رام چندر جی اور نمک کا آدمی


اس شور سے،الزامات کی سیاست سے، جھوٹے دعووں، وعدوں سے کچھ دیر کے لیے دور چلے چلتے ہیں۔ پانچ سو قبل مسیح کے ہندوستان میں، رام چندر جی کے دور میں۔
کہتے ہیں، رام چندر جی اپنے پیروکاروں کو اکثر ایک کہانی سنایا کرتے تھے۔ ساحل پر چہل قدمی کرنے والوں کی کہانی، جو ایک سہ پہر اس بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ سمندر کتنا گہرا ہے۔ چہل قدمی کرنے والوں میں نامی گرامی ہستیاں شامل تھیں۔ حاکم، جنگجو، وزیر، سفیر، فنکار، کھلاڑی۔ وہ سب، جنھیں سماج میں رتبہ حاصل تھا، جن کا نام تھا، رسوخ تھا، جن کے سینوں پر تمغے تھے۔ اور وہ ساحل پر کھڑے بحث میں الجھے تھے کہ سمندر کتنا گہرا ہے؟
بحث طول پکڑتی گئی۔ اور یہ متوقع تھا، کیوں کہ بحث ہی ان کے لیے اکلوتا امکان تھا۔ سمندر میں اتر کر اسے ماپنے کا ان میں سے کسی میں حوصلہ نہیں تھا۔ ایسے میں ایک عام سا شخص سامنے آیا۔ بے نام شخص۔ ایک نمک کا آدمی۔ جس نے اعلان کیا کہ وہ اس سوال کا جواب کھوج لایے گا کہ سمندر کتنا گہرا ہے، کیوںکہ وہ سمندر میں اترنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
ان نامی گرامی ہستیوں کی آنکھوں میں اس عام سے انسان کے لیے حقارت تھی، مگر وہ چپ رہے کہ وہ خود سمندر میں اترنے سے خوف زدہ تھے، جب کہ نمک کا آدمی یہ ارادہ باندھ چکا تھا۔
تو وہ سمندر میں اتر ا، اور اترتا چلا گیا۔ آگے بڑھتا گیا، یہاں تک کہ عمیق ترین حصے میں پہنچ گیا۔ آخر وہ جان گیا کہ سمندر کتنا گہرا ہے۔ جان گیا کہ اس کی تہہ کہا ں ہے۔ اس نے جواب پا لیا۔ مگر تب اس پر ایک انکشاف ہوا۔
انکشاف کہ اب وہ واپس نہیں جا سکتا۔ یہ ممکن ہی نہیں۔ کیوں کہ وہ تحلیل ہوگیا ہے۔ گھل گیا ہے۔ سمندر کا حصہ بن گیا ہے۔ وہ جواب جانتا تھا، مگراب لوٹ نہیں سکتا تھا ۔۔۔اور وہ جو ساحل پر کھڑے تھے، اپنی انا کے پنجرے میں قید، اپنے تمغوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے، ہنوز بحث میں الجھے تھے۔
رام چندر جی پیروکاروں کو یہ کہانی سناتے سمے ضرور اِس کے روحانی پہلو کی جانب متوجہ کرتے ہوں گے۔ اس پیغام کی سمت کہ حقیقت تک رسائی کے لیے فرد کو اپنی انا قربان کرنی پڑتی ہے، خود کو تج دینا ہوتا ہے۔
البتہ جب جب میں پاکستان کی خستہ حال سڑکوں پر سانس لیتے بدحال انسانوں کو دیکھتا ہوں، جب وہ مجھے اپنے گھٹے گھٹے مکانات میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، اسپتالوں میں ذلیل ہوتے، ملاوٹ شدہ غذا کھاتے، جعلی ادویہ پھانکتے، پل پل مرتے دکھائی دیتے ہیں، تو یوں لگتا ہے کہ یہ بھی نمک کے آدمی ہیں، جو غم کے، درد کے گہرے سمندر میں تحلیل ہو چکے ہیں، مٹ گئے ہیں۔ اب وہ اور غم ایک ہیں۔
اور جو ساحل پر کھڑے شور مچا رہے ہیں۔ ہمارے حکمراں، سیاستداں، ہماری قسمت کے فیصلہ ساز، وہ اس درد کی گہرائی سے، اس کی شدت سے لاعلم ہیں۔ اور لاعلم ہی رہیں گے کہ وہ کبھی سمندر میں نہیں اتریں گے۔ درد کا سمندر فقط عوام کا نصیب رہے گا۔ آج بھی اور 25 جولائی کے بعد بھی۔
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں