پروفیسر وزیراعلیٰ کی ’’پھنے خانی‘‘


پنجابی زبان کا ایک لفظ ہے ’’میسنا‘‘۔ اسے ادا کرنے کا بھی ایک خاص انداز ہے۔ ’’بارہ دروازوں اور ایک موری‘‘ والے میرے شہر لاہور کی خواتین ہی صحیح طورپر ادا کرسکتی ہیں۔ بارہا میں نے اس لفظ کا اُردو یا انگریزی مترادف ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ ہمیشہ ناکام رہا۔ اُردو کا ’’مکار‘‘ اور انگریزی کا “Deceptive” ذہن میں ہرگز وہ تصویر نہیں بناتا جو میرے محلے کی عورتیں اس لفظ کو ادا کرتے ہی دماغ میں بٹھادیتی تھیں۔

محض بصری حوالوں سے بات کریں تو پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی صاحب اس لفظ کی عملی تصویر ہوسکتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ’’چھوٹا سا ایک بچہ ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے‘‘ والا گانا بھی یاد آجاتا ہے۔ شکل سے موصوف الجھے بالوں کے ساتھ خیالوں میں گم مگر حواس باختہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے لبوں پر مگردائمی سی ایک مسکراہٹ بھی موجود رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے گماں ہوتا ہے کہ موصوف بے ضرر سے آدمی ہیں۔ ذاتی طورپر مجھے ان سے تین یا چار بار دوستوں کی محفل میں سرسری طورپر ملنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ہر ملاقات کے بعد دوبارہ ملنے کی خواہش ہرگز پیدا نہیں ہوئی۔

لاہور کے نامی گرامی ’’پروفیسروں‘‘ کو میری نسل کے لوگ گورنمنٹ کالج کے ڈاکٹر نذیر احمد صاحب اور میرے زمانہ طالب علمی میں اس کالج کے پرنسپل ڈاکٹر اجمل صاحب جیسی شخصیات کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ دُنیاوی خواہشوں اور عہدوں سے قطعی بے نیاز علم اور شفقت بانٹتے بزرگ جو ڈانتے ہوئے بھی وہی زبان اور لہجہ اختیار کرتے تھے جو میری ماں ایسے مواقع پر اختیارکرتی تھیں۔ صوفی تبسم مرحوم استادوں کے استاد شمار ہوتے تھے۔ آدھے بازووں والی بنیان پہنے اور دھوتی باندھے انہیں کئی بار دیکھا۔ فیض احمد فیض گھبراتے ہوئے انہیں کلام اقبال کا اپنی جانب سے کیا اُردو ترجمہ دکھاتے۔ یہ ترجمہ دیکھتے ہوئے کسی مقام پر صوفی صاحب کی آواز بلند ہونا شرع ہوجاتی۔ اقبال کی استعمال یا ایجاد کردہ فارسی کی کوئی ترکیب صوفی صاحب کی دانست میں فیض صاحب سمجھ ہی نہ پائے تھے۔ فردوسی، عطار اور نہ جانے کون کون سے ناموں کے تذکرے ہوتے۔ فیض صاحب سرجھکائے یہ خطاب سنتے اور بالآخر یہ کہتے ہوئے معافی کے طلب گار کہ ’’اسی لئے تو آپ کو دکھانے لائے ہیں‘‘۔

اپنے انگریزی کے پروفیسر صدیق کلیم صاحب سے ایک دن راہ چلتے ہوئے T.S. Ellito کا بیان کردہ Objective Correlative سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ فٹ پاتھ پر کھڑے کھڑے دوگھنٹے گزرگئے۔ پروفیسرایرک سپرین میرے براہِ راست استاد نہیں تھے۔ شیکسپیئر کے ڈراموں کے بارے میں ان کا لیکچر سننے مگر گورنمنٹ کالج کے کئی طالب علم بھی ان کی اسلامیہ کالج سول لائنز والی کلاس میں گھس جاتے تھے۔ میں نے بھی ان سے انگریزی ادب کے بارے میں چند سوالات پوچھ کرکئی بار اپنی جہالت کو دریافت کیا تھا۔

عسکری صاحب کی ’’عظمت‘‘ مگر یہ رہی کہ انہوں نے مجھے کسی بھی موضوع پر میری کم مائیگی کا احساس ہونے ہی نہیں دیا۔ انگریزی اخبارات میں ان کے چھپے مضامین کو بغور پڑھ کر بھی آج تک جان نہ پایا کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ نام نہاد سول ملٹری تعلقات، یعنی عسکری اور سیاسی قیادت کے مابین پاکستان ایسے ممالک میں فیصلہ سازی کے حوالے سے ابھرنے والے اختلافات، ان کا پسندیدہ موضوع رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ انہیں بہت محتاط انداز میں بیان کرتے پائے گئے۔ علم والے اگرچہ ’’احتیاط‘‘ نہیں برتا کرتے۔ اپنی لگن اور تحقیق کا یقین ہوتو سادہ اور دو ٹوک الفاظ میں اپنی رائے بیان کردیتے ہیں۔

بلھے شاہ کا ’’اِکوں الف…‘‘۔ وغیرہ وغیرہ دنیای خواہشوں سے بے نیاز علم والے صوفیا کی طرح اقتدار کے ایوانوں سے بھی دور رہتے ہیں۔ پروفیسر حسن عسکری صاحب مگر اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی نگران وزارتِ اعلیٰ کے منصب کو خوش دلی سے قبول کرنے کے بعد اس عہدے پر فائز ہوچکے ہیں۔

ٹھوس ذرائع سے میرے پاس مستند اطلاعات ہیں کہ اپنے دفتر میں جانے کے بعد سے وہ بچوں والی حیرت و مسرت کے ساتھ خلقِ خدا کو ”گورن“ کرنے کے طریقوں کو جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔ ڈیجیٹل انقلاب برپا ہونے کے بعد سے دنیا بھر کی اشرافیہ ان دنوں خلقِ خدا کو قابو میں رکھنے کے لئے آرٹیفشل انٹیلیجنس کے جلووں سے آشنا ہورہی ہے۔ حکمران کے دفتر میں ایک بہت بڑی اسکرین لگی ہوتی ہے۔ اس کے ’’زیر نگین‘‘ علاقے میں اس اسکرین پر مختلف شہروں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈیٹا بٹن دباتے ہی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر صاحب اکثر ایسے بٹن دباتے پائے جارہے ہیں۔ کی بورڈ کے بٹنوں سے کھیلتے اور وٹس ایپ کی سہولتوں کے ذریعے خلقِ خدا کو قابو میں رکھنے کا عملی مظاہرہ پروفیسر حسن عسکری صاحب میرے اس کالم کے روز بھرپور انداز میں دکھارہے ہوں گے۔

جمعے کی شام نواز شریف نے اپنی دُختر سمیت لاہور ایئرپورٹ اُترنا ہے۔ ان دونوں کو احتساب عدالت نے طویل برسوں کی قید بامشقت سنارکھی ہے۔ ایئرپورٹ کے Tarmac تک کسی غیر متعلقہ شخص کے پہنچنے کی گنجایش ہی موجود نہیں۔ وہاں نیب والوں کو فراہم کردہ ایک ہیلی کاپٹر بھی موجود ہوگا۔ نواز شریف اور ان کی دُختر کو جہاز سے اترتے ہی اس ہیلی کاپٹر میں بآسانی منتقل کیا جاسکتا ہے۔ نواز شریف کے جہاز میں بیٹھے صحافی ان دونوں کی مگر گرفتاری اور ہیلی کاپٹر تک روانگی والے مناظر دیکھ نہیں پائیں گے۔ نہ ہی ان کی مناسب رِکارڈنگ ممکن ہے۔ نواز شریف اور ان کی دختر کو بٹھا کر ہیلی کاپٹر لاہور سے روانہ ہوگیا تو ہر صورت رات گئی بات گئی والا معاملہ ہوجائے گا۔

انگریزی دور کے تھانے داروں کی طرح خود کو جدید ذہن والا کہلوانے کے شوقین پروفیسر حسن عسکری مگر اس بات پر تلے بیٹھے ہیں کہ شہرِ لاہور کو کنٹینروں کے ذریعے جمعے کی صبح ہی سے سِیل کردیا جائے تا کہ نواز شریف کے حامیوں کی مؤثر تعداد ایئرپورٹ تک نہ پہنچ پائے۔ کٹ پیسٹ کے کمالات کے ذریعے پروفیسر ہوئے اس شخص کو اندازہ ہی نہیں ہورہا کہ سڑکوں پر لگے کنٹینر حکمرانوں کی پریشانی اور کم زوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کی طاقت کو نہیں۔ کئی صورتوں میں یہ اصل مقصد بھی حاصل نہیں کر پاتے۔ مسلم لیگ نون کے پاس وہ ورکر ہی موجود نہیں جو طاہر القادری یا علامہ خادم حسین رضوی صاحب کو نصیب ہوئے ہیں۔ نواز شریف صاحب کو لاہور ایئرپورٹ سے اٹھا کر کہیں اور لے جانے کے بعد ان کے کارکنوں کی اکثریت تھوڑی نعرے بازی کے بعد منتشر ہوجائے گی۔

ان کارکنوں کو لاہور لانے والے رہ نمائوں کی اکثریت کے ذہن پر 25 جولائی 2018ء سوار ہے۔ وہ نہیں چاہیں گے کہ یہ لوگ جنہوں نے انتخابات کے دن ان کا پولنگ ایجنٹ بننا ہے یا ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنوں تک لے کر آنا ہے ’’پلس مقابلوں‘‘ میں زخمی ہوکر حوالاتوں میں بند ہوجائیں۔ پروفیسر صاحب کو ’’نواب آف کالاباغ‘‘ والی پھنے خانی دکھانے کی ضرورت نہیں۔ قوم 2018ء میں داخل ہوچکی ہے۔ پروفیسر صاحب بھی اس عہد میں داخل ہو ہی جائیں۔ خواہ مخواہ کے تماشے لگانے کی کوشش نہ کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں