباد منیب فاروق


میاں صاحب نے گھر میں آتے ہی دھماکہ کیا کہ ریحام خان کی کتاب آ چکی ایمازون پر، خریدو فوراً۔ اور میں حیرت سے میاں کی طرف دیکھوں کہ خریدوں؟ کیوں؟ مانا میں بہترین بک ریڈر ہوں مگر میں گھٹیا لٹریچر نہیں پڑھتی، پھر میرے کتابی کیڑے چھوٹے بچے، جن کی موجودگی میں میں کسی بھی صورت کسی بھی وجہ سے ایسی کتاب گھر میں نہیں لا سکتی۔ میاں کو حوصلہ دیا کہ صبر کریں ابھی چار دن میں سوشل میڈیا پر سارا مصالحہ پھیل جائے گا اور مفت پی ڈی ایف گھر گھر پہنچ جائیں گے۔ مگر پھر بھی اسے پڑھنے میں میری قطعی کوئی دلچسپی نہ تھی، یہ جاننے میں کہ ریحام خان نے کیا کچھ لکھ ڈالا نہ یہ جاننے میں کہ عمران خان نے دراصل کیا کچھ کر دیا یا پھر کیا کچھ نہیں کیا۔ مجھے ان دونوں کے ڈرگز سے اور راک اینڈ رول سے یا کلبز اور گرلز سے اک ذرا سی بھی دلچسپی یا ہمدردی نہیں۔

اسی وقت ٹی وی پر ریحام خان کا انٹرویو چلا، جسے اتنی جلدی اور ہنگامی حالات میں چلایا گیا جیسے شاید لیڈی ڈیانا قبر سے نکل کر آ گئی ہوں اور آتے ہی اپنے آخری سفر پر کتاب بھی لکھ بیٹھی ہو۔ اگرچہ ریحام خان تو کہیں کی شہزادی بھی نہ تھی ابھی پاکستان میں بہت سے شہزادے شہزادیاں، ڈیوکس اور ڈچز باقی ہیں جن کا اس شہرت پر پہلا حق تھا مگر نجانے انہوں نے یہ سراسر حق تلفی کیسے برداشت کر لی۔

بہرحال انٹرویو پہلے تو دیکھنے کو جی نہ چاہا پھر اپنی صحافتی روح کو تسلی دلاسے دے کر بٹھا لیا کہ چلو سنتے ہیں ایک اور موقع دیتے ہیں ریحام کو کہ شاید ہم قائل ہو ہی جائیں۔ مگر خوش قسمتی یا بدقسمتی سے ریحام خان بری طرح ناکام ہو گئیں اور ہم بہت سی باتوں سے قائل ہوتے ہوتے پھر سے اسی کی کمزوری کی بنا پر قائل نہ ہو سکے اور بلاآخر بڑے ہی بدذائقہ ہو کر وہاں سے اٹھے۔

اگرچہ اس انٹرویو میں منیب فاروق بے انتہا شریف لگے اور اگرچہ ان کے پروگرامز میں ان کے قہقہے بہت بار بہت ناگوار گزرتے ہیں مگر اس انٹرویو میں وہ اس قدر نیک اور پارسا لگے کہ بے ساختہ ان کے لئے دل سے کھٹائی بہت صاف ہوتی رہی کہ ان سب باتوں پر جن پر بات کرنے کے لئے ریحام خان دل وجان سے تیار تھیں منیب نے اپنی شرافت کی بنا بات کرنے سے نا صرف گریز کیا بلکہ ایک بار تو ڈنکے کی چوٹ پر ریحام سے یہ بھی پوچھ لیا کہ خدا کو حاضر ناضر جان کر بتائیں! تو گویا منیب کے دل میں بھی بہت سے شہبات تھے جن کا وہ سرعام اعتراف کرنے سے ڈرتے تھے۔ مگر اپنی جرات سے انہوں نے بہرحال ہمارے لئے بہت سی باتوں پر یقین کرنا بہت آسان کر دیا۔

لیکن یہ آرٹیکل لکھا جائے کہ نہیں ابھی بھی اس کا فیصلہ نہ ہوا تھا کہ خاتون ہونے کی بنا پر ہم ہمیشہ خاتون کے سامنے کھڑے ہونے سے گریز کرتے ہیں اور یہ کھلم کھلا تعصب ہم ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں، ہمیں لگتا ہے یہ کام پاکستان کے مرد بہت کامیابی سے کر لیتے ہی تو اس میں اپنا حصہ ڈالنے سے ہم رستہ بدل لینا ہی مناسب سمجھتے ہیں مگر یہ توجیح بھی خود ریحام خان نے ہی رد کر دی اور ہمیں اکسا دیا کہ اگر کوئی عورت برا کام کر رہی ہے تو دوسری عورتوں میں یہ جرات ہونی چاہیے کہ وہ کھڑی ہو کر اس پر بات کریں۔ تو اس مضمون پر اگرچہ میرا دل اور دماغ آمادہ نہ تھا مگر ریحام نے اس کو بھی آمادہ کر دیا اپنے دلائل سے اور ہمیں بلاآخر اس گھسے پٹے موضوع پر قلم گھسٹنا پڑا جس کا نام میری پروفائل میں یقینا میرے لئے اک قابل فخر اضافہ نہ ہو گا۔ مگر ریحام کے چیلنج پر لبیک کہتے ہم نے بھی سوچ لیا کہ کچھ ہمیں بھی ڈاکومنٹ کر دینا چاہئیے کہ سند رہے کہ اک ازاں چاہے بت کدے میں ہی بیٹھ کر سہی ہم نے بھی لگا دی تھی۔

پہلے تو ریحام خان اپنے انٹرویو میں بہت پیاری لگ رہی تھی ہمیشہ کی طرح اگرچہ آج تیس سال کی نہیں اپنی عمر کے برابر کی ہی لگ رہیں تھیں بہر حال وہ جانتی ہیں کہ پاکستانیوں کو کس طرح خوبصورت لگنا ہے، کونسا اینگل کسطرف سے اچھا آتا ہے، ڈوپٹہ کس طرف سے کھسکے تو دل کو بھاتا ہے اور کس طرف کی مانگ کیٹ میڈلٹن سے زیادہ مماثلت دکھاتی ہے۔ تو اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ کی طرح اپنی پریزنٹیشن ان کی مکمل تھی۔

بیٹے سے ایڈٹ کے سوال پر ہم بھی متوجہ ہوئے کہ ساری پاکستانی عورتوں کی طرح ہمیں بھی فیملی اور اس کی تربیت کے بارے میں محبت سے بات کرتی عورتیں خوب لبھاتی ہیں مگر اس موقع سے بھی ریحام خان اچھے طریقے سے فائدہ نہ اٹھا سکیں اور جب دو فقروں میں اپنی عظیم تربیت کا ترانہ گاتے گاتے کئی لائنوں تک لڑھکتی چلی گئیں تو افسوس ہوا۔ یہ گول کرتے کرتے وہ مس کر گئی تھیں۔ جس بات کا مکمل اور بھرپور جواب نہ تھا اس سے کنی کترا جانی بہتر تھی بجائے کہ آپ نظر ادھر سے ادھر کرتے، لائنوں کو دائیں بائیں کرتے بے بنیاد خطبہ دے دیں۔

ان کے اس خطاب میں ہمارے دماغ میں ان کے انگلینڈ کے پہناوے اور لہراتی بل کھاتی کمر جھومتی رہی اور کئی طرح کے سوال اٹھاتی رہی، مگر ایک کڑوا سا صبر کا گھونٹ بھر کر ہم نے اس بات کو پی لیا کہ بچے تو سب کے ہوتے ہیں، اللہ معاف کرے! تربیت میں برکت ڈالنا اللہ کا کام ہے ہم کون ہیں انگلی اٹھانے والے!

پھر ریحام خان نے بری باتوں کے حوالے سے عورتوں کا نام لینے کا اک لمبا سا دفاع کیا تو ساتھ ہی ساتھ واویلا بھی کیا کہ پانچ پانچ لاکھ جوانوں کو دیے جاتے ہیں سوشل میڈیا پر ان پر کیچڑ اچھالنے کے لئے تو ہم نے ایک انگلی منہ میں ڈال لی کہ بی بی ابھی تو آپ عورتوں کو اکھاڑے میں کھینچ رہی تھیں، اب آپ کی بازو اگر کھینچی جا رہی ہے تو اب حوصلہ بھی دکھائیے۔ آپ تو بہت مضبوط خاتون ہیں مردانہ وار لڑتی ہیں تو پھر لڑیے بھی، یہ کیا کہ پہلی ہی بار میں عورت ہونے کا واسطہ۔

یہاں سے نکلے تو بات آ گئی ڈاکومنٹینگ کی۔ آپ ہسٹری لکھ رہی ہیں اور لوگوں کو یہ بتا رہی ہیں کہ آپ کے لیڈر میں یہ یہ معذوریاں ہیں جن پر ان کا بس ہی نہیں چلتا۔ مجھے یاد آیا اپنے ویسٹرن ڈریسز پر ایک بار ریحام نے کہا تھا کہ میں اس لئے یہ پہنتی ہوں کہ وہاں یہی کچھ پہنا جاتا ہے۔ تو بی بی بس تو آپ کا بھی بہت سی چیزوں پر نہیں چلتا۔ اور اگر یہ ساری مغربی معاشرے کی، برٹش معاشرے کی ضرورتیں ہیں اور ان سب خرافات کے ساتھ وہ لوگ دنیا کی اونچی قوموں میں سے ایک ہیں تو چلیے یہ تجربہ ہم بھی کر لیتے ہیں جہاں پہلے کئی کئی حرموں کے مالک کئی کئی سال ہم پر اپنی نحوست برسا چکے ایک اور سہی۔ آپ کیوں چاہتی ہیں کہ ہم ہمیشہ انہی چند لوگوں کی غلاظتیں بحثیت قوم اپنے ماتھے پر چپکاتے رہیں؟ چلیے نام کا ہی سہی کچھ تو بدلاؤ آ نے دیجیے کیا پتا کہ نام بدلتے بدلتے کل کو کوئی کردار ہی بدل جائے۔

اور آپ فرما گئیں کہ آپ نے ہیروئین اور کوکین وغیرہ کے بارے میں بہت کم لکھا ہے، دراصل بہت زیادہ ہے، تو بی بی یہ سکے آپ اس غریب ان پڑھ معاشرے کی طرف اچھال رہی ہیں جو آج بھی سمجھتے ہیں کہ ٹی وی پر شیروانی پہن کر عزت مآب کہلانے والے اپنے گھروں میں ہمشہ سجدے میں پڑے رہتے ہیں یا راتوں کو ٹارچ لے کر محلوں کا طواف کرتے ہیں کہ کہیں کوئی غریب بھوکا تو نہیں سو گیا۔ وہ عمران خان کا فالور جس سے آپ مخاطب ہی نہیں دراصل پڑھا لکھا طبقہ ہے جو جان چکا ہے کہ ان شیروانیاں کے پیچھے سب کے کیا کیا غلاظتیں چھپی ہیں۔ تو آپ ذرا اس طبقہ کو بھی دھیان میں رکھتیں اور کچھ ڈھنگ کے دلائل لاتیں ذرا، ہر طبقہ اور ہر لیول کے قاری کا کچھ خیال کرتیں تو شاید یہ کچھ ڈالر ہم بھی آپ کی کتاب پر ضائع کر دیتے مگر آپ نے بھی اک لنگر کی بریانی کی پلیٹ پکڑا کر ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کر دی، آپ کے جیسی فر فر انگلش بولتی ڈچز آف کیمبرج لگتی، بی بی سی کی نمبر ون رپورٹر سے ہمیں ایسی کج فہمی کی توقع نہ تھی سو بہت ہی مایوسی ہوئی۔

مضمون کا باقی حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں