چوتھا خواب نامہ۔۔۔ درویش سچ کی تلاش میں نکلتا ہے


7 مئی 2018

رابعہ کو درویش کا آداب

درویش سچ کی تلاش میں نکلا ہوا مسافر بھی ہے اور ایک سوچ‘ایک آرزو‘ ایک آدرش اور ایک خواب بھی۔ آشتی کی سوچ‘ انسان دوستی کی آرزو‘ انسانی ارتقا کا آدرش اور پرامن معاشرے کا خواب۔

درویش کو جب رابعہ کا ادبی خط ملا تو شام ہو چکی تھی۔ اس کے دن کی شام ہی نہیں، اس کی زندگی کی شام بھی۔ رابعہ کی رہائش مشرق میں ہے اور درویش مغرب میں بستا ہے۔ جب رابعہ کے دیس کا سورج طلوع ہوتا ہے درویش کے دیس کا ایک دن پہلے کا سورج غروب ہو رہا ہوتا ہے۔ رابعہ کا خط وقت کے سمندر میں پیچھے کی طرف سفر کرتا ہے۔ دونوں کو ایک مختصر رات جدا بھی کرتی ہے اور ایک طویل دن ملاتا بھی ہے۔۔

درویش کے لیے رابعہ کے نام میں ایک جاذبیت ہے ‘ایک مقناطیسیت ہے‘ ایک پراسراریت ہے کیونکہ اس کے لیے یہ ایک عورت کا نام ہی نہیں ایک دیومالائی شخصیت اور ایک روایت کا نام بھی ہے جس سے درویش کا تعارف اس کی زندگی کی صبح میں ہوا تھا جب اپنے صوفی والد کی چھوٹی سی لائبریری میں اس نے پہلی بار ’تذکرۃالاولیا‘پڑھا تھا۔ اسے رابعہ بصری کی شخصیت اور فلسفہِ حیات نے اتنا مسحور کیا تھا کہ اس نے بارہ برس کی عمر میں اپنی زندگی کا پہلا مضمون تخلیق کر کے رسالہ ’بچوں کی دنیا‘ کو بھیجا تھا اور اس کی مسرت اور حیرت کی انتہا نہ رہی تھی جب رسالے کے مدیر نے وہ مضمون چھاپ بھی دیا تھا۔ درویش کو کچھ اسی طرح کی حیرت اور مسرت اس وقت ہوئی تھی جب اسے رابعہ کا ادبی خط ملا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا تھا جیسے اس کی زندگی کا ایک دائرہ مکمل ہو گیا ہے۔ دائرہ جس کی نہ کوئی ابتدا ہوتی ہے نہ انتہا۔ اسے یوں لگا جیسے ایک رابعہ میں دوسری رابعہ کی خوشبو رچ بس گئی ہو، گھل مل گئی ہو۔

درویش کو اب بھی یاد تھا کہ رابعہ کی کہانی میں وہ ایک غلام تھی جو سارا دن اپنے زمینی مالک کی خدمت اور ساری رات اپنے آسمانی مالک کی عبادت کرتی رہتی اور محبت کے نشے میں مدہوش رہتی۔ آخر ایک رات جب زمینی مالک نے اسے آسمانی مالک کی عبادت کرتے دیکھا تو اسے آزاد کر دیا۔

درویش کو یہ بھی یاد تھا کہ ایک دن رابعہ بصرہ کے بازاروں میں ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے ہاتھ میں پانی لیے بھاگی جا رہی تھی۔ لوگوں کے پوچھنے پر اس نے بتایا تھا کہ وہ جنت کو آگ لگانے اور جہنم کو پانی سے بجھانے جا رہی ہے تا کہ آئندہ کوئی شخص جہنم کے خوف یا جنت کی آرزو میں عبادت نہ کرے، اگر کرے تو اپنے خدا کی خالص محبت میں کرے۔

درویش جب بھی رابعہ کے بارے میں سوچتا اس کے دل میں رابعہ کی عزت اور عظمت بڑھ جاتی۔ اسے اپنی زندگی کی صبح کا دور یاد آ جاتا جب رابعہ کے نام سے تقدس کا عکس جھلکتا تھا۔

درویش کو یہ بھی یاد تھا کہ رابعہ بصری ایک درویش کی محفل میں جایا کرتی تھی۔ درویش اپنے شاگردوں سے کہتا تھا کہ ہمت مت ہارو، دروازے پر دستک دیتے رہو، ایک دن دروازہ کھل جائے گا۔ آخر ایک شام رابعہ نے درویش سے کہا۔۔۔ یہ تم اپنے شاگردوں کو کیا بتاتے رہتے ہو۔ دروازہ بند کب تھا؟۔ رابعہ طریقت اور معرفت کی ایسی منزل پر پہنچ چکی تھی جہاں بہت سے مردوں اور عورتوں کا پہنچنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔

درویش نے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز تو تصوف کی گلی سے کیا تھا لیکن پھر وہ ادب کے کوچے اور فلسفے کی سڑک سے گزرتا ہوا نفسیات کی شاہراہ پر آ پہنچا تھا۔ اسے یہ جان کر حیرانی ہوئی تھی کہ لفظ سائیکی psycheجس کا قدیم مذہبی دور میں ترجمہ روح soul کیا جاتا تھا اب سائنس اور نفسیات کے جدید دور میں ذہن mind ہو گیا تھا۔

رابعہ نے درویش سے پوچھا ہے کہ کیا اولیا اور انبیا کی طرح شاعر اور دانشور بھی منتخب ہوتے ہیں۔ درویش کو یوں لگا جیسے رابعہ کسی آسمانی باپ پر ایمان رکھتی ہے جو اپنے بچوں کی ہدایت کے لیے رہنما بھیجتا ہے۔ درویش کا خیال ہے کہ انسان آسمانی باپ کے نہیں، دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

درویش یہ سمجھتا ہے کہ ہر بچے میں کچھ تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے بعض میں کم بعض میں زیادہ۔ وہ تخلیقی صلاحیت ایک بیج کی طرح ہوتی ہے۔ جس طرح کسی بیج کو ہرا بھرا پودا اور تن آور پھلدار درخت بننے کے لیے مناسب کھاد‘تازہ ہوا‘ سورج کی روشنی اور ایک مالی کی محبت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح بچے کو محبت کرنے والے والدین‘ شفقت کرنے والے اساتذہ اور ایک آزاد اور پرامن معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ اس کے اندر کی خفیہ صلاحتیں اجاگر ہو سکیں اور وہ ایک سائنسدان‘ شاعر یا دانشور بن سکے۔ لیکن اگر بچے کے پر کاٹ دیے جائیں تو ایک شہباز کی پرواز بھی کبوتر سے زیادہ بلند نہیں ہوتی۔ بعض شہروں اور ملکوں میں تو بچوں کے سروں پر فرسودہ روایات کی لوہے کی ٹوپیاں یا پیروں میں لوہے کی جوتیاں پہنا دی جاتی ہیں۔

درویش کا خیال ہے کہ creativity, insanity and spirituality کے رشتے پراسرار رشتے ہیں یہ وہ رشتے ہیں جن میں دیوانے اور صاحبِ دیوان ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور ۔۔۔۔ شاعری جزو ایست از پیغمبری۔۔ بھی بن جاتی ہے۔

درویش اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین کے ساتھ مکالمے اور اپنے تجربے‘ مشاہدے‘ مطالعے اور تجزیے سے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ سچ تک‘حق تک ‘حقیقت تک‘ صداقت تک پہنچنے اوردانائی کے راز جاننے کی تین راستے ہیں

پہلا راستہ وجدان intuitionکا ہے جسے سنت سادھو اور صوفی استعمال کرتے ہیں

دوسرا راستہ جمالیات aestheticsکا ہے جسے شاعر اور فنکار استعمال کرتے ہیں

تیسرا راستہ منطق logicکا ہے جسے سائنسدان استعمال کرتے ہیں۔

سائنسدان پہلے سچ کو محسوس کرتا ہے پھر اسے الفاظ میں بیان کرتا ہے اور پھر تحقیق سے اسے ثابت کرتا ہے۔ اس طرح وہ ایک وجدانی سچ کو معروضی سچ میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وجدانی سچ کو ماننے کے لیے عقل سے زیادہ ایمان کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض سادہ لوح روایتوں پر اندھا ایمان لے آتے ہیں اور بھٹکتے رہتے ہیں۔

ایک مخلص صوفی ایک مخلص شاعر اور ایک مخلص سائنسدان ایک دوسرے کے سچ کا احترام کرتے ہیں۔

درویش زندگی کی صبح کے وقت یہ سمجھتا تھا کہ ساری دنیا میں ایک ہی سچ ہے جو حتمی بھی ہے اور ازلی و ابدی بھی لیکن زندگی کی شام تک پہنچتے پہنچے اسے احساس ہو گیا ہے کہ دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان۔ اسی لیے وہ رابعہ کے سچ کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ رابعہ کے سچ کی عمارت اس کے خلوص اور تجربے کی بنیادوں پر تعمیر ہوئی ہے۔ وہ بھی رابعہ بصری کی طرح ساری رات سوچتی اور تخلیقی ریاضت اورعبادت کرتی رہتی ہے۔

درویش ساری عمر سائنسدانوں اور سکالروں‘ سنتوں اور صوفیوں‘ شاعروں اور دانشوروں کی سوانح عمریاں پڑھتا رہا ہے۔ اس نے یہ جانا ہے کہ اپنے فن میں کامیابی کے لیے کتنی مشقت اور کتنی ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے البرٹ آئن سٹائن کا یہ قول بہت پسند ہے

Creativity is 1% inspiration and 99% perspiration

درویش ایسے کئی فنکاروں کو جانتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی برس اور کئی دہائیاں اپنے فن کے ریاض کے لیے قربان کر دی ہیں۔ درویش اسے ایک کامیاب شاعر یا دانشور بننے کے لیے ہوم ورک کا نام دیتا ہے۔

درویش جانتا ہے کہ ایک جینون فنکار کے لیے اپنے فن کا اظہار زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اسے رابعہ کا خط پڑھ کر عباس تابش کا شعر یاد آیا ہے

سکوتِ دہر رگوں میں اتر گیا ہوتا

اگر میں شعر نہ کہتا تو مر گیا ہوتا

درویش ساری عمر زندگی کے‘ موت کے‘ محبت کے‘ نفرت کے‘دوستی کے‘ دشمنی کے‘شاعری کے راز جاننے کا خواہشمند رہا ہے۔ اسے رابعہ کے خط سے دوستی کی خوشبو آ رہی ہے اور اپنی نانی اماں کا قول یاد آ رہا ہے کہ ایک اور ایک دو نہیں گیارہ ہوتے ہیں۔

درویش نے سوچا کہ رابعہ سے پوچھے کہ تخلیقی سفر نے اس کی ذاتی زندگی کو کیسے متاثر کیا ہے؟ اسے ایک ادیبہ بننے کے لیے کیا قربانی دینی پڑی ہے۔ ؟ اس کا مستقبل کا خواب کیا ہے؟

درویش کو نیند بلا رہی ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ نیند اس سے ناراض ہو جائے۔ اس لیے وہ رابعہ سے اگلے خط تک اجازت چاہتا ہے۔

شب بخیر۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الربا کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الربا کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں