اوریانہ فلاچی: راج ہنس کے گیت کی مانند آخری سانسیں


پہلی و دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ۔اس تباہی نے زندگی کے تمام شعبوں کو بیحد متاثر کیا۔ اور دنیا کو ہر طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا. جنگوں کے پس منظر سے ہمیشہ فن و فکر کے مختلف زاویے دریافت ہوئے ہیں۔ جنگ کا نام دکھ کے گہرے بھنور کی ترجمانی کرتا ہے۔ نہ جانے کتنی نسلوں کی خوشیاں و خواب ،بے یقینی کے گہرے اندھیروں کی نظر ہوکر رہ گئے۔یہ حقیقت ہے کہ فطری تباہ کاریوں و جنگوں کی وجہ سے انسانی شعور و ا حساس نے جلا پائی۔

جنگ و جدل کے پس منظر میں ، مربوط ادب تشکیل پایا ہے ، جس کی وسیع جڑیں دکھ کے پاتال میں پیوستہ ہیں۔

جنگ کےپس منظر میں ، تحریر کیا گیا ادب پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت کے ہاتھوں میں ، انسان کی حیثیت مہرے کی سی ہے! اور وقت کی تاریخ ،حالات کے کس قدر خطرناک دھارےپر سفر کرتی ہوئی ہم تک پہنچی ہے ۔این فرینک کی ڈائری، “A dairy of a young girl”، ارنیسٹ ھیمنگوے کا ناول ، “A farewell to arms” اور لیو ٹالسٹائی کا “War and peace” اور دیگر تحاریر جنگ کے سیاسی، معاشی و نفسیاتی پہلو کو اجا گر کرتی ہیں۔ جہاں یورپ کے مختلف ممالک اس جنگ کی زد میں آئے، وہاں اٹلی بھی متاثر ہوا۔

پہلی جنگ عظیم اٹلی کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی۔ جنگ کے ختم ہونے تک 60،000 لوگ اجل کا شکار ہوچکے تھے۔ اٹلی ایک زوال پذیر مملکت تھا، جہاں معاشی بحران، معاشرتی بدنظمی، مزدور طبقے میں اضطراب و تکرار، بے روزگاری اور افراط زر جیسے مسائل سر اٹھائے کھڑے تھے۔ 1919ء میں بینیٹو مسولینی اور دوسرے سوشلسٹ سربراہ ایک سیاسی تنظیم (Fascists di Combat) Fasci di combattimento کی بنیاد ڈالتے ہیں۔ یہ فاشسٹ جنگ اور جدیدیت کو فوقیت دینے والے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اٹیلین نیشنلز وجود میں آئی۔ نیشنل فاشسٹ پارٹی کا عروج 1930ء میں زوال پذیری کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔

مسولینی کے دور اقتدار میں اوریانہ فلاچی نے جنم لیا۔ یہ ہی سبب ہے کہ اس کی تحریروں میں اٹلی کی سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا ذکر شامل ہے۔ وہ ایک بیباک ، نڈر اور نفسیاتی شعور کی حامل صحافی کے طور پر سامنے آتی ہے۔

اوریانہ ، پر اطالوی فاشزم، دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں اور اس کے والد ،ایڈورڈو کی لبرل مزاحمتی تحریک نے کافی گہرا اثر چھوڑا۔ اس کا والد ،مسولینی کا مخالف تھا اور فاشسٹ تحریک چلنے کے دوران ، اس کی سخت مزاحمت کرتا رہا۔ دس سالی کی عمر میں اوریانہ نے اٹلی کو دوسری جنگ عظیم میں جکڑا دیکھا۔ اس نے اپنے باپ کا ساتھ دیتے ہوئے ا،س کی بنائی ہوئی مزاحمتی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ اس نے نازیوں کے مخالف کے طور پر جنگ کی۔ فلورنس پر نازیوں کے قبضے کے دوران، اوریانہ کے باپ کو قید میں ڈالا گیا، جہاں اس پر ہر قسم کا تشدد کیا جاتا تھا ۔ جنگ 1945ء میں اختتام کو پہنچتی ہے۔ لیکن اس جنگ کے دیے ہوئے گھاؤ ، اوریانہ اپنی روح کی گہرائیوں میں تمام عمر محسوس کرتی رہی ۔ اس نے کہا تھا: “مجھے پتا ہے کہ جنگ کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کا مطلب خوف اور دہشت میں زندگی گزارنا ہے۔ ایئراسٹرائیکس کی مسلس فائرنگ اور بندوقوں کی گولیوں تلے بھاگنا ہے۔ لوگوں کو مرتے دیکھنا، گھروں کی تباہی، فاقوں میں روٹی کے ایک ٹکڑے اور پانی کے ایک گلاس کے لیے ترسنا ہے۔” یہ غیر منطقی لڑائی کا المیہ ہے کہ جیت کسی کی ہو مگر انسانیت خسارے میں رہتی ہے۔ حادثات سے انسانی شعور و تخلیقی عمل پنپتا ہے مگر لامحدود اختیار کی ہوس بھی بڑہتی ہے۔

1943ء میں فلورنس پر بمباری ہوئی۔ چھوٹی سی اوریانہ اور اس کا باپ ایک چرچ کے اندر پناہ لینی پڑی۔ اوریانہ بتاتی ہے کہ وہ خوف کے مارے رو پڑی اور اس کا باپ اسے ایک زوردار تھپڑ جڑ کر کہتا ہے: “ایک لڑکی کو ایسے نہیں رونا چاہئے۔” اور اوریانہ کی سسکیاں رک جاتی ہیں۔ ایک دوسری ہی اوریانہ کو وہ اپنے سامنے کھڑا دیکھتی ہے، جو پہلے سے زیادہ پراعتماد اور بہادر ہے، جس کے پاس کہیں خودرحمی کے احساسات نہیں۔ اس نے اپنی تحاریر میں سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا تجزیہ کرتے وقت ا،نہیں تاریخی تناظر میں دیکھا۔ تاریخی شعور نے اس کی تحریروں میں جان ڈال دی۔ بقول اوریانہ کے “صحافی تاریخ میں رہتا ہے، اپنے کانوں سے تاریخ کو سنتا ہے”۔ شاید اسی لئے وہ خود کو منصف کہتی ہے، جسے خود فیصلہ دینا ہے۔ وہ سچ کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس بات کو غلط کہتی ہے کہ سچائی بیچ میں کہاں ہے۔ سچ صرف ایک طرف ہوتا ہے۔ اس کی نظر میں خارجیت، منافقت کا دوسرا نام ہے۔

اوریانہ نے سولہ سال کی عمر میں لکھنے کا آغاز کیا۔ اٹلی کے مزاحمتی دور میں اوریانہ کی مصنفہ بننے کی وجہ ، شاید اس کی نسل کے حصے میں آئی بے یقینی، سزاؤں کا نہ ختم ہونے والا طویل سفر تھا۔ لفظوں کا کھیل اس کی زندگی کا محبوب مشغلہ تھا۔ دن میں پچاس سگریٹ پھونکنے اور مسلسل دن رات ایک کرکے لکھنے والے مصنف کو اوریانہ ذاتی مفاد سے بالاتر سمجھتی ہے۔ اس کے نزدیک حقیقی لکھاری کائنات کی حدوں، زبان و سرحدوں اور زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہے۔ وہ ان سب باتوں سے ماورا ہوتا ہے۔

اوریانہ نے اپنے کریئر کا آغاز اٹلی کے اخبارات میں جرائم کے حوالے سے کالمز لکھنے سے کیا۔ جلد ہی اس نے اپنے سیاسی فہم و فراست، بے باکی اور ذاتی تجزیوں کی صلاحیت کے باعث صحافت کی دنیا میں بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کرلی۔ اس کےلئے ہوئے سیاسی انٹرویوز اور اہم بین الاقوامی واقعات کی کوریج کے لئے اس سے دلچسپی کے ساتھ پڑھا جانے لگا۔ تحاریر میں ہر جگہ اوریانہ کا عکس جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ذاتی تحقیق، چہروں، شخصیت کو پرکھنے کا منفرد انداز پڑھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔

اس کی مشہور کتابیں : ” The Force of reason Letter to a child never born”, ” A “اور “InshaAllah” ادب میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ صحافت کی دنیا میں، ایک ناول نگار ہونے کی گہرائی، کردار نگاری اور نثرنویسی کی خوبیوں نے اسے زیادہ قوت و خوبصورتی عطا کی۔

سیاسی شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل اس کی ایک مشہور کتاب An Interview with History نے اسے ایک صحافی کے طور پر بہت طاقت بخشی۔ سیاست کے افق پر چمکتی اہم شخصیات کے انٹرویوز کرکے ، ان کی شخصیتوں اور زندگی کے چھپے ہوئے پہلوؤں کو اوریانہ عوام کے سامنے لے آئی۔ اس کے ذہانت کے ساتھ کئے گئے سوالات الجھانے والے ضرور ہوتے تھے، لیکن وہ مطلوبہ سچائی معلوم کرنے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔ اس نے ہنری کسنجر، آیت اللہ خمینی، ذوالفقار علی بھٹو اور دوسرے کتنے ہی سیاسی سربراہوں کے انٹرویوز کئے۔ اس نے انٹرویو دینے والی شخصیت کے بارے میں دلچسپی سے معلومات فراہم کرتے ہوئے کبھی بھی مصلحت سے کام نہیں لیا۔ دنیا کی اہم شخصیتوں کے بارے میں اس کی بے باکانہ رائے ،کبھی کبھی پڑھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے۔

برصغیر کے سیاسی منظرنامے میں، اس کے کئے ہوئے مسز اندرا گاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے انٹرویوز دونوں ملکوں کے روابط پر اثرانداز ہوئے۔ 1972ء میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب سے لئے گئے انٹرویو میں، بھٹو صاحب کی اندرا گاندھی کی پالیسیوں پر کی گئی تنقیدنے دونوں ممالک کے بیچ میں متوقع امن معاہدے کو یقینی طور پر ناکام بنا دیا۔ اور امن معاہدے والا معاملہ حل ہوتے ہوتے رہ گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لئے گئے اس انٹرویو میں اوریانہ بھٹو صاحب کی شخصیت کے متعلق لکھتی ہے کہ:

“The man is unpredictable, bizarre, carried away by whims, by strong decisions… And, let’s face it, highly intelligent. Intelligence of an astute, foxy kind, born to charm, to confuse, while at the same time nourished by culture, memory, flair. Under his thick eyebrows, his face looked heavy; heavy cheeks, heavy lips, heavy eyelids. A mysterious sadness was locked in his eyes.”

اسی انٹرویو کے دوران اس نے بھٹو صاحب سے سوال کیا کہ:

Finally you have the reputation of lady-killer, a Don Juan. Is it true, Mr. President?

اور ذوالفقار علی بھٹو نے کسی حد تک اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہوئے کہا تھا کہ: “اس بات میں کسی حد تک مبالغہ شامل ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ آپ ایک سیاستدان ہو سکتے ہیں اگر آپ کی طبیعت رومانوی نہیں ہے تو۔ ایک رومانوی انسان ہونے کے ناتے میں سمجھتا ہوں کہ لو افیئر سے زیادہ پرجوش کرنے والی کوئی اور چیز ہے ہی نہیں۔ پیار کرنا اور کسی اور کا دل فتح کرنا کوغلط بات تو نہیں ہے۔ افسوس ہے ان مردوں پر جنہوں نے پیار نہیں کیا۔ آپ سو بار بھی محبت کر سکتے ہیں۔ اور میں نے محبت کی ہے۔ “

یہ سہرا بھی اوریانہ کے سر جاتا ہے کہ وہ دنیا کے ،عظیم سیاسی رہنماؤں کی زندگیوں پر سے پردے ہٹانے میں کامیاب رہی۔ وہ اپنے تجربوں اور مشاہدوں کے سفر میں، وہ موسموں اور منظروں بھی ساتھ لیکر چلتی ہے۔

انسان کی زندگی میں کوئی کمی یا محرومی اکثر اس کے وجود میں کوئی طاقت یا ایک نئی روخ پھونک دیتی ہے۔ سچ کی یہ طاقت اوریانہ کے ناولوں میں محسوس ہوتی ہے۔ اس کا ناول letter to a child never born ایک ماں کے جذبات کے بارے میں ایک انوکھا شاہکار ہے، جو اس بچے سے مخاطب ہوتی ہے جو دنیا میں آ نہیں سکتا۔ وہ اسے دنیا کی تلخ حقیقتوں، جنگ، جبر اور موت کے بارے میں بتاتی ہے۔ جہاں پر بارود سے پُر فضا میں پھولوں کے گرد خوبصورت تتلیاں بھی اڑتی ہیں۔ آنکھوں کو خواب دیکھنے سے کوئی بھی روک نہیں سکتا، وہ فیصلہ نہیں کرپاتی کہ ایک ایسی دنیا، جہاں پر انسانی حقوق کی پامالی اپنی انتہا پر ہے، کسی بچے کو آنا چاہئے یا نہیں؟__ وہ سچائی، انصاف اور انسانیت کے مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتی ہے۔ وہ ایک باغی ماں ہے، جو جھوٹ، ظلم اور جبر کے خلاف لڑتے ہوئے مرنے کو زندگی سمجھتی ہے۔

وہ اسے بتاتی ہے، “تم آزادی کے بارے میں بہت کچھ سنو گے۔ یہ وہ لفظ ہے جس کو لفظ محبت کی طرح پامال کیا گیا ہے۔ تم ایسے لوگوں سے ملو گے، جنہوں نے آزادی کے لئے لڑتے ہوئے خود کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کٹوالیا۔ جنہوں نے تشدد اور موت کو قبول کیا۔ اور میں امید کرتی ہوں کہ تم بھی ان ہی میں سے ایک ہوگے۔ بلکل اسی طرح جب آزادی کے لئے تم پر تشدد کیا جا رہا ہوگا، تو تمہیں معلوم ہوگا کہ آزادی وجود نہیں رکھتی۔ آزادی اس خواب میں وجود رکھتی ہے جسے تم ڈھونڈو گے یا اس خیال میں جو پیدائش سے پہلے والی زندگی میں ہے۔”

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں