عمران خان معروف صحافی سلیم صافی کو کس نام سے پکارتے تھے؟


تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں صحافی سلیم صافی کے بارے میں عمران خان کی حقیقی رائے لکھ دی ہے۔

ریحام خان لکھتی ہیں کہ میں نے جیو نیوز کو اپنا پہلا اور آخری انٹرویو سلیم صافی کو دیا۔ تحریک انصاف والوں نے اس انٹرویو کا انتظام کیا تھا۔ اس انٹرویو کے لیے سلیم صافی نے نہیں کہا تھا۔ ریحام لکھتی ہیں کہ جہانگیر ترین اور عون چوہدری نے مجھے بتایا تھا کہ یہ انٹرویو عمران خان اور سلیم صافی کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ایک کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس انٹرویو میں اگر آپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا گیا اور عزت دی گئی تو پھر سلیم صافی کو عمران خان بھی انٹرویو دیں گے۔

ریحام لکھتی ہیں کہ سلیم صافی واحد پختون صحافی تھے جو کے پی کے حکومت کی بری کارکردگی کے بارے میں باقی صحافیوں سے زیادہ جانتے تھے اور اس کارکردگی پر وہ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتے تھے، اسی وجہ سے عمران خان انہیں صافی کمینہ کہہ کر پکارتے تھے۔ ریحام اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ اس سے پہلے جہانگیر ترین اور پرویز خٹک سلیم صافی کو انٹرویو دے چکے تھے، انٹرویو کے بعد سلیم صافی نے مجھے خیبرپختونخوا کی خراب کارکردگی کے حوالے سے فائلیں دکھائیں جو ان کی تحقیق پر مبنی تھیں،

ریحام لکھتی ہیں کہ اس انٹرویو میں مجھے بہت عزت دی گئی، جیو کی پوری ٹیم نے باہر آ کر میرا استقبال کیا، اس موقع پر مجھے چادر پہنائی گئی اور سلیم صافی کی اہلیہ نے مجھے طلائی زیور بھی تحفہ میں دیا لیکن اس کے بعد بھی عمران خان اور سلیم صافی کی تلخی دور نہ ہو سکی وہ دونوں اپنی اپنی ضد پر قائم رہے۔

15 نومبر 2015 کو لاہور کے معروف صحافی سلمان غنی نے اپنے ذرائع سے ذیل کی خبر دی 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں