آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹنٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے عمران خان کو کیا خطاب دیا؟


پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان اپنی کتاب کے صفحہ 266 پر لکھتی ہیں کہ جن دنوں میرے اور عمران خان کے درمیان ناچاقی شروع ہو ئی تو میری ایک کزن میری قریبی دوست ہونے کے ناتے ہم دونوں کی اختلافات دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

ایک روز اس خاتون دوست سے فون پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے مجھ پر الزام لگایا کہ میں آئی ایس آئی کی تنخواہ یافتہ ایجنٹ ہوں نیز یہ کہ میں آئی ایس آئی کے ایک حاضر سروس میجر کے ساتھ کھلم کھلا معاشقہ لڑا رہی ہوں۔ عمران خان نے یہ سب باتیں فون پر اس بری طرح چلاتے ہوئے کہیں گویا وہ اپنی مخاطب خاتون کی بات بھی سننے پر تیار نہیں تھا۔

ہماری طلاق کے چند ماہ بعد عمران خان آئی ایس آئی کے ایک سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹنٹ جنرل ظہیر الاسلام سے ملا۔ اس نے اس ملاقات میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل  سے میرے اور مفروضہ میجر کے مبینہ معاشقے کی تصدیق چاہی۔ لیفٹنٹ جنرل ظہیر الاسلام اس قدر بدمزہ ہوئے کہ ملاقات ختم کر کے اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے بعد میں کسی سے کہا کہ یہ شخص (عمران خان) بکواس کرنے والا خبطی انسان ہے اور یہ کہ “میں اب اس سے دوبارہ کبھی نہیں ملنا چاہوں گا”۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں